29 اپریل 2026ء کو لندن میں یوکے اسلام ( UK Islam) ٹیم اور قادیانی ٹرو اسلام ( Qadiyani True Islam)ٹیم کے درمیان چار طے شدہ علمی مناظروں میں سے دوسرا مناظرہ منعقد ہوا۔ اس مناظرے کا بنیادی سوال تھا:
کیا نبوت ہر اعتبار سے ختم ہو چکی ہے؟
قادیانی فریق کی نمائندگی کرتے ہوئے راحیل نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ مستقل (تشریعی) نبوت تو ختم ہو چکی ہے، البتہ تابع، ظلی یا بروزی نبوت کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے، جو ان کے بقول رسول اللہ
کی کامل پیروی اور فنا فی الرسول
کے نتیجے میں حاصل ہوتی ہے۔
اس کے مقابلے میں امتیاز اور عدنان رشید نے یہ مؤقف پیش کیا کہ نبوت ہر اعتبار سے قطعی طور پر ختم ہو چکی ہے۔ انہوں نے بار بار قادیانی فریق سے مطالبہ کیا کہ وہ قرآنِ کریم اور صحیح احادیث سے یہ ثابت کریں کہ رسول اللہ
کے بعد کسی بھی قسم کی نبوت کا کوئی استثناء یا گنجائش موجود ہے۔
اس مضمون میں اسی مناظرے کا تجزیہ پیش کیا جاتا ہے جو یہ واضح کرتا ہے کہ یوکے اسلام ( UK Islam) ٹیم دلائل اور شواہد کی بنیاد پر نمایاں طور پر کامیاب رہی۔ اس کی وجوہات یہ ہیں کہ قادیانی مناظر:
- رسول اللہ
کے بعد نبوت کی کسی نئی یا ذیلی قسم کے وجود پر کوئی شرعی دلیل پیش نہ کر سکا۔ - اپنے مؤقف کے اندرونی تضادات کے بارے میں اٹھائے گئے بنیادی اعتراضات کا تسلی بخش جواب نہ دے سکا۔
- اور بارہا اصل موضوع سے ہٹ کر حضرت عیسیٰ
کے نزول کی بحث کی طرف گفتگو کا رخ موڑتا رہا، حالانکہ وہ یہ تک ثابت نہ کر سکا کہ حضرت عیسیٰ
کے نزول کا عقیدہ کس طرح مرزا غلام احمد کے دعوی نبوت کے حق میں دلیل بن سکتا ہے۔
شرکائے مناظرہ
راحیل اور رضی: قادیانی ٹرو اسلام ( Qadiyani True Islam)پلیٹ فارم کی نمائندگی کر رہے تھے۔ ان کا مؤقف یہ تھا کہ رسول اللہ
نے نبوت کو کمال تک پہنچا دیا، اس لیے آپ
کے بعد کوئی مستقل یا نئی شریعت لانے والا نبی نہیں آسکتا۔ تاہم ان کے بقول تابع، ظلی یا بروزی نبوت کا ایک ایسا درجہ ممکن ہے جو رسول اللہ
میں کامل فنا ہونےاور آپ
کی مکمل اتباع کے نتیجے میں حاصل ہو سکتا ہے۔
امتیاز: یوکے اسلام ( UK Islam) ٹیم کی نمائندگی کر رہے تھے۔ انہوں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ رسول اللہ
کے بعد ہر قسم کی نئی نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا ہے۔ انہوں نے بار بار قادیانی فریق سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے عقیدے کی واضح اور غیر مبہم تعریف پیش کرے، نیز یہ بھی واضح کیا کہ مرزا غلام احمد نے ایک طرف رسول اللہ
کے بعد ہر قسم کی نبوت کی نفی کی، لیکن بعد میں خود نبوت کا دعویٰ کر کے اپنے ہی سابقہ مؤقف سے انحراف کیا۔
عدنان رشید : یوکے اسلام(UK Islam) ٹیم کی جانب سے شریک تھے۔ ان کی گفتگو کا مرکز قادیانی عقیدے کے اندرونی تضادات تھے۔ انہوں نے خصوصاً اس بات کو نمایاں کیا کہ مرزا غلام احمد ابتدا میں حضرت عیسیٰ
کے زندہ ہونے اور ان کے دوبارہ نزول کے قائل تھا اور بعد میں اس نے اپنا مؤقف تبدیل کیا۔ اسی طرح انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قرآن و سنت میں ایسے کسی منفرد "روحانی فرزند" کا کوئی ثبوت موجود نہیں جو بعد میں نبی بن جائے۔ مزید برآں، انہوں نے قادیانی فریق کی اس روش کو بھی نمایاں کیا کہ وہ ایسے براہِ راست سوالات کے جواب دینے سے گریز کرتا رہا جن کے لازمی نتائج(جو کہ ان مؤقف کے خلاف تھے) سے بچنا اس کے لیے ممکن نہ تھا۔
پس منظر اور مناظرے کا طریقۂ کار
یہ مناظرہ 29 اپریل 2026ء کو لندن میں یوکے اسلام( UK Islam) ٹیم اور قادیانی ٹرو اسلام(Qadiani True Islam) پلیٹ فارم کے درمیان منعقد ہونے والی چار علمی نشستوں میں سے دوسرا مناظرہ تھا۔ اس سے قبل ہونے والا پہلا مناظرہ اس موضوع پر تھا کہ آیا قادیانی لٹریچر میں مرزا غلام احمد کو "محمدِ ثانی کا مظہر" قرار دیا جا سکتا ہے یا نہیں؟
مناظرے کا طریقۂ کار یہ تھا کہ ابتدا میں ہر فریق کو اپنا بنیادی مؤقف پیش کرنے کے لیے 12 منٹ دیے گئے، اس کے بعد تقریباً پانچ پانچ منٹ پر مشتمل چار جوابی ادوار ہوئے، اور آخر میں اختتامی گفتگو کی گئی۔
اس مناظرے کا اصل موضوع یہ نہیں تھا کہ رسول اللہ
کی برکات، ہدایت، علمی فیض یا روحانی اثرات آپ
کے وصال کے بعد بھی جاری ہیں یا نہیں؟ کیونکہ اس حقیقت پر تمام مسلمان متفق ہیں۔ اصل نزاع یہ تھا کہ کیا رسول اللہ
کے بعد کسی شخص کو "نبی" کے منصب اور لقب کا مستحق قرار دیا جا سکتا ہے، اگرچہ وہ نبوت تابع، انعکاسی، غیر تشریعی، ظلی یا بروزی نبوت ہی کیوں نہ ہو؟
جمہور امتِ مسلمہ کا مؤقف: خلاصہ
جمہور اہلِ اسلام کا مؤقف درج ذیل نکات پر مشتمل ہے:
- رسول اللہ
اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور آخری رسول ہیں۔ - آپ
پر نبوت کا دروازہ اور سلسلہ ہر اعتبار اور ہر معنی میں مکمل اور بند کر دیا گیا ہے۔ - رسول اللہ
کے بعد پیدا ہونے والا کوئی شخص نبی یا رسول نہیں بن سکتا، خواہ اسے تشریعی یا غیر تشریعی، مستقل یا تابع کسی بھی قسم کی نبوت کا حامل قرار دیا جائے۔ - رسول اللہ
کی برکات، فیوض، ہدایت اور روحانی اثرات کا جاری رہنا، نبوت کے منصب کے جاری رہنے کو مستلزم نہیں ہے۔ - اولیائے کرام، علماء، مصلحین اور مجددین اللہ تعالیٰ کی خصوصی توفیق، روحانی فیوض اور الہام سے نوازے جا سکتے ہیں، لیکن وہ اس بنا پر نبی نہیں بنتے۔
- حضرت عیسیٰ
کا دوبارہ نزول کسی نئے نبی کی بعثت نہیں ہوگی کیونکہ ان کو نبوت رسول اللہ
کی بعثت سے پہلے عطا ہوچکی تھی، اور نزول کے بعد وہ رسول اللہ
ہی کی شریعت کے تحت عمل کریں گے۔ - ظلی، بروزی، تابع، انعکاسی یا غیر تشریعی جیسی کوئی بھی اصطلاح رسول اللہ
کے اس واضح اور قطعی فرمان کہ"میرے بعد کوئی نبی نہیں"میں کسی استثناء کی گنجائش پیدا نہیں کر سکتی۔ - کسی بھی مدعیِ نبوت کا فیصلہ قرآنِ کریم، سنتِ نبوی اور امتِ مسلمہ کے اجماعی عقیدے کی روشنی میں کیا جائے گا؛ نہ یہ کہ مدعی کے دعوے کو بنیاد بنا کر قرآن و سنت کے واضح نصوص کی نئی تشریح کی جائے۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ جمہورِ امت کا یہ مؤقف نبوت کی ہدایت اور اس کے منصب کے درمیان واضح فرق قائم رکھتا ہے۔ رسول اللہ
کی تعلیمات، آپ کی ہدایت، قرآنِ کریم، سنتِ نبوی اور ان کے وارث علماء کا فیض قیامت تک جاری رہے گا، اور امتِ مسلمہ بھی دینِ اسلام کا پیغام دنیا تک پہنچاتی رہے گی؛ لیکن ان میں سے کوئی بھی شخص کسی بھی معنی یا کسی بھی درجے میں منصبِ نبوت کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔
قادیانی فریق کا اعتراف اور انحراف
راحیل نے اپنی گفتگو کا آغاز اس قرآنی آیت سے کیا جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد
کو خاتم النبیین قرار دیا ہے۔ 1 اس نے یہ اعتراف کیا کہ رسول اللہ
کے بعد کوئی مستقل یا نئی شریعت لانے والا نبی نہیں آ سکتا۔ بظاہر یہ مؤقف مسلمانوں کے عقیدۂ ختمِ نبوت کے قریب معلوم ہوتا ہے، لیکن اصل اختلاف اس استثناء میں ہے جو اس نے بعد میں پیش کیا۔ چنانچہ اس نے کہا کہ رسول اللہ
کی نبوت کی برکات اور فیوضات بدستور جاری ہیں، اور انہی کے فیض سے امت کے اندر ایک تابع یا ظلی نبی پیدا ہو سکتا ہے۔
گویا قادیانی مؤقف کا حاصل یہ ہے کہ نبوت ہر صورت میں ختم ہو چکی ہے، سوائے اس صورت کے جس کا دعویٰ مرزا غلام احمد قادیانی نے کیا۔ درحقیقت یہی ایک استثناء ان کے پورے دعوے کی بنیاد اور اس کے ثبوت کا اصل محور ہے۔ لہٰذا اس مناظرے میں قادیانی فریق پر لازم تھا کہ وہ قرآنِ مجید کی کوئی صریح آیت یا رسول اللہ
کی کوئی صحیح اور معتبر حدیث پیش کرتا جس سے کم از کم تین باتیں ثابت ہوتیں:
- یہ کہ حضرت محمد
کے بعد بھی کسی شخص کو نبی کہا جا سکتا ہے۔ - یہ کہ ایسا بعد میں آنے والا نبی رسول اللہ
کے فرمان "لا نبي بعدي" (میرے بعد کوئی نبی نہیں) کے حکم میں داخل نہیں ہوگا۔ - اور یہ کہ اس استثناء کا مصداق مرزا غلام احمد ہیں۔
قادیانی فریق ان تینوں میں سے ایک بات بھی ثابت نہ کر سکا۔ ان کا پورا استدلال ان اصطلاحات اور تشریحات پر قائم رہا جو خود اس مدعی نے اپنی تصانیف میں پیش کیں، جبکہ اسی کی نبوت محلِ نزاع تھی۔ منطق کی اصطلاح میں اسے دورِ باطل (Circular Reasoning) کہا جاتا ہے؛ یعنی پہلے مدعی کے اپنے اقوال کی بنیاد پر نبوت کی ایک استثنائی قسم ایجاد کی گئی، پھر اسی خود ساختہ استثناء کو بنیاد بنا کر مدعی کی نبوت کو ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔
خاتم النبیین: محض فضیلت نہیں، بلکہ سلسلۂ نبوت کے اختتام کا اعلان
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا 40 2
محمد (ﷺ) تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور سب انبیاء کے آخر میں (سلسلۂ نبوت ختم کرنے والے) ہیں، اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے۔
قادیانی فریق نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ "خاتم" کا مفہوم زمانی اختتام نہیں، بلکہ صرف کمال، تصدیق اور فضیلت ہے، تاہم یہ تعبیر اہلِ اسلام کے مؤقف کو کمزور نہیں کرتی کیونکہ لغوی اعتبار سے یہ تمام معانی ایک دوسرے کی تائید کرتے ہیں۔ کسی چیز پر مہر لگانے کا مطلب اسے مکمل کرنا، محفوظ کرنا، بند کر دینا اور بعد میں کسی اضافے کی گنجائش ختم کر دینا ہے۔ عربی زبان میں"ختم" مہر ثبت کرنا، مضبوطی سے بند کر دینا، کسی چیز میں داخلے کو روک دینا اور اس کے آخری مرحلے تک پہنچ جانے کے معنوں میں مستعمل ہے۔ 3لہٰذا جب ختم کا تعلق نبوت سے ہو تو اس کا لازمی مفہوم یہی ہوگا کہ سلسلۂ نبوت اپنی تکمیل کو پہنچ گیا اور ہمیشہ کے لیے بند کر دیا گیا۔
قادیانی فریق کی بنیادی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے فضیلت اور اختتام کو ایک دوسرے کی ضد قرار دیا، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ رسول اللہ
بیک وقت دونوں عظمتوں کے حامل ہیں۔ آپ
تمام انبیاء
میں سب سے افضل بھی ہیں اور سب سے آخری نبی بھی۔ آپ
کی نبوت سابقہ انبیاء
کی نبوت کی تصدیق کرتی ہے، سلسلۂ نبوت کو اس کے کمال تک پہنچاتی ہے، اور پھر اس کا دروازہ بھی ہمیشہ کے لیے بند کر دیتی ہے تاکہ اس میں کسی نئے مدعی کے داخلے کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔ اس لیے عظمت، کمال اور فضیلت کے معانی، اختتام کے مفہوم کی نفی نہیں کرتے، بلکہ یہ واضح کرتے ہیں کہ نبوت کا اختتام کس شان کے ساتھ واقع ہوا ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ قرآنِ کریم میں مذکور "خاتم النبیین" کی تشریح خود رسول اللہ
نے فرما دی ہے۔ آپ
نے یہ نہیں فرمایا کہ میرے بعد صرف مستقل نبی نہیں آئے گا، یا صرف صاحبِ شریعت نبی نہیں آئے گا، یا صرف ایسا نبی نہیں آئے گا جو میری روحانیت میں فنا نہ ہو، بلکہ آپ
نے کسی قسم کی قید یا استثناء کے بغیر صاف اور دوٹوک الفاظ میں فرمایا:
لا نبي بعدي. 4
میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
لہٰذا رسول اللہ
کی یہ صریح تشریح بعد میں پیش کی جانے والی تمام قیاسی اور لغوی تاویلات کا قلع قمع کردیتی ہے۔ جب خود اللہ کے رسول
مہرِ نبوت کا لازمی نتیجہ واضح فرما چکے، تو پھر یہ نا ممکن ہے کہ انیسویں صدی میں وضع کی گئی کوئی نئی اصطلاح یا تعبیر اس کے مفہوم کو محدود کریں یا اس میں استثنا ءپیدا کرے۔
سلسلۂ نبوت اور رسالت کے انقطاع کی تاویلات کو ختم کرنا
مناظرے کے دوران بار بار یہ دعویٰ دہرایا گیا کہ مستقل نبوت اور ظلی یا بروزی نبوت میں فرق ہے۔ جبکہ رسول اللہ
کی ایک اور صریح حدیث اس دعویٰ کے بنیاد ہی کو ختم کر دیتی ہے جس پر یہ تفریق قائم کی جاتی ہے۔ آپ
نے فرمایا:
إن الرسالة والنبوة قد انقطعت، فلا رسول بعدي ولانبي. 5
بے شک رسالت اور نبوت کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے، پس اب میرے بعد نہ کوئی رسول مبعوث ہوگا اور نہ کوئی نبی۔
اس حدیث میں "انقطعت" کا لفظ آیا ہے، جس کے معنی ہیں منقطع ہو جانا، ختم ہو جانا اور سلسلہ ٹوٹ جانا۔ یہ لفظ کسی خاص قسم کی نبوت کے بارے میں نہیں، بلکہ مطلق نبوت کے خاتمے پر دلالت کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ
نے اس کے بعد مزید صراحت فرمائی کہ "میرے بعد نہ کوئی رسول مبعوث ہوگا اور نہ کوئی نبی"۔ لہذا آپ
کے بعد نہ منصبِ نبوت کسی کو دی جائے گی اور نہ ہی منصب رسالت۔
یہ حدیث قادیانی مؤقف کی بنیاد کو ہی منہدم کر دیتی ہے۔ علی سبیل الفرض والتقدیر اگر کوئی ظلی نبی ہوگا تو بہرحال وہ نبی ہی کہلائے گا، اور اگرکوئی بروزی رسول ہوگا تو وہ رسول ہی شمار ہوگا۔ اب اگر یہ دونوں اصطلاحات حقیقت میں موجودہوں تو رسول اللہ
کے اس واضح فرمان کہ "میرے بعد نہ کوئی رسول ہے اور نہ کوئی نبی" کے تحت ان کی نفی ہوجائے گی، اور اگر یہ اصطلاحات حقیقی نہیں، بلکہ فرضی ہیں تو پھر مرزا غلام احمد بھی حقیقی نبی نہیں تھے بلکہ فرضی تھے۔ لہذا ہر اعتبار سےقادیانی دعویٰ باطل ہو جاتا ہے۔
راحیل نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ رسول اللہ
کے فیض و برکت سے پرورش پانے والے ایک خاص شخص کے لیے اس حکم میں استثناء موجود ہے۔ مگر پورے مناظرے میں وہ رسول اللہ
کی کوئی صحیح اور معتبر حدیث پیش نہ کر سکا جس میں اس قسم کی کسی استثناء کا ذکر ہو، جبکہ رسول اللہ
کی یہ واضح حدیث مطلق ہے اس میں کسی قسم کی قید یا استثناء کا ذکر نہیں ہے۔ لہٰذا بعد کے کسی مدعی کی اپنی تشریح یا اصطلاح کو رسول اللہ
کے الفاظ میں داخل کر کے یہ کہنا کہ "حدیث سے یہی اس سے مراد ہے " سراسر بے بنیاد اور باطل دعویٰ ہے۔
قدیم علمائے اسلام بھی اس نظریہ کے قائل تھے کہ حدیث کا حکم مطلق ہے۔ علامہ سفارینی لکھتے ہیں کہ رسول اللہ
کی نبوت اور شریعت کے بعد نہ کوئی نئی نبوت آسکتی ہے اور نہ کوئی نئی شریعت نازل کی جا سکتی ہے۔ 6 اسی طرح امام طحاوی امت کے متفقہ عقیدے کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ حضرت محمد
خاتم النبیین ہیں، اور آپ
کے بعد نبوت کا ہر دعویٰ محض باطل اور خواہشِ نفس کا نتیجہ ہے۔ 7 ان ائمہ کی تصریحات اس امر کو بخوبی واضح کرتی ہیں کہ ایک نئی نبوت کا آغاز اور پہلے سے مبعوث نبی کا دوبارہ نزول دو الگ حقیقتیں ہیں۔ تاہم ان میں کہیں بھی اس بات کی گنجائش نہیں کہ صدیوں بعد پیدا ہونے والا کوئی شخص محض ظلی یا بروزی نسبت کی بنا پر منصبِ نبوت حاصل کر سکےگا۔
ظلی اور بروزی نبوت شریعت میں کوئی تیسری قسم نہیں
راحیل نے یو کے اسلام (UK Islam) کی ٹیم کو یہ چیلنج دیا کہ وہ اس کے بقول "نبوت کی تیسری قسم(ظلی و بروزی نبوت)" کی وضاحت کریں۔ اس چیلنج کا مقصد دلیلِ ثبوت کو اصل مدعی سے ہٹا کر مخالف فریق کے کندھوں پر ڈال دینا تھا۔ حالانکہ رسول اللہ
کے بعد نبوت کی کسی تیسری قسم کا تصور مسلمانوں نے پیش نہیں کیا، بلکہ یہ نظریہ خود قادیانی حضرات کی ایجاد ہے۔ اس لیے جس فریق نے ظلی یا بروزی نبی جیسی ایک استثنائی قسم کا دعویٰ کیا، اسی پر لازم تھا کہ وہ قرآن و سنت کی نصوص سے اس کا ثبوت پیش کرتا۔ جبکہ تاریخی اعتبار سے انبیائے کرام
کو دو حیثیتوں سے بیان کیا جاتا ہے: ایک وہ جو نئی شریعت لے کر آئے، اور دوسرے وہ جو سابقہ شریعت کی پیروی کرتے ہوئے مبعوث ہوئے۔ یہ دونوں حقیقی نبی ہوتے، اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے مقرر کیے جاتے تھے، اور سب کے سب اسی سلسلۂ نبوت کا حصہ تھے جس پر حضرت محمد
کی ذاتِ اقدس کے ساتھ مہر لگا دی گئی۔ لہذا بعد کے ادوار میں کسی شخص کا رسول اللہ
پر انحصار اور فیض سے کوئی ایسی نبوت وجود میں نہیں آتی جو "لا نبي بعدي" کے حکم سےمستثنیٰ ہو۔
راحیل نے کہا کہ نبی وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ منصبِ نبوت پر فائز کرے اور غیب کا علم عطا فرمائے۔ یہ محض ولایت یا روحانی قربت کے لیے استعمال ہونے والا استعارہ نہیں، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تقرر، وحیِ نبوت اور منصبِ نبوت کا واضح دعویٰ تھا۔ لہٰذا جب رسول اللہ
کے بعد پیدا ہونے والے کسی شخص کے لیے یہ منصب تسلیم کر لیا جائے، تو اسے ظلی یا بروزی کہہ دینے سے وہ رسول اللہ
کے فرمان "لا نبي بعدي" کے دائرۂ نفی سے باہر نہیں ہو جاتا۔ مرزا غلام احمد نے اپنی کتاب "ایک غلطی کا ازالہ" میں بھی یہی بات بیان کی ہے:
"لیکن اگر کوئی شخص اس خاتم النبیین میں ایسا گم ہوا کہ بباعث نہایت اتحاد اور نفی غیریت کے اسی کا نام پالیا ہو اور صاف آئینہ کی طرح محمدی چہرہ کا انعکاس ہوگیا ہو تو وہ بغیر مہر توڑنے کے نبی کہلائے گا"۔ 8
آگے جا کر مرزا نے انہی ظلی اور بروزی اصطلاحات کو بنیاد بنا کر "نبی" اور "رسول" کے القابات کو اپنے لیے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ کمالاتِ محمدیہ، جن میں نبوت بھی شامل ہے، اس میں منعکس ہوئے تھے۔ 9
لہٰذا ظلی جیسی صفت اس دعوے کو محض روحانی مشابہت تک محدود نہیں کرتی، بلکہ یہی وہ نظریاتی بنیاد ہے جس کے ذریعے بعد میں آنے والے شخص کے لیے منصبِ نبوت کا دعویٰ قائم کیا جاتا ہے۔ اسی لیے امتیاز کا اس خود ساختہ نبوت کی تیسری قسم کو مسترد کرنا درست تھا۔ اصل سوال یہ نہیں کہ کوئی امتی رسول اللہ
کی پیروی کے نتیجے میں روحانی فیوض و برکات حاصل کر سکتا ہے یا نہیں؟ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہی روحانی فیض و برکت کسی امتی کو نبی بنا سکتی ہے؟ قرآنِ کریم اور صحیح سنت اس دعوے کو نہایت واضح، قطعی اور دوٹوک انداز میں رد کرتے ہیں۔
حضرت عیسیٰ
کا نزول عقیدۂ ختمِ نبوت کے منافی نہیں
قادیانی فریق نے اپنے مؤقف کی بنیاد حضرت عیسیٰ
کے نزول پر رکھی۔ راحیل کا استدلال یہ تھا کہ اگر پہلے سے موجود کوئی نبی، رسول اللہ
کے بعد دوبارہ دنیا میں تشریف لاتے ہیں، تو پھر مسلمانوں کے لیے یہ دعویٰ کرنا درست نہیں رہتا کہ نبوت ہر اعتبار سے ختم ہو چکی ہے۔ مزید یہ بھی کہا کہ اگر حضرت عیسیٰ
کے بارے میں یہ کہا جائے کہ وہ نہ مستقل حیثیت سے آئیں گے اور نہ نئی شریعت کے ساتھ، تو یہ دراصل نبوت کی یہی "تیسری قسم" ہے جسے مرزا غلام احمد کے بارے میں ماننے سے مسلمان انکار کرتے ہیں۔
یہ استدلال ایک واضح خلطِ مبحث پر مبنی ہے، کیونکہ اس میں ایک نبی کی بعثت کے وقت اور اس کے دنیا میں موجود ہونے کے وقت کو ایک ہی چیز سمجھ لیا گیا ہے۔ چونکہ حضرت عیسیٰ
کو نبوت، رسول اللہ
کی بعثت سے بہت پہلے عطا ہو چکی تھی، اس لیے وہ پہلے سے مکمل ہو جانے والے سلسلۂ نبوت ہی کا حصہ ہیں۔ عقیدۂ ختمِ نبوت کا تقاضا یہ ہے کہ سلسلۂ نبوت میں کسی نئے فرد کا داخلہ ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا ہے؛ البتہ اس سے انبیائے سابقین کی وہ نبوت منسوخ نہیں ہو جاتی جو انہیں پہلے ہی عطا کی جا چکی ہیں۔ جس طرح مہر لگ جانے کے بعد کسی رجسٹر میں نئے نام کا اندراج ممکن نہیں، لیکن اس میں پہلے سے درج نام اپنی جگہ برقرار رہتے ہیں، اسی طرح حضرت عیسیٰ
کا دوبارہ آنا کسی نئے نبی کا اضافہ نہیں بلکہ پہلے سے موجود ایک نبی کی واپسی ہے۔ اس اعتبار سے "خاتم" کے لغوی معنی بھی مسلمانوں کے اسی مؤقف کی تائید کرتے ہیں، نہ کہ اس کی تردید۔
مزید برآں، حضرت عیسیٰ
کسی نئی کتاب، نئی شریعت، نئی امت یا مستقل دعوتی مشن کے ساتھ واپس نہیں آئیں گے۔ وہ رسول اللہ
کی شریعت ہی کی پیروی کریں گے اور امتِ محمدیہ
میں ایک عادل حکمران کی حیثیت سے فرائض انجام دیں گے۔ ان کی نبوت وہی ہوگی جو انہیں پہلے ہی عطا کی جا چکی تھی، جبکہ آخری زمانے میں ان کی عملی ذمہ داری رسول اللہ
کی شریعت کے تابع ہوگی۔ اس لیے یہ نبوت کی کوئی نئی یا "تیسری قسم" نہیں، بلکہ ایک ایسے نبی کی واپسی ہے جسے پہلے ہی نبوت عطا ہو چکی تھی اور جو آخری شریعت کے ماتحت اپنی ذمہ داری انجام دے گا۔
اسی بنا پر راحیل کا یہ سوال کہ "حضرت عیسیٰ
نبوت کے لقب کے ساتھ کیسے واپس آئیں گے؟" دراصل ایسے مؤقف پر اعتراض تھا جس کے مسلمان سرے سے قائل ہی نہیں۔ مسلمان ہرگزیہ نہیں کہتے کہ حضرت عیسیٰ
کی نبوت غیر حقیقی یا محض ایک لقب رہ جائے گی؛ بلکہ وہ یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ
کے بعد انہیں کوئی نئی نبوت عطا نہیں ہوگی اور نہ ہی وہ کسی مستقل تشریعی اختیار کے ساتھ مبعوث ہوں گے۔ نبوت کا اصل مقام، نئی بعثت اور مستقل تشریعی مشن، یہ تین الگ الگ امور ہیں، مگر قادیانی فریق نے ان سب کو خلط ملط کر کے ایک مصنوعی تضاد پیدا کرنے کی کوشش کی۔
چنانچہ مسلمانوں کا جواب قادیانیوں کے پیش کردہ "حضرت عیسیٰ
کے نزول" کے اعتراض کو مکمل طور پر ختم کر دیتا ہے کہ جو نبی حضرت محمد
سے پہلے منصبِ نبوت پر فائز کیا جا چکا ہو، وہ آپ
کی شریعت کا پیرو کاربن کر دوبارہ آ سکتا ہے؛ لیکن حضرت محمد
کے بعد کسی شخص کو منصبِ نبوت عطا نہیں کیا جا سکتا۔ پہلی بات سے دوسری بات ہرگز لازم نہیں آتی، اور نہ ہی حضرت عیسیٰ
کا نزول عقیدۂ ختمِ نبوت کے خلاف کوئی دلیل بنتا ہے۔
حضرت عیسیٰ
کی وفات کا دعویٰ: ایک مصنوعی مخمصہ کی بنیاد
راحیل نے بار بار یہ مؤقف اختیار کیا کہ اگر حضرت عیسیٰ
کا انتقال ہو چکا ہے تو پھر صرف دو ہی امکانات باقی رہ جاتے ہیں: یا تو ان کے نزول سے متعلق احادیث کو رد کر دیا جائے، یا ان کی ایسی تاویل کی جائے کہ وہ امتِ محمدیہ
کے کسی فرد، یعنی مرزا غلام احمد، کے ذریعے پوری ہو چکی ہیں۔ اس نے اس دعوے کو اس پوری بحث کا بنیادقرار دیا، گویا عقیدۂ ختمِ نبوت پر گفتگو اس سے گزرے بغیر آگے بڑھ ہی نہیں سکتی۔ لیکن منطقی اعتبار سے یہ ایک مصنوعی مخمصہ تھا۔
علی سبیل الفرض والتقدیر اگر قادیانی فریق کا یہ مقدمہ بھی مان لیا جائے کہ حضرت عیسیٰ
کا انتقال ہو چکا ہے، تب بھی اس سے یہ ہرگز لازم نہیں آتا کہ مرزا غلام احمد ہی مسیح موعود ہیں، چہ جائیکہ وہ نبی قرار پائیں۔ قادیانی مؤقف کو اس کے بعد بھی الگ اور مستقل دلائل سے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ احادیث میں مذکور عیسیٰ بن مریم
سے مراد قادیان میں پیدا ہونے والا کوئی دوسرا شخص ہے، جسمانی نزول سے مراد محض مجازی ظہور ہے، اس متبادل شخصیت کا نبی ہونا ضروری ہے، اور یہ کہ ان تمام اوصاف کا مصداق مرزا غلام احمد ہی ہے۔ ان میں سے کوئی ایک موقف بھی صرف حضرت عیسیٰ
کی وفات کا دعویٰ کر دینے سے خود بخود ثابت نہیں ہوتا۔
مزید یہ کہ عقیدۂ ختمِ نبوت کا انحصار اس بات پر نہیں کہ پہلے آخرت سے متعلق ہر اختلافی مسئلہ حل کیا جائے۔ قرآنِ کریم میں خاتم النبیین اور رسول اللہ
کا ارشاد"لا نبي بعدي" دونوں مستقل اور واضح نصوص ہیں، جو آپ
کے بعد کسی نئے شخص کو منصبِ نبوت عطا کیے جانے کی قطعی نفی کرتے ہیں۔ لہٰذا اگر قادیانی تفسیر، مسیح موعود کے بارے میں اپنے نظریے کو ان صریح نصوص کے ساتھ ہم آہنگ نہیں کر سکتی، تو رد کیے جانے کی مستحق وہ خود ساختہ تفسیر ہے، نہ کہ ختمِ نبوت کی یہ قطعی نصوص۔
لہٰذا حضرت عیسیٰ
کی حیات یا وفات کے مسئلے کو بار بار اصل بحث کا محور بنانا درحقیقت اس سوال اور دلیل سے توجہ ہٹانے کی کوشش تھی جو مرزا غلام احمد کے دعوے پر عائد ہوتی ہے۔ اصل سوال بدستور اپنی جگہ قائم تھا، اور اس کا کوئی جواب پیش نہیں کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ یا اس کے رسول
نے کہاں یہ فرمایا ہے کہ امتِ محمدیہ
میں سے کوئی شخص تابع کی حثیثت سے نبی بن کر حضرت عیسیٰ بن مریم
کی جگہ لے گا؟
قرآنی احکام کی نسخ کا الزام بے بنیاد
قادیانی فریق نے اپنے ابتدائی بیان میں یہ الزام عائد کیا کہ مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ
دوبارہ تشریف لا کر قرآنِ کریم کے بعض احکام کو منسوخ کریں گے۔ اگر یہ دعویٰ درست ہوتا تو یقیناً یہ نہایت سنگین الزام تھا۔ لیکن پوری بحث کے دوران نہ قرآنِ کریم کی کوئی آیت پیش کی گئی، نہ سنتِ نبوی
سے کوئی مستند دلیل، اور نہ ہی ایسی کوئی معقول مثال دی جا سکی جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ حضرت عیسیٰ
نزول کے بعد کوئی نئی شریعت یا ایسا نیا حکم لے کر آئیں گے جو شریعتِ محمدی
کو منسوخ کر دے۔
اس کے برعکس، اہلِ اسلام کا متفقہ عقیدہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ
نزول کے بعد رسول اللہ
کی شریعت کے مطابق ہی حکومت اور فیصلہ کریں گے۔ آخری زمانے سے متعلق جو احکام اور واقعات رسول اللہ
نے صحیح احادیث میں پہلے ہی بیان فرما دیے ہیں، وہ خود وحیِ محمدی
کا حصہ ہیں، نہ کہ کسی بعد میں آنے والے نبی پر نازل ہونے والی نئی شریعت۔ لہٰذا رسول اللہ
کی پہلے سے بیان کردہ ہدایات کا اپنے مقررہ وقت پر ظہور اور ان کا عملی نفاذ، آپ
کے بعد کسی نئی تشریع یا نسخ کا نام نہیں۔
اس لیے یہ الزام نہ صرف دلیل کے اعتبار سے بلکہ اصولی و منطقی اعتبار سے بھی بے بنیاد ہے۔ اس میں مسلمانوں کے اس عقیدے کو، کہ آخری زمانے میں رسول اللہ
کی پیش گوئیوں اور ہدایات کا ظہور ہوگا، اس غلط تصور میں بدلنے کی کوشش کی گئی کہ گویا ہدایت کا کوئی نیا سرچشمہ وجود میں آ جائے گا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ شریعتِ محمدیہ
ہمیشہ کی طرح آخری اور کامل شریعت ہی رہے گی، اور حضرت عیسیٰ
اسی کے تابع ہو کر نزول فرمائیں گے۔
لفظِ "بعدی" کی نئی تفسیر کی کوشش
راحیل نے یہ استدلال پیش کیا کہ حدیث میں وارد لفظ "بعدی" (میرے بعد) ہمیشہ نبی کریم
کی وفات کے بعد کے زمانے پر دلالت نہیں کرتا۔ اس نے اس کی تائید میں ان جھوٹے مدعیانِ نبوت کا حوالہ دیا جو رسول اللہ
کی حیاتِ مبارکہ ہی میں ظاہر ہوئے، حالانکہ بعض روایات میں انہیں آپ
کے بعد ظاہر ہونے والا بھی کہا گیا ہے۔ لیکن اس سے حدیث "لا نبي بعدي"، یعنی "میرے بعد کوئی نبی نہیں" کے واضح مفہوم میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔
کسی لفظ کا صحیح مفہوم ہمیشہ اس کے سیاق و سباق سے متعین ہوتا ہے۔ حضرت علی
سے متعلق حدیث میں رسول اللہ
نے ان کے اپنے ساتھ تعلق کو حضرت ہارون
کے حضرت موسیٰ
کے ساتھ تعلق سے تشبیہ دی، لیکن ساتھ ہی صاف الفاظ میں اپنے بعد نبوت کی نفی فرما دی۔ یہاں گفتگو عارضی غیر موجودگی کے دوران کسی شخص کے ظاہر ہونے کی نہیں، بلکہ سلسلۂ نبوت میں جانشینی کی ہے۔ مزید برآں، رسول اللہ
کا یہ مستقل ارشاد کہ "نبوت اور رسالت ختم ہو چکی ہیں" اس حقیقت کو مزید واضح کر دیتا ہے کہ آپ
کے بعد نہ کوئی نبی مبعوث ہو سکتا ہے اور نہ کوئی رسول۔
مزید یہ کہ اگر کوئی جھوٹا مدعیِ نبوت رسول اللہ
کی حیاتِ طیبہ ہی میں ظاہر ہوا، تب بھی اس نے نبوت کا دعویٰ بعثتِ محمدی
کے آغاز کے بعد اور خاتم النبیین
کی مخالفت میں کیا تھا۔ اس قسم کی مثالوں سے ہرگز یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپ
کے بعد کسی نئے نبی کی بعثت ممکن ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ بعض مواقع پر "بعد" کا اطلاق آپ
کی بعثت کے آغاز کے اعتبار سے بھی ہو سکتا ہے، نہ کہ صرف ظاہری وفات کے بعد۔ لیکن ان دونوں احتمالات میں سے کسی کو بھی اختیار کر لیا جائے، مرزا غلام احمد، جو بعثتِ محمدی
اور وفاتِ نبوی
دونوں سے کئی صدیاں بعد پیدا ہوئے، اس ممانعت سے کسی صورت مستثنیٰ نہیں۔
لہٰذا لفظِ "بعدی" کے بارے میں قادیانی فریق کا لغوی اعتراض کسی بھی قسم کا استثناء ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ اس استدلال میں ایک لفظ کو ان تمام نصوص سے الگ کر کے پیش کیا گیا جو باہم ایک دوسرے کی تشریح و توضیح کرتی ہیں، اور ان صریح ارشادات کو نظر انداز کر دیا گیا جن میں واضح طور پر اعلان کیا گیا ہے کہ نبوت اور رسالت کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہے۔
مرزا غلام احمد کی خود اپنے دعوے کی تردید
یو کے اسلام (UK Islam) کی جانب سے پیش کیے گئے مضبوط ترین دلائل میں سے ایک وہ عبارت تھی جو مناظرے کے دوران مرزا غلام احمد کی 1901ء کی تحریرات میں سے تھی۔ امتیاز نے اس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مرزا غلام احمد نے اس عقیدے کی مذمت کی ہے کہ حضرت محمد
کے بعد کوئی دوسرا نبی یا رسول ظاہر ہو سکتا ہے اور ختمِ نبوت کی مہر کو توڑ سکتا ہے۔ اس کے بعد یو کے اسلام نے قادیانی نمائندوں کے سامنے ایک واضح تضاد پیش کیا کہ ان کے اپنے بانی نے، خاتم النبیین حضرت محمد
کے بعد، خود اپنے لیے "نبی" اور "رسول" کے القابات اختیار کیے۔
راحیل نے اس کے جواب میں کہا کہ مرزا غلام احمد نے صرف مستقل یا صاحبِ شریعت نبی کی نفی کی تھی، اور 1901ء میں انہوں نے یہ وضاحت کر دی تھی کہ اس کی اپنی نبوت تابع، ظلی اوربروزی نوعیت کی ہے۔ لیکن یہ جواب اسی بات کو پہلے سے درست مان لینے پر مبنی تھا جسے ثابت کرنا مقصود تھا۔ قرآنِ کریم یا سنتِ نبوی
سے کوئی ایسی مستقل دلیل پیش نہیں کی گئی جو یہ ثابت کرتی کہ مرزا غلام احمد کی دعویٰ نبوت اس عمومی ممانعت سے مستثنیٰ ہے۔
مزید یہ کہ ان کا یہ استدلال بھی دوری (Circular) ہے، اس لیے اس سے کچھ بھی ثابت نہیں ہوتا۔ مرزا غلام احمد کا دعویٰ محض اس بنا پر عقیدۂ ختمِ نبوت کے موافق قرار نہیں دیا جا سکتا کہ انہوں نے اپنی نبوت کو ظلی یا بروزی قرار دیا ہے۔ سب سے پہلے قرآنِ کریم اور صحیح احادیث سے مستقل طور پر یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ ظلی نبوت یا بروزی نبوت ممکن ہے یا نہیں۔ چونکہ ایسی کوئی دلیل نہ پیش کی گئی اور نہ پیش کی جا سکتی ہے، اس لیے مرزا غلام احمد کی اپنی وضاحت نہ تو اس کے دعوےکو درست ثابت کر سکتی ہے اور نہ ہی انہیں رسول اللہ
کے اس واضح فرمان "لا نبي بعدي" کی ممانعت سے مستثنیٰ قرار دے سکتی ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اس کا دعوی نبوت جھوٹااور کذب پر مبنی ہے۔
قادیانی جماعت کی سرکاری کتب اس مسئلے کو حل کرنے کے بجائے اسے مزید سنگین بنا دیتی ہیں۔ مرزا غلام احمد نے محض تقویٰ، الہام یا اصلاح و تجدید کا دعویٰ نہیں کیا، بلکہ بروز کے نظریے کی بنیاد پر اپنے لیے "نبی" اور "رسول" کے القابات اختیارکیے، اور نبوت کو ان کمالاتِ محمدیہ میں شمار کیا جو ان کے بقول ان میں منعکس ہوئے تھے۔ اس لیے 1901ء کی وضاحت نے دعوائے نبوت سے رجوع نہیں کیا، بلکہ اس کے تحفظ کے لیے نبوت کی ایک خصوصی تعریف پیش کی، تاکہ اسے ختمِ نبوت کی قطعی نصوص سے محفوظ قرار دیا جا سکے۔
یو کے اسلام نے بجا طور پر اس طرزِ استدلال کی کمزوری کو آشکار کیا۔ کسی ممنوع منصب کے ساتھ محض ایک صفت لگا دینے سے اس پر عائد ممانعت ختم نہیں ہو جاتی۔ جس طرح رسول اللہ
کا فرمان "میرے بعد کوئی نبی نہیں" بغیر کسی دلیل کے "میرے بعد کوئی مستقل نبی نہیں" میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا، اسی طرح محض ظلی یا بروزی کی قید لگا دینے سے نبوت کا دعویٰ جائز نہیں ہو جاتا۔
بارہ سالہ تضاد کا کوئی جواب پیش نہیں کیا جا سکا
عدنان نے مناظرے کے دوران ایک نہایت مضبوط اور قادیانی مؤقف کے اندرونی تضاد کو نمایاں کرنے والا استدلال پیش کیا۔ ان کے فراہم کردہ شواہد کے مطابق، مرزا غلام احمد ابتدا میں اہلِ سنت کے اس متفقہ عقیدے کے قائل تھے کہ حضرت عیسیٰ
زندہ ہیں اور آخری زمانے میں نزول فرمائیں گے، لیکن بعد میں اس نے حضرت عیسیٰ
کی وفات کا نظریہ اختیار کر لیا۔ دوسری طرف، قادیانی فریق خود حضرت
کی حیات اور نزول پر ایمان کو عقیدۂ ختمِ نبوت کی مطلق قطعیت کے منافی قرار دیتا رہا۔ اس سے ایک ایسا منطقی مخمصہ پیدا ہوتا ہے جس سے فرار ممکن نہیں۔ اگر حضرت عیسیٰ
کی حیات اور نزول پر ایمان رکھنے والا شخص ختمِ نبوت کا مخالف یا منکر قرار پاتا ہے، تو یہی حکم مرزا غلام احمد پر بھی لاگو ہونا چاہیے، کیونکہ وہ بھی کئی برس تک اسی عقیدے کے قائل رہا۔ اور اگر یہ عقیدہ کسی شخص کو ختمِ نبوت کا منکر نہیں بناتا، تو پھر اہلِ سنت کے خلاف اسی بنیاد پر قادیانی اعتراض خود بخود بے بنیاد ہو جاتا ہے۔ بعد میں رائے بدل لینے سے بھی یہ اندرونی تضاد ختم نہیں ہوتا۔
قادیانی مؤقف یہ نہیں کہ مرزا غلام قادیانی سے محض ایک اجتہادی یا تفسیری خطا سرزد ہوئی تھی، بلکہ اسے آخری زمانے کے منفرد، اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ مسیح موعود اور نبی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جس نے امت کے ایک بنیادی اعتقادی اشکال کو حل کیا۔ ایسی صورت میں یہ کہنا کہ وہ خود کئی برس تک اسی عقیدے کا حامل رہا جسے اس کے پیروکار بعد میں ختمِ نبوت کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہیں، ان کے اس دعوائے منصب کو شدید طور پر کمزور کر دیتا ہے۔ مناظرے کی ریکارڈ شدہ گفتگو میں راحیل اس منطقی مخمصے کا کوئی براہِ راست جواب پیش نہ کر سکا۔ یہ خاموشی اس لیے اہم تھی کہ یہ استدلال قادیانی مؤقف کو انہی کے اپنے معیار پر پرکھ رہا تھا۔ یو کے اسلام کو یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں تھی کہ قادیانی معیار درست ہے؛ انہوں نے صرف یہ دکھایا کہ اگر اسی معیار کو یکساں طور پر نافذ کیا جائے تو وہ اسی بانی کے خلاف جا کھڑا ہوتا ہے جس کے دفاع کے لیے اسے وضع کیا گیا تھا۔
"روحانی فرزند" کے دعوے کے حق میں کوئی مستقل دلیل پیش نہ کی جا سکی
راحیل نے مرزا غلام احمد کو نبوی فیض و برکات کا ایک منفرد وارث قرار دیتے ہوئے اسے ان متعدد اولیاء، مجددین اور صالحین سے ممتاز قرار دیا جنہیں اس کے بقول الہام یا روحانی فیض کی کم تر صورتیں حاصل ہوتی رہی ہیں۔ اس پر امتیاز نے چند بنیادی اور ناگزیر سوالات اٹھائے: یہ درجہ یا یہ قسم اللہ تعالیٰ نے کہاں بیان فرمائی ہے؟ ایسے نبوی "روحانی فرزند" تاریخ میں کتنے گزرے ہیں؟ اور یہ خصوصیت مرزا غلام احمد قادیانی ہی کو کیوں حاصل ہوئی، جبکہ امت کے اکابر صحابہ کرام
، ائمہ، علماء اور اولیاء اس سے محروم رہے؟
یہاں بھی قادیانی فریق کا جواب ایک دوری (Circular) استدلال پر مبنی تھا۔ ان کے مطابق مرزا غلام احمد ہی اس مرتبے کے مستحق تھے، کیونکہ وہی مسیحِ موعود تھے؛ جبکہ ان کا مسیحِ موعود ہوناخود اس بات پر موقوف ہے کہ وہ اس مرتبے کے مستحق تھے۔ یعنی دعویٰ اور دلیل ایک دوسرے پر موقوف ہو گئے۔ مزید برآں، قرآن و سنت کی کوئی ایسی صریح وحی یا نص پیش نہیں کی گئی جس میں برصغیر کے کسی آئندہ مدعی کو ایک ماتحت نبی کی حیثیت سے نامزد کیا گیا ہو۔
جھوٹے مدعیانِ نبوت سے متعلق حدیث کسی سچے مدعی کے لیے کوئی استثناء باقی نہیں چھوڑتی
قادیانی فریق نے یہ استدلال پیش کیا کہ رسول اللہ
کی یہ پیش گوئی کہ آپ
کے بعد بہت سے جھوٹے مدعیانِ نبوت ظاہر ہوں گے، منطقی طور پر اس بات کی نفی نہیں کرتی کہ ان میں کوئی ایک سچا مدعی بھی ہو سکتا ہے۔
بلاشبہ اگر اس ارشاد کو اس کے سیاق و سباق سے الگ کر کے دیکھا جائے تو "بہت سے جھوٹے مدعیانِ نبوت آئیں گے" کے الفاظ، اپنے آپ میں کسی سچے مدعی کے امکان کی صریح نفی نہیں کرتے۔ لیکن احادیثِ نبویہ کا مجموعہ اس پیش گوئی کو اس کے سیاق سے جدا نہیں چھوڑتا۔ رسول اللہ
نے جھوٹے مدعیانِ نبوت کے ظہور کو اپنے خاتم النبیین ہونے کے ساتھ مربوط فرمایا اور متعدد مواقع پر واضح اعلان کیا کہ میرے کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔
اس لیے قادیانی استدلال میں اصل مغالطہ یہ تھا کہ اس نے حدیث کے فیصلہ کن حصے کو نظر انداز کر کے صرف باقی ماندہ الفاظ سے استدلال کرنے کی کوشش کی۔ ان مدعیانِ نبوت کو محض اس لیے جھوٹا نہیں کہا گیا کہ بعد میں ان میں کوئی الگ خرابی ثابت ہو گئی، بلکہ اس لیے کہ انہوں نے ایسے منصب کا دعویٰ کیا جسے اللہ تعالیٰ ہمیشہ کے لیے بند کر چکا ہے۔ جب "لا نبي بعدي" اور نبوت کے اختتام کی قطعی نصوص کو تسلیم کر لیا جائے، تو پھر حضرت محمد
کے بعد کسی سچے نبی کا تصور ہی ایک داخلی تضاد بن جاتا ہے۔ یہی نکتہ یو کے اسلام کے استدلال کو مزید مضبوط بناتا ہے۔ مرزا غلام احمد اپنی نبوت کو ظلی یا بروزی قرار دے کر رسول اللہ
کی اس تنبیہ سے نہیں بچ سکتا۔ اگر محض نئی اصطلاح وضع کر دینے سے استثناء پیدا ہو سکتا ہو، تو ہر جھوٹا مدعی یہی طریقہ اختیار کر سکتا اور اپنے دعوے کو ختمِ نبوت سے ہم آہنگ کوئی "خصوصی صورت" قرار دے سکتا ہے۔
اہلِ سنت کے باہمی اختلافات قادیانی دعوائے نبوت کی دلیل نہیں بن سکتے
راحیل نے یہ اعتراض بھی اٹھایا کہ مختلف مسلم مکاتبِ فکر کے درمیان بعض عقائد اور تکفیری احکام کے بارے میں اختلافات پائے جاتے ہیں، لہٰذا یہ واضح کیا جائے کہ آخر قادیانیوں کو عقیدۂ ختمِ نبوت کی کون سی تعبیر قبول کرنے کی دعوت دی جا رہی ہے۔ لیکن یہ دراصل "تم بھی تو" (Tu quoque) نوعیت کا ایک مغالطہ تھا، جو اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں تھا۔ مسلمانوں کے باہمی اختلافات یا بعض اعتقادی مسائل میں ان کے مختلف مؤقف اس بات کا ثبوت نہیں بن سکتے کہ مرزا غلام احمد نبی تھے۔
حقیقت یہ ہے کہ تمام بڑے مسلم مکاتبِ فکر اس بنیادی عقیدے پر متفق ہیں کہ حضرت محمد
اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں، اور آپ
کے بعد کوئی نیا مدعیِ نبوت برحق نہیں ہو سکتا۔ مزید برآں، اگر راحیل کے بیان کردہ تمام الزامات کو، بحث کی خاطر، درست بھی مان لیا جائے تو زیادہ سے زیادہ یہ نتیجہ نکلے گا کہ مسلمانوں کے درمیان بعض سنجیدہ اختلافات موجود ہیں، جن کا الگ سے علمی جائزہ لیا جانا چاہیے۔ لیکن اس سے نہ قرآنِ کریم کی کوئی آیت، نہ رسول اللہ
کی کوئی حدیث، اور نہ امت کا کوئی اجماع ایسا ثابت ہوتا ہے جو بروزی نبی کے تصور کو جائز قرار دیتا ہو۔ اس طرح قادیانی فریق نے اپنے مؤقف کے حق میں مثبت دلیل پیش کرنے کے بجائے اپنے مخالفین پر تنقید کو ہی اپنے دعوے کا متبادل بنانے کی کوشش کی۔
وہ سوالات جن کا قادیانی فریق کوئی جواب نہ دے سکا
امتیاز اور عدنان نے مناظرے کے دوران بار بار ایسے واضح اور دوٹوک سوالات اٹھائے جن کے ذریعے قادیانی مؤقف کی داخلی مطابقت اور منطقی استحکام کو جانچا جا سکتا تھا۔ ان میں اہم سوالات یہ تھے:
- کیا حضرت عیسیٰ
کی حیات، رفع اور نزول پر ایمان رکھنا بذاتِ خود کسی شخص کو عقیدۂ ختمِ نبوت کا منکر بنا دیتا ہے؟ - جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ رسول اللہ
کے بعد قرآنِ کریم کا کوئی حکم منسوخ ہوا ہے، اس کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟ - مرزا غلام احمد نے حضرت محمد
کے بعد کسی نبی یا رسول کے آنے کی جو مذمت کی ہے، کیا وہ اپنے ظاہری مفہوم کے مطابق خود ان پر بھی لاگو ہوتی ہے، یا ان کے اپنے دعوے کے لیے اس میں کوئی استثنا ءپیدا کیا جا رہا ہے؟ - اگر مرزا غلام احمد اور رسول اللہ
کے درمیان کسی روحانی اتحاد کا دعویٰ کیا جاتا ہے، تو پھر منصبِ نبوت کے اعتبار سے ان دونوں کے درمیان حقیقی فرق کیا ہے؟ - قرآن و سنت کی وہ صریح دلیل کہاں ہے جس سے ثابت ہو کہ امتِ محمدیہ
میں سے کسی شخص کو ماتحت نبی بنایا جا سکتا ہے؟
قادیانی فریق نے ان سوالات کے براہِ راست جواب دینے کے بجائے گفتگو کا رخ دوسری طرف موڑنے کی کوشش کی، لیکن ان میں سے کسی سوال کا واضح جواب پیش نہ کر سکا۔ درحقیقت یہ تردد ان کے نظریے کی کمزور ساخت ہی کا تقاضا تھا۔ اگر وہ صاف الفاظ میں یہ کہتے کہ حضرت عیسیٰ
کے نزول پر ایمان رکھنا ختمِ نبوت کے منافی ہے، تو یہی حکم مرزا غلام احمد کے ابتدائی عقیدے اور پوری امتِ مسلمہ پر بھی لاگو ہو جاتا۔ اور اگر وہ اس کی نفی کرتے، تو انہیں یہ تسلیم کرنا پڑتا کہ پہلے سے نبی مقرر کیے گئے کسی نبی کا دوبارہ نزول عقیدۂ ختمِ نبوت کے خلاف نہیں۔
اسی طرح اگر مرزا غلام احمد کی اس عبارت کو، جس میں انہوں نے حضرت محمد
کے بعد کسی نبی یا رسول کے آنے کی مذمت کی ہے، اس کے ظاہر اور عام مفہوم پر برقرار رکھا جائے، تو وہ خود ان کے دعوائے نبوت کے خلاف دلیل بن جاتی ہے۔ اور اگر ان کے اپنے دعوے کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے، تو اس کے لیے ظلی اور بروزی نبوت کی وہ تقسیم ثابت کرنا لازم آتا ہے جس کے حق میں کوئی شرعی دلیل پیش نہیں کی جا سکی۔
اس لیے یہ سوالات محض مناظرانہ دباؤ ڈالنے یا ایک لفظ میں جواب لینے کے لیے نہیں تھے، بلکہ ان کا مقصد قادیانی مؤقف کے اندر موجود بنیادی تضادات کو نمایاں کرنا تھا۔ یو کے اسلام نے پوری بحث کو انہی فیصلہ کن نکات پر مرکوز رکھا، جبکہ قادیانی فریق بار بار گفتگو کا رخ مسلمانوں کے باہمی اختلافات، اصطلاحی مباحث اور حضرت عیسیٰ
کی وفات کے الگ مسئلے کی طرف موڑنے کی کوشش کرتا رہا۔
مباہلہ کا چیلنج
مناظرے کے اختتام کے قریب یو کے اسلام (UK Islam) کی جانب سے قادیانی خلیفہ کو اس مسئلے پر مباہلے کا چیلنج دیا گیا کہ آیا مرزا غلام احمد واقعی اللہ تعالیٰ کے سچے نبی تھے یا نہیں؟ تاہم قادیانی نمائندوں نے اپنے خلیفہ کی طرف سے اس چیلنج کو قبول نہیں کیا۔
یو کے اسلام کی مناظرہ میں کامیابی کے وجوہات
یو کے اسلام (UK Islam) درج ذیل وجوہات کی بنا پر اس مناظرے میں کامیاب رہا:
1۔ نصوص کے غیر مشروط مفہوم کا دفاع
مسلمانوں کے مؤقف کو ثابت کرنے کے لیے کسی نئی یا خود ساختہ قسم ایجاد کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ خاتم النبیین کے مفہوم کو خود رسول اللہ
کی تشریح، یعنی "لا نبي بعدي" (میرے بعد کوئی نبی نہیں) کی روشنی میں سمجھا گیا۔ اس کے برعکس قادیانی مؤقف کو آیت اور حدیث، دونوں میں ایسی قیود شامل کرنا پڑیں جن کا ان نصوص میں کوئی وجود نہیں۔
2۔ دلیلِ ثبوت کو مدعی پر برقرار رکھنا
مرزا غلام احمد کا دعوائے نبوت ایک غیر معمولی اور استثنائی دعویٰ تھا، اس لیے یو کے اسلام نے بجا طور پر مطالبہ کیا کہ اس کے حق میں قرآن و سنت سے واضح دلیل پیش کی جائے۔ لیکن قادیانی فریق نے وحیِ الٰہی سے دلیل لانے کے بجائے خود مرزا غلام احمد کی وضع کردہ اصطلاحات اور ان کی اپنی تشریحات ہی کو ان کے دعوے کی دلیل بنانے کی کوشش کی۔
3۔ سابقہ نبی کی واپسی اور نئے نبی کی تقرری میں واضح فرق
حضرت عیسیٰ
کا نزول کسی صورت مرزا غلام احمد کے دعویٰ نبوت کے امکان کو ثابت نہیں کرتا۔ یو کے اسلام نے یہ بنیادی فرق نمایاں کیا کہ ایک طرف وہ نبی ہے جسے ختمِ نبوت سے پہلے منصبِ نبوت عطا کیا جا چکا تھا اور جو آخری شریعت کے تابع ہو کر دوبارہ آئے گا، جبکہ دوسری طرف وہ شخص ہے جو ختمِ نبوت کے بعد پیدا ہوا اور اپنے لیے نبوت کا دعویٰ کرتا ہے۔ یہ دونوں صورتیں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔
4۔ "نبوت کی تیسری قسم" کے دعوے کی بے بنیاد حیثیت کی وضاحت
نام نہاد "تیسری قسم کی نبوت" قادیانی فکر کی ایجاد ہے، جس کی اسلام کی بنیادی نصوص میں کوئی اصل موجود نہیں۔ کسی شخص کو ظلی یا بروزی نبی قرار دینے سے یہ حقیقت تبدیل نہیں ہو جاتی کہ وہ نبوت ہی کا دعویٰ کر رہا ہے، جبکہ قرآن و سنت واضح طور پر اعلان کرتے ہیں کہ نبوت کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے۔
5۔ قادیانی مؤقف کے اندرونی تضادات کو نمایاں کرنا
1901ء کی مرزا غلام احمد کی وہ عبارت، جس میں اس نے حضرت محمد
کے بعد کسی نبی یا رسول کے آنے کی مذمت کی، ایک طرف موجود ہے، جبکہ دوسری طرف خود اپنے لیے نبی اور رسول کے القابات اختیار کرنا بھی موجود ہے۔ ان دونوں باتوں میں تطبیق صرف دوری استدلال کے ذریعے ہی ممکن تھی، جس کی وضاحت یو کے اسلام نےکی۔ مزید برآں، "بارہ سالہ تضاد" نے یہ بھی واضح کر دیا کہ حضرت عیسیٰ
کے نزول پر ایمان رکھنے کے خلاف قادیانی اعتراض، آخرکار خود ان کے بانی کے خلاف جا کھڑا ہوتا ہے۔
6۔ قادیانی فریق کی مسلسل گریزسے اصل مسئلہ کو نمایاں کرنا
قادیانی نمائندے ان بنیادی سوالات کا براہِ راست جواب نہ دے سکے جن سے ان کے اصولوں کو یکساں طور پر نافذ کرنا لازم آتا تھا۔ اس کے بجائے وہ بار بار مسلمانوں کے باہمی اختلافات، نسخِ قرآن کے الزامات اور حضرت عیسیٰ
کی وفات کے مسئلے کی طرف گفتگو کا رخ موڑتے رہے۔ لیکن ان موضوعات سے اصل دعوے پر عائد دلیلِ ثبوت ختم نہیں ہوتا۔
7۔ روحانی فیض اور منصبِ نبوت کے درمیان بنیادی فرق کی وضاحت
رسول اللہ
کا فیض، برکت اور روحانی اثر ات پوری امت کے لیے ہمیشہ جاری اور عالمگیر ہیں۔ یو کے اسلام نے واضح کیا کہ اس دائمی فیض کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اس کے نتیجے میں نئے انبیاء پیدا ہوتے رہیں گے۔ قادیانی استدلال بار بار روحانی فیض سے بلا دلیل اللہ تعالیٰ کی طرف سے منصبِ نبوت عطا کیے جانے کا نتیجہ اخذ کرتا رہا، حالانکہ یہ دونوں بالکل الگ الگ حقیقتیں ہیں۔
قادیانی مؤقف کی بنیادی کمزوریاں
1۔ ختمِ نبوت کا اعتراف اور مرزا غلام احمد کےلیے انحراف
قادیانی مؤقف بظاہر نبوت کی ہر قسم کے اختتام کو تسلیم کرتا ہے، لیکن اپنے بانی کے لیے ایک مخصوص قسم کی نبوت کو مستثنیٰ قرار دیتا ہے۔ یہ استثناء قرآن و سنت کی کسی صریح نص سے ثابت نہیں، بلکہ مرزا غلام احمد کے دعوے کو برقرار رکھنے کے لیے وضع کیا گیا ایک اعتقادی جواز ہے۔
2۔ وحی کے بجائے مدعی کی وضع کردہ اصطلاحات کو بنیاد بنانا
ظلی اور بروزی جیسے تصورات کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا گیا کہ نبوت کی ایک ایسی نئی قسم قائم کی جا سکے جسے قرآنِ کریم یا صحیح احادیث نے ختمِ نبوت سے کوئی استثناء قرار نہیں دیا۔
3۔ "خاتم" اور "آخری" کو ایک دوسرے کی ضد قرار دینا
لفظ "خاتم" میں تصدیق، تکمیل، اختتام اور آخریت کے مفاہیم ایک دوسرے کے معاون اور تکمیل کرنے والے ہیں، نہ کہ باہم متضاد۔ پھر خود رسول اللہ
کی تشریح ہر ممکن ابہام کو ختم کر دیتی ہے۔
4۔ واپسی اور نئی تقرری کو ایک ہی چیز سمجھ لینا
حضرت عیسیٰ
کا نزول، حضرت محمد
کے بعد کسی نئے نبی کی تقرری نہیں ہے۔ مگر قادیانی استدلال نے صرف اس بنا پر کہ دونوں صورتوں میں ایک نبی بعد کے زمانے میں موجود ہوگا، ان دو بالکل مختلف حقیقتوں کو ایک قرار دے دیا۔
5۔ حضرت عیسیٰ
کی وفات سے ایک مصنوعی مخمصہ پیدا کرنا
علی سبیل الفرض والتقدیر اگر قادیانی مقدمہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ حضرت عیسیٰ
وفات پا چکے ہیں، تب بھی اس سے نہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ مرزا غلام احمد ہی مسیحِ موعود ہیں، اور نہ یہ کہ وہ نبی بن گئے۔
6۔ نسخِ قرآن کا بے بنیاد الزام
قادیانی فریق یہ ثابت نہ کر سکا کہ حضرت عیسیٰ
نزول کے بعد کوئی ایسی نئی شریعت لائیں گے جو شریعتِ محمدیہ
کو منسوخ کر دے۔ اس کے برعکس، ان کا شریعتِ محمدیہ کے تابع ہو کر عمل کرنا اسی شریعت کی قطعیت اور دائمی حیثیت کی تائید کرتا ہے۔
7۔ لفظ "بعدی" کو اس کے نبوی سیاق سے الگ کر دینا
لفظ "بعدی" کی نئی تعبیر پیش کرتے وقت نہ صرف حدیث کے اس سیاق کو نظر انداز کیا گیا جس میں نبوت کی جانشینی زیرِ بحث ہے، بلکہ رسول اللہ
کے اس مستقل اعلان کو بھی نظر انداز کر دیا گیا کہ نبوت اور رسالت کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے۔
8۔ مرزا غلام احمد کو ان کی اپنی مذمت سے دوری استدلال کے ذریعے مستثنیٰ قرار دینا
مرزا غلام احمد نے اپنی نبوت کو ظلی یا بروزی قرار دیا، پھر اسی دعوے کو بنیاد بنا کر انہیں اپنے ہی عمومی حکم سے مستثنیٰ قرار دیا گیا۔ حالانکہ اس استثناء کے حق میں قرآن و سنت سے کوئی مستقل معیار اور دلیل پیش نہیں کیا گیا۔
9۔ حضرت عیسیٰ
کے بارے میں اپنے ہی معیار پر پورا نہ اترنا
اگر حضرت عیسیٰ
کی حیات اور نزول پر ایمان رکھنا ختمِ نبوت کے منافی ہے، تو مرزا غلام احمد کا ابتدائی عقیدہ خود قادیانی بیانیے کے خلاف دلیل بن جاتا ہے۔ اور اگر ایسا عقیدہ ختمِ نبوت کے منافی نہیں، تو اہلِ سنت کے خلاف قادیانیوں کا ایک بنیادی اعتراض خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔
10۔ روحانی وراثت اور منصبِ نبوت کو خلط ملط کرنا
الہام، ولایت، تجدید یا دین کی خدمت جیسے روحانی مراتب، نبوت کو ثابت نہیں کرتے۔ قادیانی استدلال نے ان مسلمہ روحانی مناصب سے آگے بڑھ کر ایسے منصب کا دعویٰ کر دیا جس کے ختم ہو جانے کا اعلان خود وحیِ الٰہی نے کر دیا ہے۔
11۔ اصل دلیل کے بجائے مسلمانوں کے باہمی اختلافات کا بار بار ذکر کرنا
مسلمانوں کے مختلف مکاتب پر تنقید یا ان کے باہمی اختلافات، مرزا غلام احمد کی نبوت کے حق میں کوئی دلیل فراہم نہیں کرتے۔ اس طرح اصل سوال کا جواب دینے کے بجائے بحث کا رخ دوسری طرف موڑ دیا گیا۔
12۔ فیصلہ کن سوالات کو مسلسل بے جواب چھوڑ دینا
قادیانی فریق کی جانب سے بار بار براہِ راست سوالات سے گریز محض اتفاقی نہیں تھا، بلکہ ان کے مؤقف کی کمزوری کا نتیجہ تھا۔ اگر ان سوالات کے واضح جواب دیے جاتے تو یا تو اہلِ سنت پر کیے گئے ان کے اعتراضات کا عدمِ استحکام نمایاں ہو جاتا، یا پھر یہ حقیقت کھل کر سامنے آ جاتی کہ مرزا غلام احمد کا دعویٰ، ختمِ نبوت سے متعلق قرآن و سنت کی قطعی نصوص سے مطابقت نہیں رکھتا۔
نتیجہ
"کیا نبوت ہر اعتبار سے ختم ہو چکی ہے؟" اس سوال کا جواب قرآنِ کریم، سنتِ نبوی
اور مناظرے میں پیش کیے گئے دلائل سے واضح طور پر یوں ثابت ہوا کہ:
- حضرت محمد
خاتم النبیین ہیں؛ یعنی آپ
آخری نبی ہیں اور سلسلۂ نبوت آپ
ہی پر ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہے۔ - رسول اللہ
نے صریح الفاظ میں فرمایا: "لا نبي بعدي"، یعنی "میرے بعد کوئی نبی نہیں۔" - آپ
نے یہ بھی واضح فرمایا کہ نبوت اور رسالت کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے۔ - قرآنِ کریم یا کسی صحیح حدیث میں ایسی کوئی دلیل موجود نہیں جو آپ
کے بعد ظلی، بروزی، تابع یا انعکاسی نبی کے ظہور کو جائز قرار دیتی ہو۔ - نبوتِ محمدیہ
کے فیوض و برکات کا ہمیشہ جاری رہنا ہرگز اس بات کو مستلزم نہیں کہ آپ
کے بعد نئے انبیاء مقرر ہوتے رہیں گے۔ - حضرت عیسیٰ
کا نزول کسی نئے نبی کی بعثت نہیں، بلکہ ایسے نبی کی واپسی ہے جسے حضرت محمد
سے پہلے ہی منصبِ نبوت عطا کیا جا چکا تھا۔ - حضرت عیسیٰ
شریعتِ محمدیہ
ہی کی پیروی کریں گے اور کوئی نئی شریعت یا نیا حکم لے کر نہیں آئیں گے۔ - مرزا غلام احمد کے دعویٰ کردہ استثناء کی پوری بنیاد انہی کی اپنی وضع کردہ اصطلاحات پر قائم ہے، اس لیے اس کا استدلال دوری (Circular) ہے۔
- قادیانی مؤقف نہ مرزا غلام احمد کی اپنی عبارت سے پیدا ہونے والے تضاد کا جواب دے سکا، نہ "بارہ سالہ تضاد" کی وضاحت کر سکا، اور نہ ہی اپنی اس غیر معمولی قسمِ نبوت کے حق میں قرآن و سنت سے کوئی صریح اور مستقل دلیل پیش کر سکا۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد
کے ذریعے دین کو کامل کر دیا، اپنی نعمت کو امت پر مکمل فرما دیا، اور اسلام کو ہمیشہ کے لیے دینِ حق قرار دیا۔ دین کی یہ تکمیل کسی بعد میں آنے والے نبی کی محتاج نہیں، اور اسلام کی دائمی وجود بھی اس منصبِ نبوت کو دوبارہ کھولنے کی اجازت نہیں دیتا جسے اللہ تعالیٰ ہمیشہ کے لیے بند کر چکا ہے۔ قادیانی مؤقف نے ختمِ نبوت کے الفاظ تو برقرار رکھے، لیکن ان کے حقیقی مفہوم کو بدل دیا؛ بظاہر ہر نئے نبی کی نفی کی گئی، مگر اپنے بانی کے لیے ایک استثناء گھڑ لیا گیا، حالانکہ اسی استثناء کے حق میں وحیِ الٰہی سے کوئی دلیل موجود نہیں۔ اسی بنا پر یہ مناظرہ واضح طور پر یو کے اسلام (UK Islam) یعنی حقیقی مسلمانوں کے حق میں رہا۔ انہوں نے قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی
کی واضح، صریح اور باہم مؤید نصوص کا دفاع کیا، دلیلِ ثبوت کو درست طور پر مدعی پر برقرار رکھا، حضرت عیسیٰ
کے نزول کے بارے میں قادیانی استدلال کے بنیادی مغالطے کو بے نقاب کیا، اور یہ ثابت کر دیا کہ ظلی اور بروزی نبوت اسلام کی کوئی مسلمہ یا مستثنیٰ قسم نہیں، بلکہ مرزا غلام احمد کے دعوی نبوت کو تحفظ دینے کے لیے بعد میں وضع کیا گیا ایک نظریاتی تصور ہے۔ قادیانی فریق اصل سوال کا جواب دینے میں کامیاب نہ ہو سکا؛ اس نے جواب دینے کے بجائے سوال ہی کی نئی تعبیر پیش کرنے کی کوشش کی تاکہ اسے اپنے مؤقف کے مطابق ڈھالا جا سکے۔ جبکہ قرآن و سنت کا فیصلہ بالکل واضح ہے کہ نبوت ہر اعتبار سے ختم ہو چکی ہے۔ خلاصہ یہ کہ حضرت محمد
کے بعد کوئی شخص نہ نبی بن سکتا ہے اور نہ رسول، جبکہ ظلی، بروزی، تابع یا انعکاسی جیسی اصطلاحات بھی اس دروازے کو دوبارہ نہیں کھول سکتیں جسے اللہ تعالیٰ ہمیشہ کے لیے بند کر چکا ہے۔
- 1 القرآن، سورة الأحزاب 33: 40
- 2 القرآن، سورة الأحزاب 33: 40
- 3 أبو القاسم الحسين بن محمد الراغب الأصفهاني، المفردات في غريب القرآن، مطبوعة: دار القلم، دمشق، سوريا، 1412هـ، ص: 274- 275
- 4 أبو عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، صحيح البخاري، حديث: 4416، مطبوعة: دار السلام، الرياض، السعودية، 1999م، ص: 749
- 5 أبو عيسى محمد بن عيسى الترمذي، جامع الترمذي، حديث: 2272، مطبوعة: دار السلام، الرياض، السعودية، 2009م، ص: 687
- 6 أبو العون محمد بن أحمد السفاريني، لوامع الأنوار البهية وسواطع الأسرار الأثرية لشرح الدرة المضية في عقد الفرقة المرضية، ج-2، مطبوعة: مؤسسة الخافقين ومكتبتها، دمشق، سوريا، 1982م، ص: 277
- 7 أبو جعفر محمد بن أحمد الطحاوي، العقيدة الطحاوية، مطبوعة: المكتب الإسلامي، بيروت، لبنان، 1414هـ، ص: 36- 39
- 8 مرزا غلام احمد، ایک غلطی کا ازالہ، مطبوعہ: ضیاء الاسلام پریس، قادیان، انڈیا، تاریخ اشاعت ندارد، ص: 5
- 9 ایضاً، ص: 8
