عقیدۂ ختمِ نبوت اسلام کے بنیادی اور قطعی عقائد میں سے ہے، جس کے مطابق حضرت محمد مصطفیٰ
اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں اور آپ
کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں آسکتا۔ یہ عقیدہ قرآن کریم، احادیثِ متواترہ اور اجماعِ امت سے ثابت ہونے کے ساتھ ضروریاتِ دین میں بھی شامل ہے۔ زیرِ نظر مقالے میں ضروریاتِ دین کا مفہوم اور اس کی بنیادی شرائط واضح کرتے ہوئے بالخصوص عقیدۂ ختمِ نبوت کے ضروریاتِ دین میں شامل ہونے کے دلائل اور اس کے انکار یا اس میں شک و تردد کے حوالے سے شرعی حکم پیش کیا جائے گا۔
ضروریاتِ دین کا مطلب
اصطلاحِ شریعت میں ضروریاتِ دین سے مراد وہ دینی احکام اور عقائد ہیں جو رسول اللہ
سے تواتر کے ساتھ قطعی طور پر ثابت ہوں، اور جن کا علم مسلمانوں کے درمیان عام ہو۔ شمس الدین برماوی ضروریاتِ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ کسی عقیدے کا ضروریاتِ دین میں سے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کا علم خواص اور عوام، سب کو یکساں طور پر ہوں، یہاں تک کہ یہ علم ایسا یقینی اور بدیہی بن جائے کہ اس میں کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش باقی نہ رہے۔ 1 جبکہ ابن حجر ہیتمی نے اس کی وضاحت یوں کی ہے:
فما القدر المعلوم من الدين بالضرورة؟ جوابه: أنه قد سبق ضابطه وهو أن يكون قطعيا مشهورا بحيث لا يخفى على العامة المخالطين للعلماء بأن يعرفوه بداهة من غير إفتقار إلى نظر واستدلال. 2
دین میں وہ کون سا حصہ ہے جو ضروریاتِ دین کہلاتا ہے؟ جواب یہ ہے کہ اس کا معیار بیان ہوچکا ہے، اور وہ یہ ہے کہ کوئی عقیدہ یا حکم قطعی اور امت میں اس قدر مشہور ہو کہ علماء سے تعلق رکھنے والے عام مسلمان بھی اسے بغیر غور و فکراور استدلال کے بدیہی طور پر جانتے ہوں۔
حاصل یہ ہے کہ ضروریاتِ دین سے مراد وہ عقائد واحکام ہیں جس سے تمام مسلمان بالعموم واقف ہوں، اس کی معرفت کے لیے نہ عقل و فکر کی پیچیدہ کاوش درکار ہو، نہ دلائل کی ترتیب اور استدلال کی ضرورت پیش آئے، بلکہ مسلمانوں میں اس کی شہرت اور مقبولیت ہی اس کے لیے کافی ہو۔ نیز اس کے ثبوت میں امت کے اندر کوئی معتبر اختلاف یا نزاع نہ پایا جاتا ہو۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ ضروریاتِ دین عقائد میں بھی ہوتے ہیں -جیسے: اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، حضرت محمد
کی نبوت ورسالت، فرشتوں پر ایمان، آسمانی کتابوں پر ایمان، یومِ آخرت پر ایمان وغیرہ - اور عبادات میں بھی، جیسے: پانچ وقت کی نماز کی فرضیت، رمضان کے روزوں کی فرضیت، صاحبِ استطاعت پر حج کی فرضیت، زکوٰۃ کی فرضیت۔ اسی طرح بعض احکامات بھی ضروریاتِ دین میں داخل ہیں، جیسے: زنا کی حرمت، شراب کی حرمت، سود کی حرمت، ناحق قتل کی حرمت وغیرہ۔
ضروریاتِ دین کے شرائط
مذکورہ بالا وضاحت سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ کسی حکم یا عقیدے کے ضروریاتِ دین میں شمار ہونے کے لیے دو بنیادی شرطوں کا پایا جانا ناگزیر ہے۔
پہلی شرط
اس حکم یا عقیدے پر امتِ مسلمہ کا اجماع قائم ہو، اور جب تک کسی حکم پر اجماع نہ ہو اس وقت تک وہ ضروریاتِ دین میں شمار نہیں ہوتا۔ علامہ زحیلی لکھتے ہیں:
الأحكام الشرعية بالنسبة للاجتهاد نوعان: ما يجوز الاجتهاد فيه، وما لا يجوز الاجتهاد فيه. أما ما لايجوز الاجتهاد فيه فهو الأحكام المعلومة من الدين بالضرورة والبداهة أو التي ثبتت بدليل قطعي الثبوت، قطعي الدلالة... وأما التي يجوز الاجتهاد فيها فهي الأحكام التي ورد فيها نص ظني الثبوت والدلالة أو ظني أحدهما، والأحكام التي لم يرد فيها نص ولا إجماع. 3
اجتہاد کے اعتبار سے شرعی احکام دو قسم پر ہیں: ایک وہ جن میں اجتہاد کی گنجائش ہوتی ہے، اور دوسرے وہ جن میں اجتہاد کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ جن احکام میں اجتہاد جائز نہیں، وہ وہی ہیں جو ضروریاتِ دین میں شمار ہوتے ہیں، یا جو ایسے قطعی دلائل سے ثابت ہوں جو ثبوت اور دلالت، دونوں اعتبار سے یقینی ہوں۔ رہے وہ احکام جن میں اجتہاد کی گنجائش ہے، تو ان سے مراد وہ احکام ہیں جن کے بارے میں ایسی نص وارد ہوئی ہو جو ثبوت یا دلالت، یا دونوں میں ظنی ہو۔ اسی طرح وہ مسائل بھی اسی زمرے میں آتے ہیں جن کے بارے میں نہ کوئی صریح نص موجود ہو اور نہ ہی امت کا اجماع۔
یہاں دو بنیادی باتوں کو پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔ پہلی یہ کہ جن احکام وعقائد میں اجتہاد کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی، وہ ضروریاتِ دین میں شمار ہوتے ہیں۔ دوسری یہ کہ جن امور میں اجتہاد کی گنجائش ہوتی ہے، ان سے مراد وہ احکام و عقائد ہیں جن کے بارے میں نہ کوئی صریح نص موجود ہو اور نہ ہی امتِ مسلمہ کا اجماع ہو۔ البتہ اس حوالہ سے یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ ضروریات دین میں سے ہر ایک امر اجماع سے ثابت ہوتا ہے تاہم ہر وہ امر جو اجماع سے ثابت ہو، ضروری نہیں کہ وہ ضروریات دین میں بھی شامل ہو۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ جن احکام و عقائد پر امتِ مسلمہ کا اجماع قائم ہو، ان میں اجتہاد کی گنجائش باقی نہیں رہتی، اسی بنا پر ایسے احکام و عقائد ضروریاتِ دین کے زمرے میں شمار کیے جاتے ہیں۔
دوسری شرط
اس سے مراد وہ احکام یا عقائد ہیں جو تواتر کے ساتھ ثابت ہو۔ لہذا کوئی حکم یا عقیدہ اس وقت تک ضروریاتِ دین میں شمار نہیں ہوتا جب تک وہ امت میں تواتر کے ساتھ ثابت نہ ہو۔ ابنِ وزیر لکھتے ہیں:
إن المتواترات نوعان: أحدهما: ما علمه العامة مع الخاصة، كمثل كلمة التوحيد، وأركان الإسلام، فيكفر جاحده مطلقا. 4
متواتر امور دو قسم کے ہوتے ہیں۔ پہلی قسم وہ ہے جس کا علم اہلِ علم اور عام مسلمانوں، دونوں کو یکساں طور پر ہو، جیسے کلمۂ توحید اور اسلام کے بنیادی ارکان۔ لہٰذا جو شخص ان کا انکار کرے، وہ مطلقاً کافر ہے۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ کسی حکم یا عقیدے کے ضروریاتِ دین میں شمار ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ امتِ مسلمہ کے اجماع سے ثابت ہو اور تواتر کے ساتھ منقول ہو۔ اس بنا پر جو احکام و عقائد ضروریاتِ دین کا درجہ رکھتے ہیں، ان کا اجماعِ امت سے ثابت اور تواتر کے ساتھ منقول ہونا ضروری ہے۔
عقیدۂ ختمِ نبوت ضروریاتِ دین میں سے
اہلِ علم کے نزدیک ختم نبوت کا عقیدہ ضروریاتِ دین اور متواتراتِ اسلام میں سےہے جو قرآن کریم، حدیث متواتر اور اجماع امت سے ثابت ہے اور نسلاً بعد نسلٍ اور قرناً بعد قرنٍ اور عصراً بعد عصرٍ ہر زمانہ میں نقل ہوتا چلا آیا ہے۔ 5چنانچہ ڈاکٹراحمد بن سعد غامدی لکھتے ہیں کہ صحابۂ کرام
نے رسول اللہ
سے ختمِ نبوت کے بارے میں جو احادیث روایت کی ہیں، وہ تواتر کی حد کو پہنچتی ہیں۔ 6 اسی طرح عبد القاہر بن طاہر بغدادی لکھتے ہیں:
وقد تواتر الأخبار عنه صلى اللّٰه عليه وسلم بقوله: لا نبي بعدي. 7
رسول اللہکا یہ فرمان کہ "میرے بعد کوئی نبی نہیں" تواتر کے ساتھ منقول ہے۔
مزید برآں، عقیدۂ ختمِ نبوت پر امت کا اجماع بھی ہے۔ قاضی عیاض عقیدۂ ختمِ نبوت کو ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
وأجمعت الأمة على حمل هذا الكلام على ظاهره، وأن مفهومه المراد به دون تأويل ولا تخصيص. 8
امتِ مسلمہ کا اس بات پر اجماع ہے کہ اس ارشاد خاتم النبیینکو اس کے ظاہری معنی ہی پر محمول کیا جائے، اور اس سے وہی مفہوم مراد ہے جو بظاہر اس کے الفاظ سے سمجھ میں آتا ہے، نہ اس میں کسی تاویل کی گنجائش ہے اور نہ کسی قسم کی تخصیص کی۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ عقیدۂ ختمِ نبوت کا ضروریاتِ دین میں شامل ہونا محض ایک دعویٰ نہیں، بلکہ اس میں ضروریاتِ دین کے دونوں شرائط تواتر اور اجماعِ امت بدرجۂ اتم موجود ہیں۔ لہذا یہ عقیدہ انہی امور ضروریہ میں سے ہے جس پر ایمان و اسلام کی اساس ہے۔ اسی لیے شیخ ابن باز فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
سے اس بات پر احادیث تواتر کے ساتھ منقول ہیں کہ آپ
خاتم النبیین ہیں، اور اس عقیدے پر امت کا اجماع ہے، اور یہ ان ضروریاتِ دین میں سے ہے جو ہر خاص و عام کے نزدیک بدیہی ہیں۔ 9 جبکہ علامہ ابن نجیم نے واضح طور پر لکھا ہے کہ عقیدۂ ختمِ نبوت ضروریات ِ دین میں سےہے:
...إذا لم يعرف أن محمدا صلى الله عليه وسلم آخر الأنبياء فليس بمسلم؛ لأنه من الضروريات. 10
اگر کوئی شخص یہ عقیدہ نہ رکھے کہ حضرت محمدآخری نبی ہیں، تو وہ مسلمان نہیں؛ کیونکہ یہ ضروریاتِ دین میں سے ہے۔
ضروریاتِ دین کے منکر کا حکم
علماء اسلام کے درمیان اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ ضروریاتِ دین کی بنیاد ہیں، اور ان کا انکار کرنے والا کافر ہوتا ہے۔ علامہ بیجوری فرماتے ہیں:
من جحد أمرا معلوما من أدلة ديننا بشبه الضرورة بحيث يعرفه خواص المسلمين وعوامهم كوجوب الصلاة والصوم وحرمة الزنا والخمر ونحوها، يقتل لأجل كفره؛ لأن جحده لذلك مستلزم لتكذيب النبي صلى الله عليه وسلم. 11
جو شخص دین کے ایسے حکم یا عقیدے کا انکار کرے جو دلائلِ شرعیہ سے اس قدر واضح اور قطعی طور پر ثابت ہو کہ خاص وعام تمام مسلمان اسے جانتے ہوں، جیسے نماز اور روزے کی فرضیت، زنا اور شراب کی حرمت وغیرہ، تو وہ اپنے اس انکار کی وجہ سے کافر قرار پاتا ہے، کیونکہ اس کے انکار سے درحقیقت رسول اللہکی تکذیب لازم آتی ہے۔
علامہ ابنِ وزیر فرماتے ہیں کہ کفرکی حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتابوں میں سے کسی کتاب، انبیاء کرام
، یا ان کی لائی ہوئی تعلیمات کاقصداً انکار کیا جائے بشرطیکہ جس چیز کا انکار کیا جائے وہ ضروریاتِ دین میں سے ہو۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ اس نوعیت کا انکار کفر ہے، اور جو شخص، عاقل، بالغ اور بااختیار ہونے کی حالت میں ایسا کرے، وہ کافر ہے۔ اسی طرح اس بات پر بھی سب کا اجماع ہے کہ جو شخص کسی ایسے امر کا انکار کرے جو تمام مسلمانوں کے نزدیک ضروریاتِ دین میں سے ہو، وہ بھی کافر ہے۔ 12امام سیوطی نے بھی اس موقف کی تائید ہے۔ 13 خلاصہ یہ ہے کہ ضروریاتِ دین کا منکر کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے، حتی کہ ضروریاتِ دین میں شک وتردد کرنا بھی انکار کے زمرے میں آتا ہے۔ ابن حجر ہیتمی فرماتے ہیں:
واعلم أن التردد في المعلوم من الدين بالضرورة كالإنكار. 14
جان لو! دین کی وہ بات جو ضروریاتِ دین میں سے ہو، اس میں شک و تردد کرنا بھی اس کے انکار کے حکم میں ہے۔
چونکہ عقیدۂ ختمِ نبوت قطعی نصوص، 15 تواترِ احادیث، 16 اجماعِ امت اور تمام اہلِ اسلام کے ہاں اس کے بدیہی و مسلم ہونے 17 کی بنا پر ضروریاتِ دین میں شمار ہوتا ہے، اس لیے اس کے منکر کا حکم بھی وہی ہے جو دیگر ضروریاتِ دین کے منکر کا ہے۔ چنانچہ جس طرح ضروریاتِ دین کا انکار انسان کو دائرۂ اسلام سے خارج کر دیتا ہے، اسی طرح عقیدۂ ختمِ نبوت کا انکار بھی موجبِ کفر اور باعثِ خروج از اسلام ہے۔ 18 مزید برآں، جس طرح ضروریاتِ دین کے بارے میں شک و شبہ بھی شرعاً انکار کے حکم میں شمار ہوتا ہے، اسی طرح عقیدۂ ختمِ نبوت کے بارے میں تردد یا شک بھی انکار ہی ہے؛ لہٰذا اس عقیدے میں شک و شبہ بھی کفر ہے۔
- 1 أبو عبد الله محمد بن عبد الدائم البرماوي، الفوائد السنية في شرح الألفية، ج-1، مطبوعة: مكتبة التوعية الإسلامية، الجيزة، مصر، 2015م، ص: 467
- 2 أبو العباس أحمد بن محمد ابن حجر الهيتمي، الفتاوى الحديثية، مطبوعة: قديمي كتب خانه، كراتشي، باكستان، د۔ ت۔ ط، ص: 266
- 3 الدكتور وهبة بن مصطفى الزحيلي، أصول الفقه الإسلامي، ج-2، مطبوعة: دار الفكر، دمشق، سوريا، 1986م، ص: 1052- 1053
- 4 أبو عبد الله محمد بن إبراهيم ابن الوزير القاسمي، العواصم والقواصم في الذب عن سنة أبي القاسم، ج-4، مطبوعة: مؤسسة الرسالة، بيروت، لبنان، 1994م، ص: 173- 174
- 5 ادریس کاندھلوی، احتساب قادیانیت (تحقیق مسئلۃ الکفر والإیمان)، ج-2، مطبوعہ: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، ملتان، پاکستان، 1997ء، ص: 409
- 6 أحمد بن سعد الغامدي، عقيدة ختم النبوة بالنبوة المحمدية، مطبوعة: جامعة الملك عبد العزيز، مكة المكرمة، السعودية، 1398ه، ص: 51
- 7 أبو منصور عبد القادر بن طاهر البغدادي، أصول الدين، مطبوعة: دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان، 2002م، ص: 184
- 8 أبو الفضل عیاض بن موسی اليحصبي، الشفا بتعریف حقوق المصطفی ﷺ، ج-2، مطبوعة: دار الفیحاء، عمان، 1407هـ، ص: 610
- 9 عبد العزيز بن عبد الله ابن باز، مجموع فتاوى ومقالات متنوعة، ج-2، مطبوعة: رئاسة إدارة البحوث العلمية والإفتاء، الرياض، السعودية، 1421هـ، ص: 223
- 10 زين الدين بن إبراهيم ابن نجيم، الأشباه والنظائر على مذهب أبي حنيفة النعمان، مطبوعة: دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان، 1999م، ص: 161
- 11 إبراهيم بن محمد البيجوري، تحفة المريد شرح جوهرة التوحيد، مطبوعة: دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان، 2004م، ص: 218
- 12 أبو عبد الله محمد بن إبراهيم ابن الوزير اليمني، إيثار الحق على الخلق في رد الخلافات إلى المذهب الحق من أصول التوحيد، مطبوعة: دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان، 1987م، ص: 376- 377
- 13 عبد الرحمن بن أبي بكر جلال الدين السيوطي، الأشباه والنظائر في قواعد وفروع فقه الشافعية، مطبوعة: دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان، 1983م، ص: 488
- 14 أبو العباس أحمد بن محمد ابن حجر الهيتمي، الفتاوى الحديثية، مطبوعة: قديمي كتب خانه، كراتشي، باكستان، د۔ ت۔ ط، ص: 267
- 15 القرآن، سورة الأحزاب 33: 40
- 16 أبو عيسى محمد بن عيسى الترمذي، جامع الترمذي، حديث: 2272، مطبوعة: دار السلام، الریاض، السعودیة، 2009م، ص: 687
- 17 عبد العزيز بن عبد الله ابن باز، مجموع فتاوى ومقالات متنوعة، ج-2، مطبوعة: رئاسة إدارة البحوث العلمية والإفتاء، الرياض، السعودية، 1421هـ، ص: 223
- 18 زين الدين بن إبراهيم ابن نجيم، الأشباه والنظائر على مذهب أبي حنيفة النعمان، مطبوعة: دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان، 1999م، ص: 161
صافی، علامہ محمد خالد، اور ہمدانی، مفتی شاہ رفیع الدین۔ (2026، 5 اگست)۔ عقیدۂ ختمِ نبوت ضروریاتِ دین میں سے: اجماعی و متواتر عقیدہ۔ ختمِ نبوت انسائیکلوپیڈیا۔ https://www.khatmenabuwat.net/articles/ur/aqeeda-khatm-e-nabuwwat-zaruriyat-e-deen-mein-se-ijmai-wa-mutawatir-aqeeda
