عقیدۂ ختمِ نبوت اسلام کے بنیادی اور قطعی عقائد میں سے ہے، جس پر قرآن و سنت کی صریح نصوص کے ساتھ امتِ مسلمہ کا مسلسل اجماع بھی قائم ہے۔ عہدِ صحابہ سے لے کر بعد کے تمام ادوار تک علماء و مجتہدین نے رسول اللہ
کو آخری نبی تسلیم کیا اور آپ
کے بعد ہر دعوائے نبوت کو باطل قرار دیا۔ اس مقالہ میں اجماع کی تعریف، ختمِ نبوت پر اس کے تاریخی تسلسل اور ائمۂ امت کی تصریحات کی روشنی میں اس عقیدے کی شرعی حیثیت واضح کی گئی ہے۔
اجماع کی تعریف
اجماع لغت میں عزم، اور اتفاق کو کہا جاتا ہے۔1لہذا جس بات پر کسی جماعت کا اتفاق ہو جائے، اہلِ لغت کے نزدیک وہ اجماع کہلاتا ہے۔2اجماع کی اصطلاحی تعریف یہ ہے کہ امتِ محمدیہ
کے علماء کا کسی دور میں بھی دین کے کسی معاملے پر متفق ہو جانا۔ البتہ اس اتفاق میں یہ شرط ضروری ہے کہ یہ اتفاق رسول اللہ
کے وصال کے بعد ہو؛ کیونکہ آپ
کی حیاتِ مبارکہ میں کسی دوسرے کے قول کو شرعی حیثیت حاصل نہیں تھی۔3علامہ ابن السبکی اجماع کی تعریف ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
هو اتفاق مجتهدي الأمة بعد وفاة محمد صلى اللّٰه عليه وسلم في عصر على أي أمر كان. 4
ترجمہ: اجماع یہ ہے کہ حضرت محمدکے وصال کے بعد، کسی ایک دور میں امت کے مجتہدین کسی بھی معاملے پر اتفاق کر لیں۔
ختم نبوت پر اولین اجماع
اجماع کے تاریخی پس منظر پر نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت نمایاں ہوتی ہے کہ امتِ مسلمہ میں سب سے پہلا اجماع عقیدۂ ختمِ نبوت کے مسئلے پر منعقد ہوا ہے۔ مسیلمہ کذاب نے نبی کریم
ہی کے زمانہ میں نبوت کا دعویٰ کیا۔ صدیق اکبر
کے زمانہ خلافت میں تمام صحابہ
کے اتفاق سے قتل کیا گیا اور اسی طرح دیگر مدعیان نبوت کا قلع قمع کیا گیا۔5 ڈاکٹرا حمد بن سعدان الغامدی لکھتے ہیں:
أجمع الصحابةرضي الله عنهم على قتال المتنبئين بعد وفاة رسول الله صلى اللّٰه عليه وسلم وتسيير الجيوش إليهم التي كان معظمها منهم، مع أن بعض المتنبئين لم يكونوا يدعون النبوة استقلالا، وذلك كمسيلمة، وإنما كان يزعم الشركة في النبوة مع رسول الله صلى اللّٰه عليه وسلم معترفا برسالته، ولم ينجّه ذلك من سيوف الصحابة رضي الله عنهم . 6
ترجمہ: صحابۂ کرامنے رسول اللہ
کی وفات کے بعد جھوٹے مدعیانِ نبوت سے جنگ کرنے اور ان کے مقابلے کے لیے لشکر روانہ کرنے پر اجماع کیا، حالاں کہ ان میں سے بعض لوگ مستقل طور پر نبوت کے دعوے دار نہ تھے۔ مثلاً مسیلمہ کذاب رسول اللہ
کی رسالت کا اقرار کرتا تھا، مگر نبوت میں آپ
کے ساتھ شرکت کا دعویٰ کرتا تھا۔ اس کے باوجود یہ اقرار اسے صحابۂ کرام
کی تلواروں سے نہ بچا سکا۔
ختم نبوت پر اجماع متواتر
عقیدۂ ختمِ نبوت پر صرف عہدِ صحابہ کرام
ہی میں اجماع نہیں ہوا، بلکہ امتِ محمدیہ
کے ہر دور میں یہ اجماع تواتر کے ساتھ قائم اور مسلم چلا آ رہا ہے۔ علماء، فقہاء، مجتہدین، مفسرین اور تمام اہلِ اسلام کا اس بنیادی عقیدے پر اجماع ہے کہ رسول اللہ
کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوسکتا۔ امام غزالی(505 ھ) لکھتے ہیں:
إن الأمة فهمت بالإجماع من هذا اللفظ ومن قرائن أحواله أنه أفهم عدم نبي بعده أبدا وعدم رسول الله أبدا وأنه ليس فيه تأويل ولا تخصيص فمنكر هذا لا يكون إلا منكر الإجماع. 7
ترجمہ: امت نے بالاجماع لفظ"لا نبي بعدي" اور اس کے قرائنِ احوال سے یہی سمجھا ہے کہ آپکے بعد کبھی کوئی نبی اور کوئی رسول نہیں آئے گا۔ اس میں نہ کسی تاویل کی گنجائش ہے اور نہ تخصیص کی۔ لہٰذا جو شخص اس کا انکار کرے، وہ درحقیقت اجماع کا منکر ہے۔
مفسر ابن عطیہ (542ھ) لکھتے ہیں :
هذه الألفاظ عند جماعة علماء الأمة خلفا وسلفا متلقاة على العموم التام مقتضية نصا أنه لا نبي بعده صلى اللّٰه عليه وسلم. 8
ترجمہ: امت کے متقدمین و متاخرین علماء کی کثیر تعداد کے نزدیک یہ الفاظ عام اور تام ہیں، اور صراحت کے ساتھ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ رسول اللہکے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔
قاضی عیاض (544ھ) بیان کرتے ہیں:
ونزول عيسى المسيح وقتله الدجال حق صحيح عند أهل السنة؛ لصحيح الآثار الواردة فى ذلك؛ ولأنه لم يرد ما يبطله ويضعفه، خلافا لبعض المعتزلة والجهمية، ومن رأى رأيهم من إنكار ذلك، وزعمهم أن قول الله تعالى عن محمد صلى اللّٰه عليه وسلم : "خاتم النبيين"، وقوله صلى اللّٰه عليه وسلم : " لا نبى بعدى "، وإجماع المسلمين على ذلك وعلى أن شريعة الإسلام باقية غير منسوخة إلى يوم القيامة- يرد هذه الأحاديث۔ وليس كما زعموه؛ فإنه لم يرد فى هذه الأحاديث أنه يأتى بنسخ شريعة ولا تجديد أمر نبوة ورسالة، بل جاءت بأنه حكم مقسط، يجىء بما يجدد ما تغير من الإسلام، وبصلاح الأمور والعدل، وكسر الصليب، وقتل الخنزير. 9
ترجمہ: حضرت عیسیٰ مسیحکا نزول اور دجال کا قتل کرنا اہلِ سنت کے نزدیک حق اور ثابت ہے، کیونکہ اس بارے میں صحیح احادیث وارد ہوئی ہیں اور ان کے رد یا تضعیف کی کوئی دلیل موجود نہیں۔اس کے برخلاف بعض معتزلہ، جہمیہ اور ان کے ہم خیال لوگوں نے اس کا انکار کیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:"خاتم النبیین"،اور رسول اللہ
کا فرمان: "لا نبي بعدي"، اور مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ، اوراس پر بات پر اجماع کہ شریعتِ اسلام قیامت تک باقی رہے گی اور منسوخ نہیں ہوگی، ان احادیث کے خلاف ہے۔لیکن ان کا یہ گمان درست نہیں؛ کیونکہ ان احادیث میں یہ نہیں کہا گیا کہ حضرت عیسیٰ
کوئی نئی شریعت لائیں گے یا نبوت و رسالت کا نیا دعویٰ کریں گے۔ بلکہ ان میں یہ بیان ہے کہ وہ ایک عادل حاکم کی حیثیت سے تشریف لائیں گے، اسلام میں پیدا ہو جانے والی تبدیلیوں کی اصلاح کریں گے، معاملات کو درست کریں گے، عدل قائم کریں گے، صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے۔
امام قرطبی (671ھ) لکھتے ہیں :
قد روي من طريق التواتر- من غير أن يحتمل تأويلا- بإجماع الأمة قوله صلى اللّٰه عليه وسلم : لا نبي بعدي. 10
ترجمہ: رسول اللہکا یہ فرمان: "میرے بعد کوئی نبی نہیں" کے متواتر ہونے پر امت کا اجماع ہے، اس میں کسی قسم کی تاویل کا احتمال نہیں۔
ابن تیمیہ(728ھ) فرماتے ہیں :
محمدصلى اللّٰه عليه وسلم خاتم الأنبياء لا نبي بعده فعصم الله أمته أن تجتمع على ضلالة. 11
ترجمہ: محمدخاتم الانبیا ہیں، آپ
کے بعد کوئی نبی نہیں، اللہ نے امت محمدیہ
کو اس بات سے محفوظ رکھا ہے کہ وہ گمراہی پر متفق ہو جائے۔
مزید لکھتے ہیں:
وقد جمع الله في شريعته ما فرقه شرائع من قبله من الكمال؛ إذ ليس بعده نبي فكمل به الأمر كما كمل به الدين۔ فكتابه أفضل الكتب وشرعه أفضل الشرائع ومنهاجه أفضل المناهج وأمته خير الأمم وقد عصمها الله على لسانه فلا تجتمع على ضلالة. 12
ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے آپکی شریعت میں وہ تمام کمالات جمع فرما دیے جو آپ
سے پہلے کی شریعتوں میں جدا جدا طور پر پائے جاتے تھے۔ چونکہ آپ
کے بعد کوئی نبی نہیں آنا تھا، اس لیے آپ
کے ذریعے دین اور نظامِ ہدایت کو کامل کر دیا گیا۔ چنانچہ آپ
کی کتاب تمام کتابوں سے افضل، آپ
کی شریعت تمام شریعتوں سے بہتر، آپ
کا طریقہ تمام طریقوں سے برتر، اور آپ
کی امت تمام امتوں سے بہترین ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول
کی زبانِ مبارک سے اس امت کو اس بات سے محفوظ فرمایا ہے کہ وہ گمراہی پر جمع ہو جائے۔
علامہ تفتازانی (793ھ) لکھتے ہیں:
ما اتفق عليه المجتهدون من أمة محمد صلى اللّٰه عليه وسلم في عصر على أمر فهذا من خواص أمة محمدصلى اللّٰه عليه وسلم ،فإنه خاتم النبيين فلا وحي بعده. 13
ترجمہ: امتِ محمدیہکے مجتہدین کا کسی زمانے میں کسی مسئلے پر اتفاق کر لینا، اس امت کی خصوصیات میں سے ہے؛لہذا رسول اللہ
خاتم النبیین ہیں، آپ
کے بعد کوئی وحی نہیں آئے گی۔
علامہ ابن الوزیر (840ھ) لکھتے ہیں:
إن الأمة أجمعت على انقطاع الوحي بعد رسول الله صلى اللّٰه عليه وسلم وأنه لا طريق لأحد من بعده إلى معارضة ما جاء به فمن ادعى ذلك وجوز تغيير شيء من الشريعة بذلك فكافر بالاجماع. 14
ترجمہ: امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ رسول اللہکے بعد وحی کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے، اور آپ
کے بعد کسی شخص کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ آپ کی لائی ہوئی تعلیمات کے مقابلے میں کوئی بات پیش کرے۔ لہٰذا جو شخص اس کا دعویٰ کرے، یا اس بنیاد پر شریعت کے کسی حکم میں تبدیلی کو جائز سمجھے، وہ بالاتفاق کافر ہے۔
علامہ امیر صنعانی(1182ھ)لکھتے ہیں:
إنه صلى اللّٰه عليه وسلم خاتم الرسل والأنبياء، وشريعته باقية إلى آخر الدنيا، وهذا أمر مجمع عليه، وأما نزول عيسى علیہ السلام آخر الزمان فهو ينزل متبعا لشرعته صلى اللّٰه عليه وسلم. 15
ترجمہ: رسول اللهخاتم الرسل و النبیین ہیں، اور آپ
کی شریعت دنیا کے اختتام تک باقی رہے گی، اس پر اجماع ہے۔ رہا حضرت عیسیٰ
کا آخری زمانے میں نزول، تو وہ بھی رسول اللہ
کی شریعت کی پیروی کرتے ہوئے تشریف لائیں گے۔
علامہ طحطاوی (1231ھ) لکھتے ہیں:
ويشترط لصحة الإيمان به صلى اللّٰه عليه وسلم معرفة اسمه؛ إذ لا تتم المعرفة إلا به، وكونه بشرا من العرب، وكونه خاتم النبيين اتفاقا؛ لورود ذلك القواطع المتواترة. 16
ترجمہ: متواتر اور قطعی الدلالہ نصوص کی بنا پر صحت ایمان کے لئے شرط ہے کہ نبی کریمکے اسم گرامی کا علم ہو، کیوں کہ نام کے بغیر معرفت ہوتی ہی نہیں۔ نیز یہ جاننا بھی شرط ہے کہ آپ
بشر ہیں، آپ
کا تعلق عرب سے ہے اور آپ
بالاتفاق خاتم النبین ہیں۔
علامہ آلوسی لکھتے (1270ھ) ہیں۔
كونه صلى اللّٰه عليه وسلم خاتم النبيين مما نطق به الكتاب وصدعت به السنة وأجمعت عليه الأمة. 17
ترجمہ: یہ بات کہ نبی کریمآخری نبی ہیں، قرآنِ کریم نے صراحت کے ساتھ بیان فرمائی ہے، سنتِ نبوی
نے بھی واضح طور پر اس کا اعلان کیا ہے، اور پوری امت نے اس پر اجماع کیا ہے۔
علامہ ابن عاشور(1393ھ) لکھتے ہیں:
والآية نص في أن محمدا صلى اللّٰه عليه وسلم خاتم النبيين، وأنه لا نبي بعده في البشر؛ لأن النبيين عام، فخاتم النبيين هو خاتمهم في صفة النبوة. ولا يعكر على نصية الآية أن العموم دلالته على الأفراد ظنية؛ لأن ذلك لاحتمال وجود مخصص، وقد تحققنا عدم المخصص بالاستقراء. وقد أجمع الصحابة على أن محمدا صلى اللّٰه عليه وسلم خاتم الرسل والأنبياء وعرف ذلك، وتواتر بينهم، وفي الأجيال من بعدهم ،ولذلك لم يترددوا في تكفير مسيلمة والأسود العنسي، فصار معلوما من الدين بالضرورة، فمن أنكره فهو كافر خارج عن الإسلام ولو كان معترفا بأن محمدا صلى اللّٰه عليه وسلم رسول الله للناس كلهم. وهذا النوع من الإجماع موجب العلم الضروري كما أشار إليه جميع علمائنا. 18
ترجمہ: آیت اس بات کی صریح دلیل ہے کہ محمدخاتم النبیین ہیں اور انسانوں میں آپ
کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا؛ کیونکہ لفظ "النبیین" عام ہے، لہٰذا "خاتم النبیین" کا معنی یہ ہے کہ نبوت کے اعتبار سے آپ
تمام نبیوں کے خاتم ہیں۔ یہ اعتراض کہ عام لفظ کا افراد پر دلالت کرنا ظنی ہوتا ہے، اس آیت کی صراحت کو متاثر نہیں کرتا؛ کیونکہ یہ احتمال صرف اس صورت میں ہوتا ہے جب کسی تخصیص کا امکان موجود ہو، جبکہ استقرا سے ثابت ہو چکا ہے کہ یہاں کوئی تخصیص نہیں۔صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا اس بات پر اجماع تھا کہ محمد
خاتم الرسل والانبیاء ہیں۔ یہ بات ان کے درمیان معروف اور متواتر تھی، اور بعد کی نسلوں میں بھی اسی طرح منتقل ہوئی۔ اسی لیے انہوں نے مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی کے کفر میں کوئی تردد نہیں کیا۔ پس ختمِ نبوت کا عقیدہ ضروریاتِ دین میں سے ہے۔ جو شخص اس کا انکار کرے، وہ اسلام سے خارج اور کافر ہے، اگرچہ وہ یہ اقرار کرتا ہو کہ محمد
تمام انسانوں کا نبی ہے۔اجماع کی یہ قسم علم یقینی کا فائدہ دیتی ہے، جیسا کہ ہمارے تمام علماء نے بتایا ہے۔
علامہ ابن باز(1420ھ) فرماتے ہیں:
لما كان صلى اللّٰه عليه وسلم خاتم النبين، وكان رسولا عاما إلى جميع الثقلين اقتضت حكمة الله سبحانه أن تكون شريعته أوفي الشرائع وأكملها وأتمها انتطاما لمصالح العباد في المعاش والمعاد، فهو صلى اللّٰه عليه وسلم خاتم الأنبياء والمرسلين، كما قال تعالى:مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا.19 وتواترت الأحاديث عن رسول الله صلى اللّٰه عليه وسلم بأنه خاتم النبيين، وهذا أمر بحمد الله مجمع عليه ومعلوم بالضرورة من دين الإسلام۔ وقد أجمع المسلمون على أن من ادعى النبوة بعده فهو كافر كاذب يستتاب، فإن تاب وإلا قتل كافرا۔ والله سبحانه وتعالى قد أرسله إلى الناس كافة بإجماع المسلمين. 20
ترجمہ: چونکہ رسول اللہخاتم النبیین ہیں اور تمام جنّات اور انسانوں کی طرف عام رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا تھا کہ آپ
کی شریعت تمام شریعتوں سے زیادہ جامع، کامل اور مکمل ہو، اور دنیا و آخرت میں بندوں کی ضروریات اور مصالح کو پوری طرح پورا کرے۔پس آپ
تمام انبیاء اور رسولوں کے خاتم ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:محمد
تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، بلکہ وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں، اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔رسول اللہ
سے متواتر احادیث مروی ہیں کہ آپ
خاتم النبیین ہیں۔ الحمد للہ، امت کا اس بات پر اجماع ہےاور یہ مسئلہ ضروریاتِ دین میں سے ہے۔مسلمانوں کااس بات پر بھی اجماع ہے کہ جو شخص آپ
کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے، وہ کافر اور جھوٹا ہے۔ اسے توبہ کا موقع دیا جائے؛ اگر توبہ کر لے تو ٹھیک، ورنہ کفر کی حالت میں اس کے لیے شرعی سزا کا حکم ہے۔ نیز مسلمانوں کا اجماع ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ
کو تمام انسانوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے۔
مذکورہ بالا تصریحات اور اقوال سے یہ حقیقت پوری طرح واضح ہوجاتی ہے کہ ہر دور میں امتِ مسلمہ کا اس امر پر اجماع رہا ہے کہ رسول اللہ
خاتم النبیین ہیں۔ آپ
ہی سلسلۂ نبوت کے آخری نبی ہیں۔ آپ
کے بعد نہ کوئی نبی مبعوث ہوگا اور نہ کسی نئے رسول کی بعثت ہوگی۔
اجماع کا حکم
اجماع دین کے نہایت اہم اور بنیادی اصولوں میں شمار ہوتا ہے ۔قاضی ابویعلی فرماتےہیں کہ اجماع ایک ایسی قطعی شرعی حجت ہے جس کی پیروی کرنا لازم ہے اور اس کی مخالفت حرام ہے۔ نیز یہ ممکن نہیں کہ پوری امت کا کسی غلط بات پراجماع قائم ہوجائے۔21اس بنا پر اجماع کی مخالفت حرام ہے۔ تاہم منکرِ اجماع کے کافر ہونے یا نہ ہونے میں اگرچہ مختلف آراء ہیں، لیکن صحیح قول یہ ہے کہ جو امر ضروریاتِ دین میں سے ہو اور اس پر امت کا اجماع ہو، اس کا منکر بلا شبہ کافر ہے۔22
چونکہ عقیدۂ ختمِ نبوت پر ہر دور کے علماء، مجتہدین اور فقہائے امت کا نہ صرف اجماع چلا آ رہا ہے، بلکہ تمام مسلمانوں کے نزدیک بھی یہ ایک متفق علیہ اور مسلمہ عقیدہ رہا ہے کہ رسول اللہ
خاتم النبیین ہیں، اس لیے اس عقیدے کی حیثیت محض ایک علمی یا اجتہادی مسئلے کی نہیں، بلکہ یہ ضروریاتِ دین میں سے ہے۔ چنانچہ جو شخص عقیدۂ ختمِ نبوت کا انکار کرے، وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے، اس کا اسلام سے کوئی تعلق باقی نہیں رہتا۔
پیش کردہ علمی شواہد اور ائمۂ امت کی تصریحات سے واضح ہوتا ہے کہ ختمِ نبوت کسی مخصوص دور یا مکتبِ فکر کا موقف نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ کا متفقہ عقیدہ ہے۔ رسول اللہ
پر سلسلۂ نبوت ہمیشہ کے لیے مکمل ہو چکا ہے اور آپ
کے بعد کسی نئی نبوت کی گنجائش نہیں۔ حضرت عیسیٰ
کا نزول بھی اسی عقیدے کے مطابق ہے، کیونکہ وہ شریعتِ محمدی
کے پیروکار کی حیثیت سے تشریف لائیں گے۔ لہٰذا ختمِ نبوت کو اس کے قطعی مفہوم کے ساتھ تسلیم کرنا ایمان کا لازمی تقاضا اور اس کی علمی حفاظت امت کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور اس عقیدہ کا منکر دارہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔
- 1 أبو الربيع سليمان بن عبد القوي الطوفي الصرصري، شرح مختصر الروضة، ج-3، مطبوعة: مؤسسة الرسالة، بيروت، لبنان، 1987م، ص: 5
- 2 أبو البقاء محمد بن أحمد ابن النجار الحنبلي، شرح الكوكب المنير، ج-2، مطبوعة: مكتبة العبيكان، الرياض، السعودية، 1997م، ص: 210
- 3 محمد الأمين بن محمد المختار الشنقيطي، مذكرة في أصول الفقه، مطبوعة: مكتبة العلوم والحكم، المدينة المنورة، السعودية، 2001م، ص: 179
- 4 تاج الدين عبد الوهاب بن علي السبكي، جمع الجوامع في أصول الفقه، مطبوعة: دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان، 2002م، ص: 76
- 5 ادریس کاندھلوی، احتساب قادیانیت (تحقیق مسئلۃ الکفر والإیمان)، ج-2، مطبوعہ: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، ملتان، پاکستان، 1997ء،ص: 409
- 6 أحمد بن سعد الغامدي، عقيدة ختم النبوة بالنبوة المحمدية، مطبوعة: جامعة الملك عبد العزيز، مكة المكرمة، السعودية، 1398م، ص: 54- 55
- 7 أبو حامد محمد بن محمد الغزالي، الاقتصاد في الاعتقاد، مطبوعة: دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان، 2004م، ص: 137
- 8 أبو محمد عبد الحق بن غالب ابن عطية الأندلسي، المحرر الوجيز في تفسير الكتاب العزيز، ج-4، مطبوعة: دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان، 1422هـ، ص: 388
- 9 أبو الفضل عياض بن موسى اليحصبي، إكمال المعلم بفوائد مسلم، ج-8، مطبوعة: دار الوفاء، القاهرة، مصر، 1998م، ص: 492- 493
- 10 أبو عبد ﷲ محمد بن أحمد القرطبي، الجامع لأحکام القرآن المعروف بتفسير القرطبي، ج-11، مطبوعة: دار الکتب المصرية، القاهرة، مصر، 1964م، ص: 29
- 11 أبو العباس أحمد بن عبد الحليم ابن تيمية الحراني،مجموع الفتاوى، ج-3، مطبوعة: مجمع الملك فهد، المدينة المنورة، السعودية، 2004م، ص: 368
- 12 أبو العباس أحمد بن عبد الحليم ابن تيمية الحراني،مجموع الفتاوى، ج-33، مطبوعة: مجمع الملك فهد، المدينة المنورة، السعودية، 2004م، ص: 159
- 13 سعد الدين مسعوي بن عمر التفتازاني، التلويح على التوضيح لمتن التنقيح في أصول الفقه، ج-2، مطبوعة: مطبعة محمد على صبيح وأولاده، القاهرة، مصر، 1957م، ص: 100
- 14 أبو عبد الله محمد بن إبراهيم ابن الوزير اليمني، إيثار الحق على الخلق في رد الخلافات إلى المذهب الحق من أصول التوحيد، مطبوعة: دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان، 1987م، ص: 72
- 15 أبو إبراهيم محمد بن إسماعيل الأمير الصنعاني، التنوير شرح الجامع الصغير، ج-3، مطبوعة: دار السلام، الرياض، السعودية، 2011م، ص: 466- 467
- 16 أحمد بن محمد الطحطاوي، حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، مطبوعة: دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان، 1997م، ص: 10
- 17 أبو الثناء محمود بن عبد الله الآلوسي، روح المعاني في تفسير القرآن العظيم والسبع المثاني، ج-11، مطبوعة: دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان، 1415هـ، ص: 219- 220
- 18 محمد طاهر بن محمد ابن عاشور التونسي، التحرير والتنوير، ج-22، مطبوعة: دار التونسية، تونس، 1984م، ص: 45
- 19 القرآن، سورة الأحزاب 33: 40
- 20 عبد العزيزبن عبد الله ابن باز، مجموع فتاوى ومقالات متنوعة، ج-2، مطبوعة: رئاسة إدارة البحوث العلمية والإفتاء، السعودية، د۔ ت۔ ط، ص: 223- 224
- 21 أبو يعلى محمد بن الحسين الفراء البغدادي، العدة في أصول الفقه، ج-4، مطبوعة: بدون ناشر، 1990م، ص: 1058
- 22 الدكتور موسى شاهين لاشين، فتح المنعم شرح صحيح مسلم، ج-6، مطبوعة: دار الشروق، القاهرة، مصر، 2002م، ص: 547
