عقیدہ ختم نبوت کا تعارف ختمِ نبوت کا لغوی معنی: اختتام اور مہر لگاناختمِ نبوت کی اصطلاحی تعریف: اللہ تعالیٰ کی طرف سے نئی وحی، نئی نبوت اور نئی رسالت کا ہمیشہ کے لیے آختتام۔مسلمانوں کی مراد: نبی کریم ﷺ کی تشریف آؤری کے بعددروازۂ نبوت ہمیشہ کے لیے بند ہوچکا لہٰذا اب کوئی نیا نبی پیدا نہیں ہوسکتا، اور اگر سابقہ امبیاء کرام علیہم السلام میں سے کوئی نبی تشریف لائیں تو وہ بھی شریعتِ محمدی ﷺ کے تابع ہوں گے۔عقیدہ ختم نبوت کی حیثیت: بنیادی اسلامی عقیدہ، جسے ماننا ضروریاتِ دین میں سے ہے۔منکرین ختم نبوت کا حکم: منکرین ختم نبوت کافر ہے، اور اگر اپنے اس دعوے پر اصرار کرے تو (اسلامی ریاست میں شرعی قانون کے مطابق) اسے قتل کیا جائے گا۔
Languages English

ختمِ نبوت کے لغوی معانی کی روشنی میں یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی بعثت نے نبوت کے اس عظیم سلسلے کو، جو حضرت آدم Alaihis Salamسے شروع ہو کر مختلف ادوار میں انبیائے کرام Alaihmus Salamکے ذریعے انسانیت کی رہنمائی کرتا رہا، اپنی معراجِ کمال تک پہنچا دیا۔ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی نبوت نے سابقہ تمام انبیائے کرام Alaihmus Salamکی نبوت کی تصدیق، توثیق اور تکمیل کرتے ہوئے اس پورے سلسلے پر ایسی مہر ثبت کر دی جس کے بعد اس میں کسی قسم کے اضافے، تبدیلی یا تجدید کی کوئی گنجائش باقی نہ رہی۔ اس اعتبار سے رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور آخری رسول ہیں۔ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے بعد نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا گیا ہے، لہٰذا نہ کسی سابق نبی کی نبوت کو اس سلسلے سے خارج کیا جا سکتا ہے اور نہ کسی نئے مدعیِ نبوت کو اس میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ گویا نبوت، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے برگزیدہ اور منتخب بندوں کو عطا کیا جانے والا ایک مخصوص منصبِ الٰہی ہے، رسول اکرم Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam پر اپنے ابدی اور حتمی اختتام کو پہنچ چکی ہے۔ ڈاکٹر احمد بن سعد الغامدی ختم اور نبوت کے لغوی معانی ذکر کرنے کے بعد ختمِ نبوت کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

  انتهاء إنباء اللّٰه للناس وانقطاع وحي السماء. 1
  (ختمِ نبوت کا معنی ) اللہ تعالیٰ کی جانب سے انسانوں کے لیے نبوت کے ذریعے خبر رسانی کا اختتام اور آسمانی وحی کا ہمیشہ کے لیے منقطع ہو جانا ہے۔

علامہ سفارینی ختم نبوت کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

  …ومعنى ‌ختم ‌النبوة بنبوته عليه الصلاة والسلام أنه لا تبتدأ نبوة ولا تشرع شريعة بعد نبوته وشريعته…2
  حضرت محمد Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی نبوت کے ذریعے سلسلہ نبوت کے ختم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی نبوت کے بعد نہ کوئی نئی نبوت آسکتی ہے اور نہ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی شریعت کے کوئی نئی شریعت نافذ کی جا سکتی ہے۔

خلاصہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفیٰ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کو آخری نبی اور رسول بنا کر مبعوث فرمایا، جن پر سلسلۂ نبوت ہمیشہ کے لیے اختتام پذیر ہو گیا۔ چنانچہ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے بعد روئے زمین پر کوئی انسان بھی ایسان نہیں ہوسکتا ہے جس کے پاس حضرت جبرئیل Alaihis Salamاللہ تعالیٰ کا کوئی نیا پیغام لے کر آئیں، یا اس پر کوئی آسمانی کتاب نازل کی جائے، نہ حالت بیداری میں کسی پر وحی کی جاسکتی ہے اور نہ حالتِ خواب میں کسی کے پاس فرشتہ آسکتا ہے۔ لہٰذا جو شخص اس قسم کا کوئی دعویٰ کرے، وہ جھوٹا، کذاب، دجال اور دروغ گو ہوگا۔ اس کے دعوے کا رتی برابر اعتبار نہیں کیا جائے گا چہ جائیکہ اس پر اس سے دلیل طلب کر لی جائے۔

عقیدہ ختمِ نبوت

عقیدۂ ختمِ نبوت اسلام کے بنیادی اور قطعی عقائد میں سے ہے، جس پر امتِ مسلمہ کا چودہ صدیوں سے نہ صرف اجماع چلا آ رہا ہے، بلکہ عہدِ نبوت سے لے کر آج تک ہر مسلمان اس پر ایمان رکھتا آیا ہے کہ حضور نبی کریم Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam بلا کسی تاویل اور تخصیص کے خاتم النبیین ہیں۔ یہ محض ایک اعتقادی مسئلہ نہیں بلکہ اسلامی عقیدہ، شریعت، وحی، رسالت اور امت کی فکری وحدت کا بنیادی ستون ہے۔ اسلام کا پورا مذہبی ڈھانچہ اس حقیقت پر قائم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کو آخری نبی اور رسول بنا کر مبعوث فرمایا،اور آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam پر دین اور نبوت کی تکمیل فرمائی۔

عقائد سے مراد وہ حقائق ہیں جن کی دل سے تصدیق کرنا ضروری ہے، جن پر انسان کا نفس کامل اطمینان حاصل کرے، اور جو اس کے نزدیک ایسا پختہ یقین بن جائیں کہ ان میں نہ کسی شک کی آمیزش ہو اور نہ کسی قسم کا شبہ راہ پا سکے۔3چنانچہ "عقیدۂ ختمِ نبوت" کا مطلب کامل اطمینان کے ساتھ پختہ یقین رکھنااور دل سے اس بات کی تصدیق کرنا کہ حضرت محمد مصطفیٰ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے بعد نہ کوئی نبی مبعوث ہو سکتا ہے، نہ کسی شخص پر وحی نازل کی جاسکتی ہے، اور نہ ہی کوئی نئی شریعت یا مستقل دینی منصب قائم کیا جا سکتا ہے۔ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی بعثت کے ساتھ سلسلۂ نبوت ہمیشہ کے لیے مکمل اور اختتام پذیر ہو گیا۔ قرآن کریم کی متعدد آیات اور رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے سینکڑوں احادیث سے یہ عقیدہ ثابت ہوتا ہے۔ ارشادِخداوندی ہے:

  مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا 40 4
  محمد (Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam) تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور سب انبیاء کے آخر میں (سلسلۂ نبوت ختم کرنے والے) ہیں، اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے۔

حضرت انس بن مالک Radi Allah Anhoسے روایت ہے کہ رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے فرمایا:

  إن ‌الرسالة ‌والنبوة قد انقطعت فلا رسول بعدي ولا نبي. 5
  بے شک رسالت اور نبوت کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہے؛ لہٰذا میرے بعد نہ کوئی رسول آئے گا اور نہ کوئی نبی۔

امام آلوسی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کا خاتم النبیین ہونا ایسا قطعی عقیدہ ہے جس پر قرآنِ کریم واضح طور پر دلالت کرتا ہے، احادیث نبویہ نے اس کو پوری صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے، اور پوری امت کا اس پر اجماع ہے۔ لہٰذا جو شخص اس کے خلاف عقیدہ رکھے وہ کافر ہے، اور اگر اپنے اس دعوے پر اصرار کرے تو (اسلامی ریاست میں شرعی قانون کے مطابق) اسے قتل کیا جائے گا۔6امام طحاوی امت مسلمہ کے متفقہ اور اجماعی عقائد کو نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

  إن محمدا عبده المصطفى ونبيه المجتبى ورسوله المرتضى، وأنه خاتم الأنبياء وإمام الأتقياء وسيد المرسلين وحبيب رب العالمين، وكل دعوى النبوة بعده فغي وهوى. 7
  (ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ) حضرت محمد Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے، منتخب نبی اور پسندیدہ رسول ہیں۔ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam خاتم الانبیاء، اہلِ تقویٰ کے پیشوا، تمام رسولوں کے سردار اور ربِّ العالمین کے محبوب ہیں، اور آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے بعد نبوت کا ہر دعویٰ نفسانی خواہش، گمراہی،اور باطل ہے۔

لہذا وہی لوگ اہل ایمان کہلائیں گے جن کا عقیدہ یہ ہو کہ جن وانس کی رشدوہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیاء Alaihmus Salamکا جو عظیم الشان سلسلہ جاری فرمایا، اس سلسلہ کو سیدالمرسلین خاتم النّبیین حضرت محمدSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallamکی ذات اقدس پر مکمل فرمایا۔ لہٰذا اب قیامت تک کسی اور کونبی بنایانہیں جائے گا ،اللہ تعالیٰ کی وحدانیت میں جس طرح شرکت ممکن نہیں ،اسی طرح حضر ت محمدرسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی ختم نبوت میں بھی شرکت ممکن نہیں ۔آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی رحلت کے بعد اب تاقیامت دنیا میں کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔ رہی یہ بات کہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salam کا آخری زمانے میں نزول ہوگا تو یہ عقیدۂ ختمِ نبوت کے ہرگز منافی نہیں؛ کیونکہ جب حضرت عیسیٰ دنیا میں تشریف لائیں گے تو وہ اپنی سابقہ شریعت کے مطابق نہیں، بلکہ ہمارے نبی حضرت محمد Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی شریعت کے مطابق عمل کریں گے۔ اس لیے کہ ان کی سابقہ شریعت منسوخ ہوچکی ہوگی، چنانچہ اصول اورفروع میں وہ شریعتِ محمدی Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam پر عمل کریں گے۔ اس بنا پر ان کی حیثیت ایک نئے نبی یا مستقل شریعت لانے والے کی نہیں ہوگی، بلکہ وہ رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے خلیفہ اور آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallamکی امت میں آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallamکے دین کے مطابق فیصلے کرنے والے ایک عادل حاکم کی حیثیت سے فرائض سر انجام دیں گے۔ 8

عقیدہ ختم نبوت سے مسلمانوں کی مراد

اکابر علمائے اسلام نے اس حدیث کہ " میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا"9کے یہی معنی بتلائے ہیں کہ اب نبوت کا دروازہ بند ہوچکا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی سابقہ پیغمبر آبھی جائے(جیسے کہ عیسی Alaihis Salam تشریف لائیں گے) تو مفہومِ ختم نبوت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ بھی آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی شریعت کے ماتحت ہوں گے کیونکہ یہ دور دورِ محمدیSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam ہے۔10یعنی کہ حضور Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی شانِ خاتمیت کے دو پہلو ہیں:

  1. یہ کہ کسی قسم کا کوئی نیا نبی پیدا نہ ہو۔
  2. یہ کہ پہلوں میں سے کوئی آجائے تو وہ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے احکام کے تابع ہو کر رہے۔

خلاصہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے جب ایک طرف عالم کی بنیادرکھی ،تو اسی کے ساتھ دوسری طرف قصرِنبوت کی پہلی اینٹ بھی رکھ دی،یعنی عالم میں جس کو اپنا خلیفہ بنایاتھا، اسی کوقصرنبوت کی خشتِ اول قرار دیا، اِدھر عالم بتدریج پھیلتارہا،اُدھر قصرِنبوت کی تعمیرہوتی رہی ،آخرکار عالم کے لیے جس عروج پرپہنچنا مقدرتھا،پہنچ گیا،ادھرقصرِنبوت بھی اپنے جملہ محاسن اورخوبیوں کے ساتھ مکمل ہوگیا اور اس لیے ضروری ہوا کہ جس طرح عالم کی ابتداء میں رسولوں کی بعثت کی اطلاع دی تھی، اس کے انتہاء پررسولوں کے خاتمہ کا بھی اعلان کردیاجائے؛ تاکہ قدیم سنت کے مطابق آئندہ اب کسی رسول کی آمدکا انتظارنہ رہے۔جب تک عالم اپنے عروج کو نہیں پہنچا تھا، سنت ِا لٰہی کے مطابق انبیاء کرام Alaihmus Salam آتے رہے اورہر نبی اپنے بعد دوسرے نبی کی بشارت دیتا رہا تاہم کسی نبی نے بھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ خاتم النبیین ہے۔ حتی کہ وہ زمانہ آگیا کہ اسرائیلی سلسلے کے آخری رسول حضرت عیسیٰ Alaihis Salam نے ایسے رسول کی بشارت دی جس کا اسم مبارک احمد Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam ہے۔

  وَإِذْ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يَابَنِي إِسْرَائِيلَ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ ...6 11
  رجمہ: اور (وہ وقت بھی یاد کیجئے) جب عیسٰی بن مریم (Alaihmas Salam) نے کہا: اے بنی اسرائیل! بیشک میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں، اپنے سے پہلی کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں اور اُس رسولِ (معظّم Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam) کی (آمد آمد) کی بشارت سنانے والا ہوں جو میرے بعد تشریف لا رہے ہیں جن کا نام (آسمانوں میں اس وقت) احمد (Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam) ہے۔

عالم کے اس منتظر اورحضرت عیسیٰ Alaihis Salamکے اس مبشررسول نے دنیا میں آکر ایک نیااعلان کیا اورہ یہ تھا کہ میں اب آخری رسول ہوں ،میرے بعد نہ کوئی نبی آئے گا اور نہ کوئی رسول آئے گا۔ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے بعد نئی نبوت، نئی رسالت، نئی شریعت، نئی امت کو نہ ماننا درحقیقت عقیدہ ختم نبوت کہلاتا ہے جس پر ایمان کامل لانا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔یہی عقیدہ دراصل دو حقیقتوں پر مشتمل ہے: پہلی یہ کہ نبوت کا سلسلہ حضرت محمد Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam پر مکمل ہو چکا ہے۔دوسری یہ کہ قیامت تک انسانیت کی ہدایت کے لیے قرآنِ کریم، سنتِ رسول Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam اور اسلامی شریعت ہی آخری اور کامل ذریعۂ ہدایت ہیں۔

 
  • 1  أحمد بن سعد الغامدي، عقيدة ختم النبوة بالنبوة المحمدية، مطبوعة: جامعة الملك عبد العزيز، مكة المكرمة، السعودية، 1398ھ، ص: 11
  • 2  أبو العون محمد بن أحمد السفاريني، لوامع الأنوار البهية وسواطع الأسرار الأثرية لشرح الدرة المضية في عقد الفرقة المرضية، ج-2، مطبوعة: مؤسسة الخافقين ومكتبتها، دمشق، سوريا، 1982م، ص: 277
  • 3  الشهيد حسن البنا، العقائد، مطبوعة: دار الدعوة، الإسكندرية، مصر، د۔ ت۔ ط، ص: 7
  • 4  القرآن، سورة الأحزاب 33: 40
  • 5  أبو عيسى محمد بن عيسى الترمذي، جامع الترمذي، حديث: 2272، مطبوعة: دار السلام، الریاض، السعودیة، 2009م، ص: 687
  • 6  أبو الثناء محمود بن عبد الله الألوسي، روح المعاني في تفسير القرآن العظيم والسبع المثاني، ج-11، مطبوعة: دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان، 1415ھ، ص: 219- 220
  • 7  أبو جعفر محمد بن أحمد الطحاوي، العقيدة الطحاوية، مطبوعة: المكتب الإسلامي، بيروت، لبنان، 1414ھ، ص: 36- 39
  • 8  الدكتور صالح بن فوزان الفوزان، الإرشاد إلى صحيح الاعتقاد والرد على أهل الشرك والإلحاد، مطبوعة: دار ابن الجوزي، الدمام، السعودية، 1999م، ص: 210
  • 9  أبو عبد اﷲ محمد بن إسماعیل البخاري، صحیح البخاري، حديث: 3455، مطبوعة: دار السلام، الریاض، السعودیة، 1999م، ص: 582
  • 10  ڈاکٹر علامہ خالد محمود، عقیدۃ الامت فی معنی ختم النبوت، مطبوعہ: دار المعارف، لاہور، پاکستان، تاریخ اشاعت ندارد، ص: 22
  • 11  القرآن، سورة الصف 61: 6