اسرار رشید اور قادیانی نمائندہ کےمناظرہ کا قرآنی، حدیثی اور لسانی تجزیہمناظرہ کا موضوع: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات، رفعِ جسمانی اور نزولِ ثانی: قرآن و صحیح احادیث کی روشنی میںمناظرِ قادیانیت: رازُل نعمان، معروف رضی صاحبمناظرِ اہل سنت: شیخ اسرار رشیدناظمِ مناظرہ: راحیل صاحبقادیانی موقف: حضرت عیسیٰ علیہ السلام طبعی وفات پا چکے ہیں، جسمانی طور پر آسمان پر نہیں اٹھائے گئے، ان کا نزول حقیقی نہیں بلکہ مجازی ہے، اور مرزا غلام احمد قادیانی ہی مسیح موعود ہیں۔مسلمانوں کا موقف: حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہ قتل کیے گئے، نہ صلیب پر چڑھائے گئے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں جسم و روح سمیت اپنی طرف اٹھا لیا۔ وہ آسمانوں میں زندہ ہیں، قربِ قیامت دوبارہ نازل ہوں گے، دجال کو قتل کریں گے، پھر اپنی طبعی وفات پائیں گے۔قادیانیوں کا اہم اعتراض: لفظ "توفیٰ" سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت ہوتی ہے، قرآن یا صحیح حدیث میں کوئی صریح نص موجود نہیں جس میں جسمانی حیاتِ سماوی کا واضح ذکر ہو، اور نزولِ مسیح سے متعلق احادیث مجازی معنی رکھتی ہیں۔اہل سنت کا مدلل جواب: "توفیٰ" متعدد معانی رکھتا ہے اور اس کا مفہوم سیاق سے متعین ہوتا ہے۔ سورۂ آل عمران، سورۂ نساء، سورۂ مائدہ اور سورۂ زخرف کی آیات، صحیح بخاری و صحیح مسلم کی متعدد احادیث، نزولِ مسیح، دجال کے قتل، دمشق میں نزول اور امت کے متوارث فہم کو جمع کرنے سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جسمانی رفع اور آئندہ نزول کا عقیدہ مضبوط اور راجح ثابت ہوتا ہے۔مناظرہ کا حتمی نتیجہ: مجموعی قرآنی نصوص، صحیح بخاری و صحیح مسلم کی احادیث، عربی زبان کے اصول اور امتِ مسلمہ کے متوارث فہم کی روشنی میں شیخ اسرار رشید کا مؤقف زیادہ مضبوط، منظم اور راجح قرار پاتا ہے، جبکہ قادیانی استدلال لفظ "توفیٰ" پر غیر معمولی انحصار، بعید تاویلات اور متعدد اصولی کمزوریوں کا حامل دکھائی دیتا ہے، جس کے نتیجہ میں ان کا دعویٰ اور عقیدہ باطل قرار پاتے ہیں۔
Languages English

حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکی حیات، رفعِ جسمانی اور قربِ قیامت دوبارہ نزول کا مسئلہ اہلِ اسلام اور قادیانی جماعت کے درمیان بنیادی اعتقادی اختلافات میں سے ایک ہے۔ زیرِ نظر مضمون شیخ اسرار رشید اور قادیانی نمائندے کے مابین ہونے والے مناظرے میں پیش کیے گئے قرآنی دلائل، صحیح بخاری و صحیح مسلم کی احادیث، عربی الفاظ کے لغوی مفاہیم اور دونوں فریقوں کے اعتراضات و جوابات کا علمی و تنقیدی جائزہ پیش کرتا ہے۔ اس تحقیق کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ مجموعی نصوصِ شرعیہ کی روشنی میں جمہورِ امت کا یہ عقیدہ زیادہ مضبوط اور راجح ہے کہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکو قتل یا مصلوب نہیں کیا گیا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں جسم و روح سمیت اپنی طرف اٹھا لیا، وہ آسمانوں میں زندہ ہیں اور قیامت سے قبل دوبارہ دنیا میں نازل ہوں گے۔

شرکائے مناظرہ

شیخ اسرار رشید: اسلام اور مسلمانوں کے مؤقف کی نمائندگی کر رہے تھے۔ ان کا مؤقف اثباتی تھا یعنی کہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salamاپنے جسمِ کے ساتھ آسمانوں میں زندہ ہیں۔

رازُل نعمان ، جنہیں رضی صاحب بھی کہا گیا: قادیانی جماعت کی نمائندگی کر رہے تھے۔ ان کا مؤقف منفی تھا اور وہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salam وفات پا چکے ہیں اور آسمانوں میں جسمانی طور پر زندہ نہیں ہیں۔

راحیل صاحب: قادیانی جماعت سے تعلق رکھنے والے ناظمِ مناظرہ تھے، جنہیں دونوں فریقوں نے غیر جانب دار ناظم کے طور پر قبول کیا۔ ان کا بنیادی کام وقت کی پابندی اور طے شدہ شرائط کا نفاذ تھا۔

متفقہ اصول: ایک محدود دائرے میں مناظرہ

دونوں فریقوں کے درمیان طے شدہ شرائط غیر معمولی طور پر سخت تھیں، اور یہی شرائط پورے مناظرے میں بار بار بحث و نزاع کا سبب بھی بنتی رہیں۔ اہم شرائط یہ تھیں:

  • ماخذ کی تحدید: دلائل صرف قرآنِ کریم، صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایات پر مبنی ہوں گے۔ علماء کے اقوال صرف راویوں کی توثیق، تضعیف یا سندی بحث کے لیے پیش کیے جا سکتے تھے، عمومی عقائدونظریات کے طور پر نہیں۔
  • موضوع کی تحدید: مرزا غلام احمد کی کتابوں کو بنیادی ماخذ کے طور پر پیش نہیں کیا جائے گا۔ البتہ اگر مخالف فریق پہلے ان کی تحریر کا ذکر کرے تو اس کے جواب میں متعلقہ اقتباس لایا جا سکتا تھا۔
  • آدابِ مناظرہ: گالی، بدزبانی اور مذہبی قائدین کی شخصی توہین سے اجتناب لازم تھا۔
  • مناظرے کا خاکہ: تعارف، افتتاحی بیانات، جوابی بیانات، اختتامی کلمات، سوالات وجوابات اور سامعین کے سوالات سب مقررہ وقت کے اندر ہونے تھے۔

ان شرائط نے مناظرے کو ہر مرحلے پر متاثر کیا۔ دونوں مناظرین نے متعدد مواقع پر ناظم سے رجوع کیا کہ آیا کوئی دلیل مقررہ ماخذ کے دائرے میں ہے یا نہیں۔ اس طرح اصل بحث کے ساتھ ساتھ ایک ضمنی بحث بھی جاری رہی کہ کون سا ماخذ قابلِ قبول ہے اور کون سا خارج از بحث ہے۔

مناظرے کا مرکزی سوال

اہلِ اسلام اور قادیانی مؤقف کے درمیان جن بنیادی مسائل میں اختلاف ہے، ان میں حضرت عیسیٰ ابن مریم Alaihmas Salamکا مسئلہ نہایت اہم ہے: یعنی کیا انہیں قتل کیا گیا؟ یا انہیں پھانسی پر چڑھایا گیا؟ کیا وہ وفات پا گئے؟ کیا اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اٹھایا؟ کیا وہ آسمانوں میں زندہ ہیں؟ اور کیا وہ قیامت سے پہلے دوبارہ نازل ہوں گے؟

اس مناظرے کا اصل سوال یہ تھا کہ کیا قرآنِ کریم، صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روشنی میں حضرت عیسیٰ Alaihis Salamاس وقت اپنے حقیقی دنیوی جسم کے ساتھ آسمانوں میں زندہ ہیں؟

یہ سوال صرف تاریخی نہیں، بلکہ تفسیر، عربی لغت، حدیث، عقیدہ، علمِ کلام اور علاماتِ قیامت سے براہِ راست متعلق تھا۔ مسلمانوں کا مؤقف( جس کی نمائندگی شیخ اسرار رشید کر رہے تھے) یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salamنہ قتل ہوئے، نہ انہیں پھانسی پر چڑھایا گیا ہے؛ بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیوی جسم اور روح سمیت اپنی طرف اٹھا لیا ہے۔ وہ اللہ کے حکم سے آسمانوں میں زندہ ہیں اور آخری زمانے میں نازل ہوں گے۔ اس کے مقابلے میں قادیانی مؤقف یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salamطبعی موت وفات پا چکے ہیں، نہ آسمانوں میں جسمانی طور پر زندہ ہیں اور نہ قربِ قیامت ان کا نزول ہوگا۔

مناظرے میں پیش کردہ قرآنی آیات، احادیثِ نبویہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallamاور دونوں فریقوں کے دلائل وجوابات کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد یہی نتیجہ سامنے آیا کہ شیخ اسرار رشید کا مؤقف اپنی اصل بنیاد اور استدلال کے اعتبار سے زیادہ مضبوط اور راجح ہے۔ اگرچہ قادیانی فریق نے لفظِ "توفیٰ" کے لغوی مفہوم کے حوالے سے ایک نہایت دقیق اشکال پیش کیا،تاہم وہ قرآنِ مجید کے مجموعی سیاق، سورۂ نساء میں تردید کے اسلوب، حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکے نزول سے متعلق صحیح بخاری و صحیح مسلم کی صریح احادیث، اور امتِ مسلمہ کے متوارث فہم وعمل کو اپنے مؤقف کے حق میں ہم آہنگ کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔

1۔امتِ مسلمہ کے مؤقف کا خلاصہ

جمہورِ امتِ مسلمہ کا عقیدہ مختصراً درج ذیل نکات پر مشتمل ہے:

  1. یہود نےحضرت عیسیٰ Alaihis Salamکو قتل نہیں کیا۔
  2. نہ ہی وہ آپ Alaihis Salamکو صلیب پر چڑھا سکے۔
  3. اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو ان کی سازش سے محفوظ رکھا۔
  4. پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکو اپنی طرف اٹھا لیا۔
  5. یہ رفع صرف درجات کی بلندی یا روحانی رفعت کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ روح اوردنیوی جسم سمیت حقیقی رفع ہے۔
  6. حضرت عیسیٰ Alaihis Salamاللہ تعالیٰ کے حکم سے آج بھی آسمانوں میں زندہ ہیں۔
  7. قیامت سے قبل حضرت عیسیٰ Alaihis Salamدوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے۔
  8. ان کا نزول حقیقی ہوگا، کسی دوسرے شخص کے ظہور سے استعارہ نہیں ہوگا۔
  9. نزول کے بعد وہ شریعتِ محمدی Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے مطابق فیصلے کریں گے، صلیب کو توڑیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ ختم کر دیں گے، دجال کو ہلاک کریں گے اور دنیا میں عدل و انصاف کا نظام قائم کریں گے۔
  10. اس کے بعد وہ اپنی طبعی وفات پائیں گے، اور اس طرح ان کی دنیاوی زندگی کا دورانیہ اپنے اختتام کو پہنچ جائے گا۔یہ عقیدہ کسی ایک لفظ یا کسی منفرد نص پر مبنی نہیں، بلکہ قرآنِ مجید کی آیات، احادیثِ صحیحہ، عربی زبان کے مستند اسالیب اور امتِ مسلمہ کے متوارث عمل وعقیدے کے مجموعی استدلال سے ثابت ہوتا ہے۔

2۔ اساسی دلیل ، سورۃ النساء كی آیات 157- 158

  وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا 157 بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا 158 1
  اور ان (یہود) کے اس کہنے (یعنی فخریہ دعوٰی) کی وجہ سے (بھی) کہ ہم نے اﷲ کے رسول، مریم کے بیٹے عیسٰی مسیح کو قتل کر ڈالا ہے، حالانکہ انہوں نے نہ ان کو قتل کیا اور نہ انہیں سولی چڑھایا مگر (ہوا یہ کہ) ان کے لئے (کسی کو عیسٰی Alaihis Salamکا) ہم شکل بنا دیا گیا، اور بیشک جو لوگ ان کے بارے میں اختلاف کر رہے ہیں وہ یقیناً اس (قتل کے حوالے) سے شک میں پڑے ہوئے ہیں، انہیں (حقیقتِ حال کا) کچھ بھی علم نہیں مگر یہ کہ گمان کی پیروی (کر رہے ہیں)، اور انہوں نے عیسٰی (Alaihis Salam) کو یقیناً قتل نہیں کیا، بلکہ اﷲ نے انہیں اپنی طرف (آسمان پر) اٹھا لیا، اور اﷲ غالب حکمت والا ہے۔

یہی وہ بنیادی نص ہے جس پر اس پورے مسئلے کی عمارت قائم ہے۔ اس آیت میں صرف یہ نہیں فرمایا گیا کہ یہودی اپنے ایک محدود منصوبے میں ناکام رہے، بلکہ نہایت مؤکد اور فیصلہ کن انداز میں ان کے دعوے کی تین مختلف جہات سے تردید کی گئی ہے۔

  مَا قَتَلُوْہُ    ۝
  انہوں(یہود) نے انہیں(عیسیٰ Alaihis Salamکو) قتل نہیں کیا۔
  وَمَا صَلَبُوْہُ    ۝
  اور نہ انہیں سولی چڑھایا۔
  وَمَا قَتَلُوْہُ يَقِيْنًا    ۝
  اور انہوں نے عیسٰی (Alaihis Salam) کو یقیناً قتل نہیں کیا۔

اس کے بعد قرآنِ مجید نہایت فیصلہ کن انداز میں اس حقیقت کو واضح کرتے ہوئے اصل واقعہ بیان کرتا ہے:

  بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ    ۝
  بلکہ اﷲ نے انہیں اپنی طرف (آسمان پر) اٹھا لیا۔

یہاں لفظ "بَلْ"نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ یہ محض ایک عام حرفِ عطف نہیں، بلکہ عربی زبان میں "بَلْ" سابقہ دعوے کو ردّ کرنے، اس کی نفی کرنے اور اس کے بالمقابل اصل حقیقت کو ثابت کرنے کے لیےآتا ہے۔ یہودیوں کا دعویٰ یہ تھا کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکو قتل کر دیا، صلیب پر چڑھا کر مغلوب کر دیا ۔اللہ تعالیٰ نے پہلے اس پورے دعوے کی دوٹوک نفی فرمائی، پھر "بَلْ" کے ذریعے اس کے برعکس حقیقت کو ثابت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو ان کے شر سے محفوظ فرما کر انہیں عزت و رفعت عطا کی اور اپنی بارگاہ کی طرف بلند فرما لیا۔

قادیا نی مؤقف اس قطعی دلیل کےتناظر میں نہایت کمزور اور رکیک معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ " رَفَعَهُ اللّهُ إِلَيْهِ" کا مفہوم وفات کے بعد روحانی رفعت اور رفعِ مرتبہ پر محمول کرتے ہیں ،حالانکہ اس معنی کی تائید نہ قرآنِ مجید سے ہوتی ہے اور نہ احادیث صحیحہ سے۔

مزید یہ کہ وفات کے بعد روحانی رفعت حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکے ساتھ خاص نہیں۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ارواحِ صالحین عزت، شہداء حیات اور تمام انبیائے کرام Alaihmus Salam بلند ترین مراتب و مقامات کے حامل ہیں۔ لہٰذا اگر اس آیت کا مقصود صرف یہ ہوتا کہ وفات کے بعد حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکی روح کو شرف و رفعت عطا ہوئی، تو یہ یہودیوں کے اس دعوے " انہوں نے آپ Alaihis Salam کو جسمانی طور پر مغلوب کر کے قتل کر دیا تھا" کا کوئی براہِ راست اور فیصلہ کن جواب نہ بنتا ۔ آیت کا اسلوب خود اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دعوے کی نفی کرتے ہوئے اس کے بالکل برعکس حقیقت کو ثابت فرمایا۔

علاوہ ازیں، یہودیوں کا دعویٰ حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکے ذات مبارک سے متعلق تھا کہ انہوں نے آپ Alaihis Salamکو جسمانی طور پر قتل کیا اورسولی پر چڑھا یا۔ اس کے جواب میں قرآنِ مجید نے بھی حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکی ذاتِ اقدس اور جسمِ مبارک ہی کے بارے میں حقیقت واضح کی ہے، نہ کہ محض روحانی مرتبے یا مقام کے بارے میں۔

پھر لفظ "عیسیٰ" کا اطلاق مکمل شخصیت یعنی جسم وروح دونوں پر ہوتا ہے ۔ الا یہ کہ سیاق و سباق میں کوئی واضح قرینہ موجود ہو جو اس لفظ کے اطلاق کو صرف روح تک محدود کر دے۔ جبکہ یہاں پر ایسا کوئی قرینہ موجود نہیں ہے۔

لہٰذا شیخ اسرار رشید کا "بَل رَّفَعَهُ اللّهُ إِلَيْهِ"سے استدلال نہایت مضبوط اور علمی بنیادوں پر قائم ہے۔ آیت کی نحوی ساخت، اسلوبِ بیان اور سیاق و سباق اس حقیقت کی طرف واضح رہنمائی کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے دعوے کی مکمل اور فیصلہ کن تردید فرمائی ہے۔ اسی بنا پر یہ آیت قادیانی مؤقف کا بھی ردّ کرتی ہے، کیونکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکو ان کے دشمنوں کے تسلط سے محفوظ رکھتے ہوئے دنیوی جسم سمیت اپنی طرف اٹھا لیا ہے۔

3۔ سورۃ آل عمران كی آیت نمبر 3: 55

  إِذْ قَالَ اللَّهُ يَاعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا.....55 2
  جب اﷲ نے فرمایا: اے عیسٰی! بیشک میں تمہیں پوری عمر تک پہنچانے والا ہوں اور تمہیں اپنی طرف (آسمان پر) اٹھانے والا ہوں اور تمہیں کافروں سے نجات دلانے والا ہوں۔۔۔

قادیانی مؤقف کی پوری بنیاد تقریباً اس ایک لفظ "مُتَوَفِّيْكَ" پر قائم ہے۔ ان کا دعویٰ یہ ہے کہ جب بھی قرآنِ مجید میں کسی انسان کے لیے "توفیٰ" کا لفظ استعمال ہوتا ہے تو اس سے مراد یا تو موت کے وقت روح قبض کرنا ہوتا ہے یا نیند کی حالت میں روح کو اپنے قبضے میں لینا۔ اسی بنا پر وہ یہ استدلال کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salam بھی وفات پا چکے ہیں۔

تاہم ان کا یہ استدلال ناقص ہے۔کیونکہ لفظ "توفیٰ" ہر مقام پر روح قبض کرنے کے معنی میں نہیں آتا، بلکہ لفظ "توفیٰ" کا لغوی مفہوم کسی چیز کو پورے طور پر اپنے قبضے میں لے لینا، مکمل طور پر وصول کر لینا یا پوری طرح حاصل کر لینا ہے۔ پھر سیاق و سباق کے اعتبار سے اس کا مصداق مختلف ہو سکتا ہے؛ کبھی اس سے موت مراد ہوتی ہے، کبھی نیند، اور کبھی کسی شخص کو مکمل طور پر اپنی تحویل میں لے لینا۔ اسی لیے سورۂ آلِ عمران کی آیت میں "مُتَوَفِّيكَ" پر بات ختم نہیں ہوتی، بلکہ اس کے فوراً بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

  وَرَافِعُكَ إِلَيَّ    ۝
  اور تمہیں اپنی طرف (آسمان پر) اٹھانے والا ہوں۔
  وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا    ۝
  اور تمہیں کافروں سے نجات دلانے والا ہوں۔

یہ تینوں تعبیرات مل کر اللہ تعالیٰ کی جانب سے حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکی نجات اور حفاظت کوایک جامع اور مربوط انداز میں بیان کرتی ہیں:

  1. اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکو مکمل طور پر، یعنی جسم و روح سمیت، اپنی تحویل میں لے لیتا ہے۔
  2. پھر انہیں اپنی بارگاہ کی طرف بلند فرما دیتا ہے۔
  3. اور انہیں کافروں کے تسلط، ایذا رسانی سے مکمل طور پر محفوظ کر دیتا ہے۔

اگر "مُتَوَفِّيْكَ" کو " رَافِعُكَ اِلَيَّ" سے الگ کر کے دیکھا جائے تو آیت کو طبعی موت پر محمول کیا جا سکتا ہے۔ لیکن جب پوری آیت کو ایک مربوط اور مسلسل الہٰی وعدے کے طور پر پڑھا جائے تو اس کا مفہوم بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکو دشمنوں سے نجات عطا کرنے، ان کی دسترس سے محفوظ کر لینے اور اپنی بارگاہ کی طرف بلند فرما دینے کا اعلان کر رہا ہے۔ جبکہ قادیا نی مؤقف اور استدلال متعدد اجزاء پر مشتمل ایک جامع قرآنی بیان کو محض ایک لفظ کی بحث تک محدود کر دیتا ہے۔ لہذا آیت کے باقی اجزاء کو نظر انداز کر کے اس ایک لفظ پر استدلال نہیں کیا جاسکتا ۔

4۔ لفظِ "توفی" کا معنی قرآنِ مجید کے اسلوب میں

قادیا نی اپنے مؤقف کی تائید میں سورۂ زمر کی آیت بطورِ دلیل پیش کرتے ہیں:

  اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا.....42 3
  اللہ جانوں کو اُن کی موت کے وقت قبض کر لیتا ہے اور اُن (جانوں) کو جنہیں موت نہیں آئی ہے اُن کی نیند کی حالت میں۔۔۔

یہ آیت بلاشبہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ قرآنِ مجید میں لفظ"توفیٰ" موت اور نیند، دونوں معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ لیکن اس سے یہ ہرگز لازم نہیں آتا کہ یہ لفظ اپنے اصل لغوی مفہوم، یعنی کسی چیز کو مکمل طور پر اپنی تحویل میں لے لینے، کے لیے کسی دوسرے سیاق میں استعمال نہیں ہو سکتا۔ بلکہ خود یہی آیت اس حقیقت کی شاہد ہے کہ"توفیٰ" ہر مقام پر موت کا ہم معنی نہیں ہے، کیونکہ اسی آیت میں یہی لفظ نیند کے لیے بھی استعمال ہوا ہے۔

لہٰذا قادیا نیوں کا یہ استدلال درست نہیں کہ لفظ"توفیٰ" ہمیشہ موت ہی کے معنی میں آتا ہے، کیونکہ ان کی اپنی پیش کردہ دلیل اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ یہ لفظ نیند کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ جب یہ تسلیم ہو گیا کہ لفظ"توفیٰ" کا معنی سیاق و سباق کے تابع ہے، تو سوال یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکے بارے میں وارد آیت میں اس کا صحیح مفہوم کیا ہے؟ اس مقام کا سیاق کسی انسان کی طبعی موت کا نہیں، بلکہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکو قتل اور صلیب دینے کی کوشش، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی نجات، اپنی بارگاہ کی طرف ان کے اٹھائے جانے، اور انہیں کافروں کے تسلط اور ایذا سے مکمل طور پر محفوظ و پاک کر دینے کا ہے۔ یہی مجموعی سیاق اس آیت کے صحیح مفہوم کا تعیین کرتا ہے۔

لہٰذا اسلامی مؤقف زیادہ مضبوط، سیاق سے ہم آہنگ اور قرآنی اسلوب کے مطابق ہے۔ سورۂ آلِ عمران (3:55) میں "مُتَوَفِّيْكَ"کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکو ان کی کامل ذات، یعنی جسم و روح سمیت، دشمنوں کی دسترس سے محفوظ کرتے ہوئے اپنی تحویل میں لے لیا، جبکہ " رَافِعُكَ اِلَيَّ" تحویل میں لینے کی نوعیت، سمت کو واضح کرتا ہے؛ یعنی اللہ تعالیٰ نے انہیں عزت و تکریم کے ساتھ اپنی بارگاہ کی طرف بلند فرما دیا۔

5۔ قادیا نیوں کا "تیسرے معنی" والا اعتراض کیوں درست نہیں؟

مناظرے میں قادیا نی فریق کی جانب سے ایک اہم اعتراض یہ پیش کیا گیا کہ قرآن، صحیح بخاری یا صحیح مسلم میں ایک بھی ایسی جگہ دکھائیں جہاں لفظ"توفیٰ" کے معنی جسمانی طور پر آسمان پر اٹھا لیے جانے کے ہوں۔

بظاہر یہ اعتراض نہایت مضبوط معلوم ہوتا ہے، لیکن اس کا گہرائی سے جائزہ لینے پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ فیصلہ کن دلیل نہیں بنتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اہلِ اسلام کا مؤقف ہرگز یہ نہیں کہ لفظ"توفیٰ" اپنے لغوی مفہوم کے اعتبار سے ہر جگہ "جسم وروح سمیت آسمان پر اٹھا ئے جانے " کے معنی دیتا ہے۔ بلکہ اہلِ اسلام کا مؤقف یہ ہے کہ لفظ"توفیٰ" اس آیت میں ایک جامع اور مربوط الہٰی وعدے کا حصہ ہے:

  ..... إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا.....55 4
  بیشک میں تمہیں پوری عمر تک پہنچانے والا ہوں اور تمہیں اپنی طرف (آسمان پر) اٹھانے والا ہوں اور تمہیں کافروں سے نجات دلانے والا ہوں۔۔۔

لہٰذا حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکے جسمانی رفع کا اثبات صرف "مُتَوَفِّيْكَ "سے نہیں، بلکہ متعدد قرآنی اور احادیث نبویہ کے مجموعے سے ہوتا ہے، جن میں یہ امور شامل ہیں:

  • حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکو قتل کرنے اور صلیب دینے کی یہودیوں کی کوشش۔
  • اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس دعوے کی صریح اور قطعی نفی۔
  • سورۂ نساء (4:158) میں "بَلْ" کے ذریعے یہودیوں کے دعوے کی تردید۔
  • "بَل رَّفَعَهُ اللّهُ إِلَيْهِ" کا واضح اعلان۔
  • سورۂ آلِ عمران میں "وَرَافِعُكَ إِلَيَّ" کا ارشاد۔
  • کافروں کے تسلط اور ایذا سے حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکو مکمل طور پر پاک اور محفوظ کر دینے کا وعدہ۔
  • آخری زمانے میں حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکے نزول سے متعلق متواتر احادیث۔
  • اور ان احادیث میں رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی جانب سے حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکے آخری زمانے کے کردار کی صریح وضاحت۔

اس بنا پر قادیانی اعتراض درحقیقت اہلِ اسلام کے اصل استدلال پر وارد نہیں ہوتا، بلکہ وہ اس کے ایک سادہ اور محدود تصور کو ہدف بناتا ہے۔ جبکہ اہلِ اسلام کا استدلال اس ایک لفظ پر نہیں، بلکہ قرآنِ مجید کے سیاق، متعدد آیات، صحیح احادیث اور مجموعی شرعی دلائل کے باہمی ربط پر قائم ہے۔

6۔ سورۂ مائدہ كی آیت 117اور "دو ادوار" سے استدلال

قادیا نی فریق کی جانب سے مناظرے کے دوران بار بار حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکے اس ارشاد کو بطورِ دلیل پیش کیا، جو وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کریں گے:

  مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَا أَمَرْتَنِي بِهِ أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ 117 5
  میں نے انہیں سوائے اس (بات) کے کچھ نہیں کہا تھا جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ تم (صرف) اﷲ کی عبادت کیا کرو جو میرا (بھی) رب ہے اور تمہارا(بھی) رب ہے، اور میں ان (کے عقائد و اعمال) پر (اس وقت تک) خبردار رہا جب تک میں ان لوگوں میں موجود رہا، پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان (کے حالات) پر نگہبان تھا، اور تو ہر چیز پر گواہ ہے۔

قادیا نی استدلال یہ ہے کہ اس آیت میں حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکی زندگی کے صرف دو ادوار بیان کیے گئے ہیں:

  1. ایک دور وہ تھا جب حضرت عیسیٰ Alaihis Salamاپنی قوم کے درمیان موجود تھے اور ان کے اعمال پر گواہ تھے۔
  2. دوسرا دور وہ ہے جب اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی تحویل میں لے لیا، جس کے بعد ان کی قوم پر نگہبانی صرف اللہ تعالیٰ کی رہی۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر حضرت عیسیٰ Alaihis Salamآسمان پر زندہ ہوتے، تو ان کی زندگی کا ایک تیسرا دور بھی بیان ہونا چاہیے تھا، یعنی آسمان پر زندہ رہنے کا زمانہ۔ چونکہ آیت میں اس کا ذکر نہیں، اس لیے ان کے نزدیک اس سے وفات ثابت ہوتی ہے۔ لیکن یہ استدلال متعدد وجوہ کی بنا پرباطل اور بے بنیاد ہے:

پہلی وجہ

"ان کے درمیان" سے مراد دنیا میں اپنی قوم کے درمیان موجود ہونا ہے۔ قرآنِ کریم میں حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکا یہ ارشاد مذکور ہے:

  مَا دُمْتُ فِيهِمْ    ۝
  جب تک میں ان لوگوں میں موجود رہا۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ "جب تک میں کہیں بھی موجود رہا"، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ جب تک حضرت عیسیٰ Alaihis Salamاپنی قوم کے درمیان جسمانی طور پر موجود رہے اور براہِ راست ان کی ہدایت و اصلاح کا فریضہ انجام دیتے رہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا تو وہ اپنی قوم کے درمیان اس دنیاوی تبلیغی حیثیت سے موجود نہ رہے۔ اس لیے، خواہ وہ آسمان پر زندہ ہوں یا نہ ہوں، وہ اپنی قوم کے درمیان براہِ راست گواہ کی حیثیت سے باقی نہیں رہے۔ لہٰذا یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salamاپنی قوم سے جدا ہوگئے نہ کہ وفات پا گئے۔

دوسری وجہ

"تَوَفَّيْتَنِيْ"کا مفہوم بھی سیاق کے تابع ہے۔ اس آیت میں "تَوَفَّيْتَنِيْ" کا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ "آپ نے مجھے پوری طرح اپنی طرف اٹھا لیا" یا "آپ نے مجھے ان لوگوں سے جدا کر دیا"۔ ضروری نہیں کہ اس سے یہی مراد ہو کہ "آپ نے مجھے قیامت سے پہلے طبعی موت دے دی"۔کیونکہ اس لفظ کا مفہوم سیاق و سباق کے مطابق متعین ہوتا ہے۔

تیسری وجہ

صحیح بخاری میں نبی کریم Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے قیامت کے دن اپنی امت کے ان لوگوں کے بارے میں یہی آیت تلاوت فرمائی ہے جنہیں آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے سامنے لایا جائے گا، لیکن پھر ان کی بدعات اور خرافات کی وجہ سے، جو انہوں نے آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے بعد دین میں پیدا کیں، آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam سے دور ہٹا دیئے جائیں گے۔ اس موقع پر رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam بھی حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکی طرح اپنی ذمہ داری کی حد بیان کرتے ہوئے فرمائیں گے6

  ..... وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ.....117 7
  اور میں ان (کے عقائد و اعمال) پر (اس وقت تک) خبردار رہا جب تک میں ان لوگوں میں موجود رہا، پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان (کے حالات) پر نگہبان تھا۔

قادیانی حضرات اس سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ چونکہ رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے اس آیت کو اپنی وفات کے بعد اپنے بارے میں بیان فرمایا، اس لیے حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکے بارے میں بھی " تَوَفَّيْتَنِيْ"سے مراد موت ہی ہوگی۔ لیکن یہ استدلال محلِ نظر ہے۔

درحقیقت رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam اس آیت کو ذمہ داری اور قوم سے جدائی کے ایک مشترک پہلو کے طور پر نقل فرما رہے ہیں۔ یعنی جب تک آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam اپنی امت کے درمیان موجود رہے، ان کے اعمال پر گواہ تھے، اور جب ان سے جدا ہوگئے تو ان کے بعد کے اعمال کا علم اور نگرانی صرف اللہ تعالیٰ کے سپرد رہی۔ اس حدیث میں یہ کہیں نہیں کہا گیا کہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salamاور رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے حالات ہر اعتبار سے یکساں تھے، بلکہ صرف یہ مماثلت بیان کی گئی ہے کہ دونوں انبیائے کرام Alaihmas Salamاپنی قوموں کے درمیان موجودگی کے دوران ان پر گواہ تھے، اور اپنی قوم سے جدا ہونے کے بعد براہِ راست دنیاوی نگرانی کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ چنانچہ حدیث کے آخری الفاظ اسی مفہوم کو واضح کرتے ہیں:

  مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ.
  جب سے آپ ان سے جدا ہوئے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کا اصل موضوع قوم سے جدائی ہے، نہ کہ یہ ثابت کرنا کہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکی طبعی وفات واقع ہو چکی تھی۔ رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکے اس ارشاد کو اس لیے نقل فرمایا کہ دونوں انبیائے کرام اپنی قوموں پر اس وقت تک گواہ رہے جب تک وہ ان کے درمیان موجود تھے، اور جب وہ براہِ راست نگرانی سے جدا ہوگئے تو ان پر حقیقی نگہبان صرف اللہ تعالیٰ رہا۔ البتہ دونوں کی جدائی کی نوعیت مختلف تھی: رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam اپنی وفات کے ذریعے اپنی امت سے جدا ہوئے، جبکہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکو اللہ تعالیٰ نے آسمان کی طرف اٹھا لیا۔ لہٰذا یہ حدیث دونوں کے منصبِ شہادت میں مماثلت کو ثابت کرتی ہے، نہ کہ ان کی جدائی کی کیفیت کو ایک جیسا قرار دیتی ہے۔لہذا صحیح بخاری (حدیث: 4625) سے قادیانی مؤقف ثابت نہیں ہوتا۔

7۔ سورۃ النساء كی آیت 159 كی وضاحت

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

  وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا 1598
  اور (قربِ قیامت نزولِ مسیح Alaihis Salamکے وقت) اہلِ کتاب میں سے کوئی (فرد یا فرقہ) نہ رہے گا مگر وہ عیسٰی (Alaihis Salam) پر ان کی موت سے پہلے ضرور (صحیح طریقے سے) ایمان لے آئے گا، اور قیامت کے دن عیسٰی (Alaihis Salam) ان پر گواہ ہوں گے۔

یہ آیت اس بیان کے فوراً بعد آئی ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ یہودی نہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکو قتل کر سکے اور نہ انہیں سولی پر چڑھاسکے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا۔ جمہور اہلِ اسلام کے نزدیک اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salamجب آخری زمانے میں دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کی وفات سے پہلے تمام اہلِ کتاب ان پر صحیح ایمان لے آئیں گے۔ اس وقت یہودی ان کی نبوت کے منکر نہیں رہیں گے اور عیسائی انہیں خدا یا خدا کا بیٹا قرار دینے کے بجائے اللہ کا سچا رسول مانیں گے۔ یہی مفہوم ان صحیح احادیث سے بھی پوری طرح ہم آہنگ ہے جن میں بیان ہوا ہے کہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salamنزول کے بعد صلیب کو توڑیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے اور عدل و انصاف کے ساتھ حکومت کریں گے۔

اس کے برعکس، قادیانی حضرات اس آیت میں " قَبْلَ مَوْتِہٖ" سے اہلِ کتاب کے ہر فرد کی موت مراد لیتے ہیں، حالانکہ سیاق وسباق کے اعتبار سے یہ تعبیر درست نہیں ہے۔کیونکہ پوری گفتگو حضرت عیسیٰ Alaihis Salamہی کے بارے میں ہے، ان کے متعلق یہودیوں کے دعوے، یہود کا آپ Alaihis Salam کوقتل نہ کر سکنا، اللہ تعالیٰ کا انہیں اپنی طرف اٹھا لینا، اور پھر قیامت کے دن انہی کا اہلِ کتاب کے خلاف گواہ بننا ہے۔ اس لیے قرینِ قیاس یہی ہے کہ آیت میں آنے والی ضمیریں بھی اسی مرکزی شخصیت، یعنی حضرت عیسیٰ Alaihis Salam ، کی طرف راجع ہوں۔

مزید برآں، حضرت ابوہریرہ Radi Allah Anhoنے صحیح بخاری میں حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکے نزول سے متعلق حدیث روایت کرنے کے بعد اسی آیت کی تلاوت فرمائی:

  وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ……159
  اور (قربِ قیامت نزولِ مسیح Alaihis Salamکے وقت) اہلِ کتاب میں سے کوئی (فرد یا فرقہ) نہ رہے گا مگر وہ عیسٰی (Alaihis Salam) پر ان کی موت سے پہلے ضرور (صحیح طریقے سے) ایمان لے آئے گا۔

اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابوہریرہ Radi Allah Anho نے اس آیت کو حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکے آئندہ نزول سے متعلق سمجھا، نہ کہ ماضی میں ان کی وفات سے متعلق ۔ یہ تشریح اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکے نزول کے بعد، ان کی وفات سے پہلے، اہلِ کتاب ان کے بارے میں حق بات کو پہچان لیں گے۔ یوں ایک جلیل القدر صحابی کی یہی تفہیم جمہور امت کے اس مؤقف کی مؤید ہے کہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salamزندہ آسمان پر اٹھائے گئے، قیامت سے پہلے دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے، اور پھر اپنی دنیاوی زندگی کی تکمیل کے بعد ان کی وفات واقع ہوگی۔

8۔ سورۃ الزخرف كی آیت 61 سے استدلال

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

  وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُونِ هَذَا صِرَاطٌ مُسْتَقِيمٌ 619
  اور بیشک وہ (عیسٰی Alaihis Salamجب آسمان سے نزول کریں گے تو قربِ) قیامت کی علامت ہوں گے، پس تم ہرگز اس میں شک نہ کرنا اور میری پیروی کرتے رہنا، یہ سیدھا راستہ ہے۔

جمہور مفسرین کے نزدیک اس آیت میں ضمیر (إنـه)حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکی طرف راجع ہے، اور اس سے مراد یہ ہے کہ آپ Alaihis Salamکا آخری زمانے میں آسمان سے نزول، قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک ہوگا۔ یہی مفہوم ان متعدد صحیح احادیث کے بھی عین مطابق ہے جن میں قیامت سے قبل حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکے نزول کا واضح ذکر ملتا ہے۔

اس کے برعکس، قادیانی حضرات اس آیت کی تاویل کرتے ہوئے یا تو اسے مجازی معنی پر محمول کرتے ہیں یا اس کا مصداق مرزا غلام احمد کو قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم یہ تعبیر نہ تو آیت کے سیاق و سباق سےہم آہنگ ہے اور نہ ہی قرآن کے اسلوب سے مطابقت رکھتی ہے۔ پوری گفتگو ایک ایسی ہستی کے بارے میں ہے جس کا قرآنِ کریم میں بار بار واضح نام اور تعارف کے ساتھ ذکر ہوا ہے، یعنی حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام۔ اس لیے آیت میں وارد ضمیر کو اس معروف قرآنی مرجع سے ہٹا کر کسی بعد کے مدعی پر محمول کرنا قرآنی متن میں خارجی اعتقادی مفروضے کو شامل کرنے کے مترادف ہے۔

مزید یہ کہ صحیح احادیث سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس سے مراد حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکا قربِ قیامت میں حقیقی نزول ہے۔لہٰذا اس آیت کے مفہوم کو حضرت عیسیٰ Alaihis Salamسے ہٹا کر کسی بعد کے مدعی کی طرف منتقل کرنا قرآن و سنت کا ظاہر مفہوم نہیں، بلکہ پہلے سے اختیار کیے گئے ایک مخصوص نظریے کی بنیاد پر کی گئی ایک بعید تاویل ہے۔

9۔ صحیح بخاری میں حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکے نزول سے متعلق حدیث

حضرت ابوہریرہ Radi Allah Anho سے روایت ہے کہ رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے فرمایا:

  وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُوشِكَنَّ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمُ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا عَدْلًا، فَيَكْسِرَ الصَّلِيبَ، وَيَقْتُلَ الْخِنْزِيرَ، وَيَضَعَ الْجِزْيَةَ، وَيَفِيضَ الْمَالُ حَتَّى لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ. 10
  اس ذات کی قسم جس کے قبضےمیں میری جان ہے! عنقریب ابنِ مریم تمہارے درمیان ایک عادل حاکم کی حیثیت سے نازل ہوں گے۔ وہ صلیب کو توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ موقوف کر دیں گے، اور مال اس قدر فراوان ہو جائے گا کہ اسے قبول کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔

یہ حدیث کئی پہلوؤں سے قادیانی مؤقف کی تردید کرتی ہے۔

سب سے پہلی بات یہ ہے کہ حدیث کے الفاظ ہیں:

  يَنْزِلُ فِيكُمُ ابْنُ مَرْيَمَ.
  ابنِ مریم تمہارے درمیان نازل ہوں گے۔

اس میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکی صفات کا حامل کوئی شخص ہندوستان میں پیدا ہوگا، بلکہ واضح الفاظ میں ابنِ مریم کے نزول کی خبر دی گئی ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ "ابنِ مریم" کا لقب اسی تاریخی شخصیت، حضرت عیسیٰ Alaihis Salam ، کی تعیین کرتا ہے جن کا ذکر قرآنِ کریم میں بار بار آیا ہے، نہ کہ کسی مجازی یا تمثیلی شخص کا۔

تیسری بات یہ ہے کہ حدیث میں جن امور کا ذکر کیا گیا ہے، وہ سب خارجی اور عملی واقعات ہیں:

  • آپ Alaihis Salamعدل کے ساتھ حکومت کریں گے۔
  • صلیب کو توڑیں گے۔
  • خنزیر کو قتل کریں گے۔
  • جزیہ موقوف کر دیں گے۔
  • اور مال و دولت اس قدر عام ہو جائے گی کہ کوئی اسے لینے والا نہ ہوگا۔

یہ سب رمزی اشارات یا تعبیرات نہیں ، بلکہ ایسے واقعات ہیں جو کھلے عام رونما ہوں گے۔

اسی مضمون کی ایک اور روایت صحیح بخاری میں ان الفاظ کے ساتھ وارد ہوئی ہے:

  كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيكُمْ وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ۔11
  تمہارا کیا حال ہوگا جب ابنِ مریم تمہارے درمیان نازل ہوں گے اور تمہارا امام تم ہی میں سے ہوگا؟

یہاں بھی الفاظ نہایت واضح ہیں: "نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ " ، یعنی "ابنِ مریم نازل ہوں گے"۔

اس تعبیر سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مراد وہی حضرت عیسیٰ بن مریم Alaihmas Salam ہیں جن کا ذکر قرآنِ کریم میں ہے، نہ کہ ان کے اوصاف سے مشابہ کوئی بعد کا مدعی۔ لہٰذا حدیث کا اسلوب کسی مجازی بعثت یا روحانی ظہور کا نہیں، بلکہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکے حقیقی نزول کی صریح خبر دیتا ہے۔

10۔ صحیح مسلم میں سفید مینار والی حدیث

صحیح مسلم میں دجال اور حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکے نزول کے متعلق مشہور روایت مذکور ہے:

  فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ، فَيَنْزِلُ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ شَرْقِيَّ دِمَشْقَ، بَيْنَ مَهْرُودَتَيْنِ، وَاضِعًا كَفَّيْهِ عَلَى أَجْنِحَةِ مَلَكَيْنِ، إِذَا طَأْطَأَ رَأْسَهُ قَطَرَ، وَإِذَا رَفَعَهُ تَحَدَّرَ مِنْهُ جُمَانٌ كَاللُّؤْلُؤِ.....12
  اسی دوران اللہ تعالیٰ مسیح، ابنِ مریم، کو بھیجیں گے۔ وہ دمشق کے مشرق میں واقع سفید مینار کے قریب نازل ہوں گے، دو ہلکے زرد رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے ہوں گے، اور اپنے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے پروں پر رکھے ہوں گے۔ جب وہ اپنا سر جھکائیں گے تو اس سے پانی کے قطرے ٹپکیں گے، اور جب سر اٹھائیں گے تو اس سے موتیوں کی مانند چمکتے ہوئے قطرے جھڑیں گے۔

یہ روایت اس مسئلے پر سب سے زیادہ صریح اور واضح دلیل ہے، کیونکہ اس میں نہایت تفصیل کے ساتھ حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکے نزول کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس حدیث میں:

  • مسیح کو بھیجنا۔
  • "ابنِ مریم" کا لقب۔
  • ان کا نزول۔
  • ایک متعین جغرافیائی مقام یعنی دمشق کے مشرق میں واقع سفید مینار۔
  • ان کا لباس۔
  • دو فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھنا۔
  • ان کی جسمانی کیفیت۔
  • اور پھرمقام لُد کے مقام پر دجال کو قتل کرنے تک تمام تفصیلات مذکور ہیں۔

ان واضح تصریحات کے باوجود اس حدیث کو مرزا غلام احمد قادیانی پر منطبق کرنا نہ عقلاً درست ہے اور نہ ظاہری نصوص کے مطابق ہے۔ قادیان، دمشق نہیں ہے؛ مرزا غلام احمد دمشق کے مشرق میں سفید مینار کے پاس نازل نہیں ہوئے؛ نہ وہ دو فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھ کر آسمان سے اترے، اور نہ ہی انہوں نے بابِ لُد پر دجال کو قتل کیا۔ اسی لیے اس مقام پر قادیانی تعبیر شدید تکلف کا شکار دکھائی دیتی ہے، کیونکہ وہ اس حدیث میں مذکور واضح جغرافیائی مقامات، جسمانی اوصاف اور خارجی واقعات کو محض علامتی اور مجازی معانی پر محمول کرتے ہیں، جبکہ اپنے دعووں کو تاریخی واقعات کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ لہذا یہ طرزِ استدلال کسی طور پر بھی درست نہیں ہے۔اور اگر اس حدیث میں مذکور صریح جغرافیائی اور جسمانی تفصیلات کو بھی محض استعارہ قرار دے دیا جائے تو پھر نبی کریم Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی بیان کردہ پوری تفصیل اپنی ظاہری دلالت کھو بیٹھتی ہے۔ اسی بنا پر شیخ اسرار راشد کا یہ کہنا درست ہے کہ دمشق کے سفید مینار سے متعلق صحیح مسلم کی یہ حدیث قادیانی مؤقف کے لیے ایک بنیادی اور نہایت مضبوط اشکال کی حیثیت رکھتی ہے۔

11۔ واقعۂ معراج کی روایات اور حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکا آسمانوں میں وجود

واقعۂ معراج سے متعلق صحیح احادیث میں مذکور ہے کہ رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے اپنے آسمانی سفر کے دوران مختلف آسمانوں میں متعدد انبیائے کرام Alaihmus Salam سے ملاقات فرمائی، جن میں حضرت عیسیٰ اور حضرت یحییٰ Alaihmas Salam بھی شامل تھے۔

اگرچہ اس روایت کے الفاظ اس بات کو ثابت نہیں کرتی کہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salamجسم وروح سمیت آسمان پر اٹھائے گئے ہیں، کیونکہ دوسرے انبیائے کرام Alaihmus Salam بھی وفات کے بعد آسمانوں میں رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کو دکھائے گئے تھے۔ تاہم اس سے ایک نہایت اہم حقیقت ضرور ثابت ہوتی ہے، اور وہ یہ کہ اسلامی عقیدے کی رو سے آسمانوں میں موجود ہونا یا وہاں کسی ہستی کا وجود رکھنا کوئی عقلی محال یا ناممکن امر نہیں۔ خود رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کو شبِ معراج میں آسمانوں کی سیر کرائی گئی، آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے وہاں انبیائے کرام Alaihmus Salam سے ملاقات فرمائی۔ لہٰذا قادیانی حضرات کا یہ دعویٰ کہ کسی نبی کا جسمانی طور پر آسمانوں میں موجود ہونا عقلاً ناممکن یا غیر معقول ہے، اسلامی تصورِ کائنات اور نصوصِ شرعیہ کی روشنی میں سراسر بے بنیاد ہے۔

سوال یہ نہیں کہ کیا اللہ تعالیٰ کسی نبی کو آسمانوں میں زندہ محفوظ رکھنے پر قادر ہے؟ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ "کیا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے ہمیں یہ خبر دی ہے کہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکے ساتھ ایسا ہی ہوا تھا؟چنانچہ قرآنِ مجید اور احادیثِ نبویہ کا مجموعی مفہوم، جیسا کہ سابقہ دلائل میں واضح کیا جا چکا ہے، اسی حقیقت کی تائید کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکو اپنی طرف اٹھایا اور آسمانوں میں محفوظ رکھا ہے۔

12۔ اللہ تعالیٰ کسی مکان کا محتاج نہیں (اعتراض)

قادیانی حضرات یہ اعتراض کرتے ہیں جو درحقیقت علمِ کلام سے متعلق ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی مکان یا جہت میں موجود نہیں، تو قرآن میں مذکور "اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ Alaihis Salamکو اپنی طرف اٹھا لیا" سے جسمانی طور پر آسمان پر اٹھایا جانا کیسے مراد لیا جا سکتا ہے؟

درحقیقت یہ اعتراض مسلمانوں کے مؤقف کو صحیح طور پر سمجھے بغیر کیا جاتا ہے۔ اہلِ اسلام ہرگز یہ عقیدہ نہیں رکھتے کہ اللہ تعالیٰ کوئی جسم ہے جو کسی خاص جگہ میں محدود ہو، یا حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکو اس مقام تک پہنچا دیا گیا جہاں اللہ تعالیٰ موجود ہے۔ بلکہ مسلمانوں کا متفقہ عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مکان، جہت، حدود، جسمانیت اور ہر قسم کی انسانی قیودات سے پاک ہے۔قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:

  رَفَعَهُ اللّهُ إِلَيْهِ    ۝
  اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا۔

اگرچہ یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکو حقیقتاً اٹھایا گیا ہے، لیکن اس کی وجہ سے اس عقیدے پر کوئی آنچ نہیں آتی کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی مکانی اور جسمانی نسبت سے پاک ہے۔کیونکہ قرآنِ مجید متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ کی شان کے مطابق ایسے اسالیب اختیار کرتا ہے جن سے اس کی عظمت، قرب اور خصوصی عنایت کا اظہار مقصود ہوتا ہے، نہ کہ اسے کسی جسم یا مکان میں محدود قرار دینا۔ لہٰذا "اپنی طرف اٹھانا" اس اعتبار سے حقیقی رفع ہے۔ جبکہ "اپنی طرف" سے مراد اللہ تعالیٰ کی خصوصی قربت، اور یہ اسی شان کے مطابق ہے جو اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریائی کے لائق ہے۔ اس لیے مسلمانوں کا عقیدہ کسی قسم کے تشبیہ یا تجسیم کو لازم نہیں ٹھہراتا، بلکہ صرف اس حقیقت پر ایمان کا تقاضا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکو جس کیفیت اور جس انداز سے چاہا، اپنی قدرت سے اپنی طرف اٹھا لیا۔

13۔ سورۂ آلِ عمران (3: 144) سے استدلال

قادیانی حضرات اپنے مؤقف کے حق میں سورۂ آلِ عمران کی اس آیت سے بھی استدلال کرتے ہیں:

  وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ …..144 13
  اور محمد (Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam بھی تو) رسول ہی ہیں (نہ کہ خدا)، آپ سے پہلے بھی کئی پیغمبر (مصائب اور تکلیفیں جھیلتے ہوئے اس دنیا سے) گزر چکے ہیں۔۔۔

قادیانیوں کا کہنا ہے کہ چونکہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salamبھی رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam سے پہلے مبعوث ہونے والے رسولوں میں شامل ہیں، اس لیے وہ بھی لازماً ان رسولوں میں داخل ہیں جو "گزر چکے" ہیں، یعنی وفات پا چکے ہیں۔ لیکن یہ استدلال درست نہیں ہے ، کیونکہ اس آیت کا اصل مقصد یہ بیان کرنا ہے کہ حضرت محمد Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam اللہ کے رسول ہیں، اور اگر کسی رسول کی وفات ہو جائے تو اس سے دینِ اسلام ختم نہیں ہو جاتا۔ یہ آیت خاص طور پر غزوۂ اُحد کے پس منظر میں نازل ہوئی، جب رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی شہادت کی افواہ پھیلنے پر بعض مسلمانوں کے قدم ڈگمگانے لگے تھے۔ اس موقع پر قرآن نے واضح کیا کہ انبیائے سابقین بھی دنیا سےجا چکے ہیں، لہٰذا کسی رسول کی وفات دین کے خاتمے کا سبب نہیں بنتی۔ اس آیت کا مقصد ہر سابق نبی کی اس وقت کی حیاتیاتی کیفیت بیان کرنا نہیں ہے۔

مزید یہ کہ "قَدْ خَلَتْ "کے الفاظ کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ "وہ گزر گئے"، "اپنا زمانہ گزار چکے" یا "پہلے جا چکے"۔ اس تعبیر سے یہ بات ہرگز لازم نہیں آتی کہ ہر ایک رسول نے رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی بعثت سے پہلے عام انسانوں کی طرح وفات ہی پائی ہے۔ اگرچہ عمومی طور پر انبیائے کرام Alaihmus Salam دنیا سے رخصت ہوتے ہیں، لیکن قرآنِ مجید خود حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکے بارے میں سورۂ نساء (آیات 157- 158) میں اس عمومی حکم سے ایک واضح استثناء بیان کرتا ہے۔

اس لیے قادیانی استدلال میں بنیادی علمی کمزوری یہ ہے کہ وہ سابقہ رسولوں کے بارے میں ایک عام حکم کو حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکے متعلق قرآن کے خاص اور صریح بیان پر غالب کرنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ اصولِ تفسیر کے مطابق عام نص کسی خاص نص کو منسوخ یا کالعدم نہیں کر سکتی۔جبکہ قرآنِ مجید نے مستقل طور پر یہ وضاحت کر دی ہے کہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salamنہ قتل کیے گئے، نہ صلیب پر چڑھائے گئے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا۔ لہٰذا سورۂ آلِ عمران کی اس عام آیت کو ان صریح اور مخصوص آیات کی روشنی میں سمجھا جائے گا، نہ کہ ان کے برخلاف۔

14۔ ہرنفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے (استدلال)

قادیانی حضرات اپنے مؤقف کے حق میں قرآنِ کریم کی اس آیت سے بھی استدلال کرتے ہیں:

  كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ…..18514
  ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے۔

یہ آیت بالکل حق ہے اور تمام مسلمان اس پر کامل ایمان رکھتے ہیں۔ اہلِ اسلام ہرگز اس بات کے منکر نہیں کہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکو بھی ایک دن موت آئے گی۔ مزید یہ کہ مسلمانوں کا عقیدہ یہ بھی نہیں کہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salamہمیشہ ہمیشہ کے لیے زندہ ہیں یا انہیں کبھی موت نہیں آئے گی۔ بلکہ اہلِ اسلام کا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکو اللہ تعالیٰ نے زندہ آسمان پر اٹھا لیا ہے، مگر ابھی ان کی دنیاوی زندگی کا اختتام نہیں ہوا۔ وہ قیامت سے قبل دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے، اپنی ذمہ داریوں کو مکمل کریں گے، اور اس کے بعد دیگر انسانوں کی طرح ان پر بھی موت طاری ہوگی۔

اس بنا پر "كُلُّ نَفْسٍ ذَاىِٕقَۃُ الْمَوْتِ"مسلمانوں کے عقیدے کی تردید نہیں کرتی، بلکہ اس کی تائید کرتی ہے، کیونکہ مسلمان بھی یہی مانتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salamآخرکار موت کا ذائقہ ضرور چکھیں گے۔

15۔ سورۂ مریم كی آیت 33 سے استدلال

قرآنِ مجید میں حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکا وہ ارشاد نقل کیا گیا ہے جو آپ Alaihis Salamنے معجزانہ طور پر گہوارے میں فرمایا:

  وَالسَّلَامُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدْتُ وَيَوْمَ أَمُوتُ وَيَوْمَ أُبْعَثُ حَيًّا 33 15
  اور مجھ پر سلام ہو میرے میلاد کے دن، اور میری وفات کے دن، اور جس دن میں زندہ اٹھایا جاؤں گا۔

قادیانی حضرات اس آیت سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ اس میں حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکی زندگی کا ایک معمول کے مطابق سلسلہ بیان کیا گیا ہے: پیدائش، پھر وفات، اور اس کے بعد قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہونا۔ ان کے نزدیک اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salamدنیا میں وفات پا چکے ہیں۔

مسلمانوں کا مؤقف بھی قرآن میں موجود ترتیب کو پوری طرح تسلیم کرتا ہے لیکن فرق صرف یہ ہے کہ قرآن کی اس آیت میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salamوفات پا چکے ہیں، بلکہ فرمایا گیا ہے: "جس دن میری وفات ہوگی"۔ یہ اس واقعۂ وفات کی خبر ہے جو مستقبل میں پیش آئے گا، یعنی حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکے دوبارہ نزول کے بعد۔ اس اعتبار سے یہ آیت اہلِ اسلام کے عقیدے سے پوری طرح ہم آہنگ ہے، کیونکہ ان کے نزدیک حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکی زندگی کا تسلسل یوں ہے:

  • حضرت عیسیٰ Alaihis Salamمعجزانہ طور پر پیدا ہوئے۔
  • دشمنوں کے قتل سے محفوظ رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ اپنی طرف اٹھا لیا۔قربِ قیامت وہ دوبارہ دنیا میں نازل ہوں گے۔
  • اپنی مقررہ ذمہ داریاں مکمل کرنے کے بعد ان کی وفات ہوگی۔
  • پھر قیامت کے دن تمام انسانوں کی طرح انہیں بھی دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔

اس لیے اس آیت اور اہلِ اسلام کے عقیدے کے درمیان کوئی تعارض یا تضاد نہیں، بلکہ یہ آیت اسی عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکی پیدائش، آئندہ وفات اور روزِ قیامت دوبارہ اٹھائے جانے کے مختلف مراحل کو بیان کرتی ہے۔

16۔ روایتِ کشمیر(بڑی کمزوری)

قادیانی مؤقف میں عام طور پر ایک تاریخی روایت بھی شامل کی جاتی ہے۔ اس کے مطابق حضرت عیسیٰ Alaihis Salamصلیب سے زندہ بچ نکلے، پھر مشرق کی طرف ہجرت کی، مختلف علاقوں سے ہوتے ہوئے کشمیر پہنچے، وہاں بنی اسرائیل کے گم شدہ قبائل کو دعوتِ حق دی، تقریباً 120 سال کی عمر پائی، اور آخرکار سری نگر کے روزہ بل میں مدفون ہوئے۔لیکن اس پورے بیانیے میں کئی کمزوریاں ہیں:

اوّل: قرآنِ مجید میں اس کا کوئی ذکر نہیں

قرآنِ مجید میں نہ کشمیر کا کوئی ذکر ہے، نہ سری نگر کا، نہ روزہ بل کا، اور نہ ہی صلیب کے بعد حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکی کسی مشرقی جااب ہجرت کا کوئی بیان ملتا ہے۔

دوم: صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ایسی کوئی روایت نہیں

اس مناظرے میں جن بنیادی مصادر کو معیار تسلیم کیا گیا تھا، وہ قرآنِ مجید، صحیح بخاری اور صحیح مسلم تھے۔ کشمیر کے اس پورے نظریے کو ان میں سے کسی ایک مستند ماخذ سے بھی ثابت نہیں کیا جا سکتا۔

سوم: یہ قرآن میں مذکور اللہ تعالیٰ کی کامل حفاظت کے تصور سے متصادم ہے

اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ Alaihis Salamسے فرماتا ہے:

  وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا.....55 16
  ۔۔۔اور تمہیں کافروں سے نجات دلانے والا ہوں۔۔۔

ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

  ..... وَإِذْ كَفَفْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَنْكَ.....110 17
  ۔۔۔ اور جب میں نے بنی اسرائیل کو تمہارے (قتل) سے روک دیا تھا۔۔۔

اگر یہ مان لیا جائے کہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکو گرفتار کیا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا، صلیب پر لٹکایا گیا، شدید زخمی ہوئے، پھر علاج کے ذریعے جان بچی، اور اس کے بعد اپنی جان کے خوف سے ہزاروں میل دور مختلف ممالک سے گزرتے ہوئے کشمیر پہنچے، تو یہ منظر قرآنِ مجید میں بیان کردہ اللہ تعالیٰ کی مضبوط حفاظت، مکمل نصرت اور دشمنوں کی ناکامی سے مطابقت نہیں رکھتا۔ قرآنِ کریم حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکو ایسے شخص کے طور پر پیش نہیں کرتا جو بڑی مشکل سے دشمنوں کی سازش سے جان بچا کر فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ہوں، بلکہ وہ یہ واضح کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے براہِ راست مداخلت کرکے ان کی حفاظت فرمائی اور دشمنوں کی پوری سازش کو ناکام بنا دیا۔حتی کہ " وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ" (انہوں نے نہ انہیں قتل کیا اور نہ ہی صلیب پر چڑھایا) اور "بَل رَّفَعَهُ اللہُ إِلَيْهِ" (بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا) جیسے الفاظ صاف بتاتے ہیں کہ دشمن اپنے مقصد میں مکمل طور پر ناکام رہے؛ یہ نہیں کہ وہ رومی کسی حد تک کامیاب ہوئے اور حضرت عیسیٰ Alaihis Salamان کی اذیتیں سہنے کے بعد بمشکل جان بچا سکے۔

چہارم: تاریخی اعتبار سے یہ محض ایک قیاسی مفروضہ ہے

کشمیر کا یہ پورا نظریہ ایسی تاریخی روایات پر قائم ہے جو بعد کے ادوار میں سامنے آئیں ان کی صحت خود محلِّ نزاع ہے اوران کی کوئی بنیاد نہ قرآنِ مجید میں موجود ہے اور نہ ہی صحیح احادیث میں۔ مزید برآں، یہی فریق مسلمانوں سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنے ہر عقیدے کے لیے قرآن، صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے صریح نص پیش کریں، لیکن خود اپنے اس بنیادی نظریے کے ثبوت میں انہی مصادر سے کوئی واضح دلیل پیش نہیں کر سکتا۔ اصول کی رو سے یہ واضح دوہرا معیار ہے۔

17۔ انتخابِ لفظی کا مسئلہ (قادیانی استدلال کی بنیادی کمزوری)

قادیانی استدلال کی نمایاں کمزوریوں میں سے ایک انتخابِ لفظی ہے۔ان کا طرزِ استدلال یہ ہے کہ جہاں لفظ"تَوَفیٰ" آتا ہے، وہاں وہ اس کے صرف ایک محدود اور لغوی معنی، یعنی "وفات" مراد لیتے ہیں۔ لیکن جب احادیث میں حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکے نزول، دمشق کے مشرقی حصے میں واقع سفید مینار، دو زرد رنگ کے لباس، دو فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھ کر اترنے، دجال کے قتل، مقامِ لُدّ، اور "ابنِ مریم" جیسے واضح اور تفصیلی اوصاف کا ذکر آتا ہے تو وہ ان سب سے مجازی اور تمثیلی معانی مراد لیتے ہیں۔ حالانکہ یہ طرزِ استدلال علمی اور اصولی طور درست نہیں ہے۔بلکہ منصفانہ اور اصولی منہج یہ ہے کہ یا تو:

  • قرآن و حدیث دونوں کو ان کے ظاہری معنی پر محمول کیا جائے، الا یہ کہ کسی قطعی دلیل کی بنا پر تاویل کی ضرورت پیش آئے۔
  • یا پھر دونوں میں یکساں طور پر وہاں مجازی معنی اختیار کیے جائیں جہاں سیاق و سباق یا کوئی مضبوط دلیل اس کا تقاضا کرے۔جبکہ قادیانی مؤقف میں اکثر یہ صورت سامنے آتی ہے کہ جہاں ظاہری معنی ان کے عقیدے کی تائید کرتا ہے وہاں وہ لفظی اور ظاہری معنی مراد لیتے ہیں، اور جہاں وہی ظاہری معنی ان کے نظریے کے خلاف ہوتا ہے تو فوراً مجازی اور تمثیلی مراد لیتے ہیں۔

اس کے برعکس اہلِ اسلام کا مؤقف زیادہ ہم آہنگ اور اصولی ہے۔ سورۂ نساء کی آیات( 157-158 ) کا ظاہری مفہوم یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکو کفار کے ہاتھوں سے محفوظ رکھا اور انہیں اپنی طرف اٹھا لیا۔ اسی طرح نزولِ مسیح سے متعلق صحیح احادیث کا ظاہر بھی حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکے حقیقی نزول ہی پر دلالت کرتا ہے۔ جہاں تک ان عمومی آیات کا تعلق ہے جو ہر نفس کے موت کا ذائقہ چکھنے پر دلالت کرتی ہیں، اہلِ اسلام انہیں بھی برحق مانتے ہیں، البتہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکے حق میں ان کا اطلاق ان کے آئندہ نزول اور اس کے بعد ہونے والی وفات پر کرتے ہیں۔

18۔ کوئی صریح اورقطعی آیت (اعتراض )

مناظرے کے دوران قادیانی فریق کے ایک سائل نے یہ اعتراض کیا کہ: "کیا قرآن یا حدیث میں کوئی ایک ایسی صریح آیت یا روایت موجود ہے جس میں انہی الفاظ کے ساتھ یہ کہا گیا ہو کہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salamآج اپنے جسمِ دنیوی کے ساتھ آسمانوں میں زندہ ہیں؟

بظاہر یہ سوال نہایت مشکل معلوم ہوتا ہے، لیکن علمی اور اصولی اعتبار سے اس کی کوئی وقعت نہیں ہے۔ کیونکہ اسلامی عقائد کا اثبات ہمیشہ کسی ایک آیت یا ایک حدیث میں بعد کے متکلمین کی اختیار کردہ اصطلاحات کے ساتھ نہیں ہوتا، بلکہ متعدد نصوص کو یکجا کرکے ان کا مجموعی مفہوم اخذ کیا جاتا ہے۔ بسا اوقات قرآن کسی مسئلے کا ایک پہلو بیان کرتا ہے، حدیث اس کی مزید وضاحت کرتا ہے، امت کا اجماع اس کی تائید کرتا ہے، اور عربی زبان کے قواعد اس مفہوم کو مزید مستحکم کرتے ہیں۔ اسی مجموعی استدلال کی بنیاد پر اسلامی عقائد تشکیل پاتے ہیں۔

مثال کے طور پر نماز کی مکمل کیفیت، زکوٰۃ کی تفصیلات، حج کے بہت سے احکام، قیامت کی متعدد علامات اور عقائد کے کئی دیگر مسائل ایک ہی آیت میں اپنی تمام تفصیلات اور بعد کی علمی اصطلاحات کے ساتھ مذکور نہیں ہیں، بلکہ ان کا اثبات قرآن و سنت کی تمام متعلقہ نصوص کو جمع کرکے ہوتا ہے۔

حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکے بارے میں بھی مجموعی شرعی دلائل ایک واضح اور فیصلہ کن تصویر پیش کرتے ہیں:

  • یہود نہ آپ Alaihis Salamکو قتل کر سکے۔
  • نہ وہ انہیں صلیب پر چڑھا سکے۔
  • بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا۔
  • اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی حفاظت میں لے کر رفعت عطا فرمائی۔
  • وہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہیں۔
  • اہلِ کتاب ان کی وفات سے پہلے ان پر ایمان لے آئیں گے۔
  • رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے واضح طور پر خبر دی کہ ابنِ مریم دوبارہ نازل ہوں گے۔
  • صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ان کے مستقبل میں نزول کی متعدد صحیح روایات موجود ہیں۔
  • صحیح مسلم میں ان کے نزول کی جسمانی کیفیت اور جغرافیائی مقام کی نہایت واضح تفصیل بیان کی گئی ہے۔
  • وہ دجال کو قتل کریں گے۔
  • عدل و انصاف کے ساتھ حکومت کریں گے۔
  • اور اس کے بعد ان کی وفات ہوگی۔

ان تمام قرآنی آیات اور صحیح احادیث کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو ان سے حاصل ہونے والا مجموعی استدلال نہایت واضح، مضبوط اور فیصلہ کن ہے۔ لہٰذا یہ مطالبہ کرنا کہ پورا عقیدہ لازماً ایک ہی آیت یا ایک ہی حدیث میں بعینہٖ بعد کی کلامی اصطلاحات کے ساتھ مذکور ہو، نہ علمی منہج کے مطابق ہے اور نہ ہی استدلال کا صحیح اصول ہے۔

19۔ شیخ اسرار رشید کا بنیادی مؤقف کیوں درست تھا؟

شیخ اسرار رشید کا بنیادی مؤقف متعدد علمی اور اصولی وجوہ کی بنا پر مضبوط اور قابلِ ترجیح ہے:

1۔ انہوں نے بحث کو قرآنِ مجید کی مجموعی تعلیمات کے دائرے میں رکھا۔

انہوں نے لفظ"توفیٰ" کو اس کے سیاق و سباق سے الگ کرکے نہیں دیکھا، بلکہ سورۂ آلِ عمران (3: 55)، سورۂ نساء(4: 157، 158، 159) ، سورۂ مائدہ (5: 110، 117) اور سورۂ زخرف (43: 61) کی متعلقہ آیات کو باہم ملا کر ایک جامع قرآنی تصور پیش کیا۔ یہی قرآنِ مجید کو سمجھنے کا درست اور اصولی منہج ہے۔

2۔ انہوں نے لفظ "بَلْ" کی استدلالی قوت کو نمایاں کیا۔

قرآن کا ارشاد "بَلْ رَّفَعَهُ اللّهُ إِلَيْهِ" کوئی مبہم یا کمزور تعبیر نہیں، بلکہ یہ کفار کے باطل دعوے کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک صریح اور قطعی تردید ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکے بارے میں یہود کا دعویٰ حقیقت کے خلاف تھا اور اللہ تعالیٰ نے خود اس کی تصحیح فرمائی۔

3۔ انہوں نے نزولِ مسیح سے متعلق احادیث کو ان کے ظاہر اور صریح مفہوم پر سمجھا۔

صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکے نزول سے متعلق روایات محض اشارات یا مبہم تعبیرات نہیں ہیں، بلکہ ان میں واضح طور پر "ابنِ مریم" کا نام لیا گیا ہے اور ان کے نزول کی کیفیت بھی تفصیل سے بیان کی گئی ہے۔ اس لیے ان احادیث کو مجازی معنی پر محمول کرنا بظاہر نصوص کے خلاف ہے۔

4۔ انہوں نے دمشق کو قادیان قرار دینے کی تاویل کی کمزوری واضح کی۔

صحیح روایات میں صاف الفاظ کے ساتھ ذکر ہے کہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salamدمشق کے مشرقی جانب واقع سفید مینار کے قریب نازل ہوں گے۔ اس کے برخلاف قادیانی مؤقف اس جغرافیائی حقیقت کو محض علامتی معنی دے کر اسے قادیان سے جوڑنے کی کوشش کرتا ہے، جو نہ نصوص کے ظاہر سے ہم آہنگ ہے اور نہ ہی علمی طور پر قوی معلوم ہوتی ہے۔

5۔ انہوں نے امت کے فہمِ متوارث کی حفاظت کی۔

حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکے جسمانی طور پر آسمان پر اٹھائے جانے اور قربِ قیامت ان کے دوبارہ نزول کا عقیدہ صدیوں سے امتِ مسلمہ کا متوارث اور جمہوری عقیدہ رہا ہے۔ چونکہ قادیانی استدلال اس معیار پر پورا نہیں اترتا، اس لیے شیخ اسرار رشید کا یہ مؤقف کہ قرآن، صحیح احادیث اور امت کے متفقہ فہم کو مجموعی طور پر اختیار کیا جائے، علمی اور اصولی اعتبار سے زیادہ مضبوط اور راجح ہے۔

20۔قادیانی مؤقف اوراستدلال کی بنیادی کمزوریاں

قادیانی مؤقف کا جائزہ لیا جائے تو اس میں متعدد اصولی اور استدلالی کمزوریاں نمایاں دکھائی دیتی ہیں، جن میں اہم ترین درج ذیل ہیں:

اوّل: لفظ "توفیٰ" پر غیر معمولی انحصار

ان کے پورے استدلال کی بنیاد تقریباً ایک ہی لفظ"توفیٰ" پر قائم ہے، جبکہ اس سے متعلق تمام قرآنی آیات کے مجموعی سیاق، باہمی ربط اور مکمل قرآنی تصور کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

دوم: متعدد معانی رکھنے والے لفظ کو ایک ہی معنی تک محدود کر دینا

قادیانی خود تسلیم کرتے ہیں کہ "توفیٰ" کے متعدد معانی ہیں، جن میں نیند اور وفات دونوں شامل ہیں، لیکن اس کے باوجود سورۂ آلِ عمران (3: 55) میں سیاق و سباق کی روشنی میں اس کے معنی متعین کرنے کے بجائے اسے صرف ایک ہی مفہوم، یعنی وفات، تک محدود کر دیتے ہیں۔

سوم: "رَافِعُكَ إِلَيَّ"کے واضح مفہوم کو نظر انداز کرنا

قرآن کا ارشاد لفظ " رَافِعُكَ إِلَيَّ" (میں تمہیں اپنی طرف اٹھانے والا ہوں) آیت کا بنیادی اور فیصلہ کن حصہ ہے، لیکن قادیانی اس تعبیر کو اس انداز سے لیتےہیں جیسے اس سے کوئی مستقل اور اہم مفہوم ثابت ہی نہ ہوتا ہو۔

چہارم: سورۂ نساء (4: 157- 158) کی کمزور تعبیر

ان آیات میں قرآنِ مجید یہود کے قتل اور صلیب کے دعوے کی تاریخی اور حقیقی تردید کرتا ہے۔ اگر صرف یہ کہا جائے کہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salamوفات کے بعد روحانی طور پر بلند مرتبہ پا گئے، تو اس سے قرآن کی اس صریح تردید کا پورا مفہوم ادا نہیں ہوتا، کیونکہ کفار کا دعویٰ جسمانی قتل سے متعلق تھا۔

پنجم: نزولِ مسیح سے متعلق احادیث کی بعید از ظاہر تاویل

صحیح احادیث صاف الفاظ میں بیان کرتی ہیں کہ "ابنِ مریم" نازل ہوں گے، مگر قادیانی حضرات اس سے مراد کسی دوسرے شخص کو قرار دیتے ہیں۔ یہ نصوص کے ظاہر سے ہٹ کر ایک تکلف آمیز تاویل ہے۔

ششم: دمشق کا مسئلہ

صحیح مسلم میں واضح طور پر مذکور ہے کہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salamدمشق کے مشرق میں واقع سفید مینار کے قریب نازل ہوں گے، جبکہ قادیان نہ دمشق ہے اور نہ اس کے مشرق میں واقع سفید مینار سے اس کا کوئی تعلق ثابت کیا جا سکتا ہے۔

ہفتم: نظریۂ کشمیر کے حق میں بنیادی مصادر سے کوئی دلیل موجود نہیں

حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکے کشمیر جانے اور روزہ بل میں مدفون ہونے کا نظریہ نہ قرآنِ مجید سے ثابت ہے، نہ صحیح بخاری سے اور نہ صحیح مسلم سے، حالانکہ یہی فریق اپنے مخالفین سے انہی مصادر سے صریح دلائل کا مطالبہ کرتا ہے۔

ہشتم: انتخابی اصولِ استدلال

لفظ "توفیٰ" کے معاملے میں لفظی اور ظاہری معنی پر اصرار کیا جاتا ہے، لیکن حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکے نزول، دمشق، دجال اور "ابنِ مریم" جیسے واضح الفاظ کے بارے میں مجازی اور علامتی تاویلات اختیار کر لی جاتی ہیں۔ یہ طریقۂ استدلال اصولی یکسانیت سے خالی ہے۔

نہم: زمین پر موجود نہ ہونے کو وفات کے مترادف سمجھ لینا

سورۂ مائدہ (5: 117) سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salamاپنی قوم کے درمیان موجود نہ رہے، لیکن اس سے لازماً یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ اس وقت ان کی دائمی دنیاوی وفات واقع ہو چکی تھی۔

دہم: عام آیات سے خاص نصوص کو رد کرنے کی کوشش

انبیائے کرام Alaihmus Salam کے گزر جانے یا ہر جان کے موت کا ذائقہ چکھنے سے متعلق عمومی آیات کو حضرت عیسیٰ Alaihis Salamسے متعلق ان مخصوص اور صریح آیات و احادیث کے مقابلے میں پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ اصول کے مطابق عام حکم، خاص اور واضح نصوص کو منسوخ نہیں کر سکتا۔ اس لیے حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکے بارے میں وہی مفہوم معتبر ہوگا جو قرآن و سنت کی مخصوص نصوص سے ثابت ہے۔

21۔ حتمی و اعتقادی خلاصہ

قرآنِ مجید حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکو ایسے نبی کے طور پر پیش نہیں کرتا جو اپنے دشمنوں کے ہاتھوں مغلوب ہوئے، طبی علاج کے ذریعے جان بچا کر مشرق کی طرف ہجرت کرتے رہے، مختلف علاقوں میں سرگرداں رہے، اور بالآخر کشمیر میں وفات پا گئے۔ بلکہ قرآن انہیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں میں سے ایک قرار دیتا ہے؛ ایک ایسے برگزیدہ رسول جن کی ولادت معجزانہ طور پرہوئی، جنہیں بے شمار معجزات عطا کیے گئے، جنہیں اللہ تعالیٰ نے کفار کی سازشوں سے محفوظ رکھا، اپنی طرف اٹھا لیا، اور جن کا دوبارہ نزول قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک ہوگا۔

اس قرآنی تصویر کو رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی صحیح احادیث مزید واضح اور مکمل کرتی ہیں۔ ان میں صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ ابنِ مریم دوبارہ نازل ہوں گے، عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کریں گے، صلیب کو توڑیں گے، خنزیر کو ختم کریں گے، جزیہ موقوف کر دیں گے، دجال کو قتل کریں گے، اور زمین پر عدل و انصاف کا نظام قائم کریں گے۔

اس بنا پر حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکے جسمانی رفع اور آئندہ نزول کا عقیدہ نہ کسی بعد کے دور میں وجود میں آنے والا افسانہ ہے اور نہ عیسائی عقائد سے متاثر کوئی جذباتی تصور؛ بلکہ اس کی بنیاد قرآنِ مجید میں ہے، سنتِ نبوی Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے اس کی وضاحت کی ہے، اور امتِ مسلمہ کے فہم متوارث نے ہر دور میں اسے محفوظ رکھا ہے۔

اس کے برعکس قادیانی مؤقف، اگرچہ بظاہر خطیبانہ قوت رکھتا ہے، لیکن حقیقت میں نہایت محدود زاویۂ نظر کا حامل ہے۔ وہ پوری بحث کو لفظ "توفیٰ" کے لغوی مفہوم تک محدود کر دیتا ہے، پھر اسی محدود بنیاد پر قرآن کی واضح آیات اور رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی صریح احادیث کی ایسی تاویل کرتا ہے جو ان کے ظاہر سے ہم آہنگ نہیں رہتی۔ اس مؤقف کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں وارد حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکے نزول سے متعلق نہایت واضح اور تفصیلی احادیث کو ان کے حقیقی مفہوم پر برقرار رکھنا اس کے لیے ممکن نہیں رہتا، لہٰذا اسے ان تمام واضح نبوی اوصاف کو علامتی اور مجازی معانی کا جامہ پہنانا پڑتا ہے۔

لہٰذا مجموعی دلائل کی روشنی میں یہ نتیجہ واضح ہوتا ہے کہ شیخ اسرار رشید کا یہ مؤقف درست ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم Alaihmas Salam کو اللہ تعالیٰ نے جسم اور روح سمیت اپنی طرف اٹھایا، وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے آسمانوں میں زندہ ہیں، اور قیامت سے قبل دوبارہ دنیا میں نازل ہوں گے۔ اس کے برعکس حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکی جسمانی حیاتِ سماوی اور مستقبل میں ان کے حقیقی نزول کا انکار قرآنِ مجید اور صحیح احادیث کے مجموعی دلائل سے ثابت نہیں ہوتا۔

اختتامیہ

حضرت عیسیٰ Alaihis Salamکے بارے میں صحیح عقیدہ اس طرح متعین نہیں ہوتا کہ کسی ایک لفظ کو اس کے سیاق و سباق سے الگ کر کے بنیاد بنا لیا جائے، یا بعد میں گھڑے گئے نظریات کو زبردستی قرآن و سنت پر منطبق کرنے کی کوشش کی جائے، جیسا کہ قادیانی مؤقف میں نظر آتا ہے۔استدلال کاصحیح علمی اور اصولی منہج یہ ہے کہ تمام متعلقہ نصوص کو یکجا کیا جائے، عام آیات کو خاص نصوص کی روشنی میں سمجھا جائے، عربی الفاظ کے معانی ان کے سیاق کے مطابق متعین کیے جائیں، اور قرآنِ مجید کی تفسیر کو رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی صحیح احادیث کے ذریعے واضح کیا جائے۔ جب یہ اصول اختیار کیا جائے تو اہلِ سنت کا متوارث عقیدہ واضح طور پر سامنے آتا ہے کہ :

  • حضرت عیسیٰ Alaihis Salamقتل نہیں کیے گئے۔
  • انہیں صلیب پر نہیں چڑھایا گیا۔
  • بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا۔
  • وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سےآسمانوں میں زندہ ہیں۔
  • قیامت سے پہلے دوبارہ دنیا میں نازل ہوں گے۔
  • وہ رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی شریعت کے مطابق اپنی مقررہ ذمہ داریاں انجام دیں گے۔
  • اس کے بعد ان کی طبعی وفات ہوگی۔

یہی وہ عقیدہ ہے جسے امتِ مسلمہ نے ہر دور میں اختیار کیا ہے، اور جو قرآنِ مجید، سنتِ نبوی Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam، عربی زبان کے اصولوں اور امت کے فہمِ متوارث سے سب سے زیادہ ہم آہنگ اور مطابق مؤقف قرار پاتا ہے۔

 
  • 1  القرآن، سورة النساء 4: 157- 158
  • 2  القرآن، سورة آل عمران 3: 55
  • 3  القرآن، سورة الزمر 39: 42
  • 4  القرآن، سورة آل عمران 3: 55
  • 5  القرآن، سورة المائدة 5: 117
  • 6  أبو عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، صحيح البخاري، حديث: 4625، مطبوعة: دار السلام، الرياض، السعودية، 1999م، ص: 791
  • 7  القرآن، سورة المائدة 5: 117
  • 8  القرآن، سورة النساء 4: 159
  • 9  القرآن، سورة الزخرف 43: 61
  • 10  أبو عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، صحيح البخاري، حديث: 3448، مطبوعة: دار السلام، الرياض، السعودية، 1999م، ص: 581
  • 11  ایضاً، حديث: 3449
  • 12  أبو الحسين مسلم بن الحجاج النيشابوري، صحيح مسلم، حديث: 7373، مطبوعة: دار السلام، الرياض، السعودية، 2000م، ص: 1271
  • 13  القرآن، سورة آل عمران 3: 144
  • 14  القرآن، سورة آل عمران 3: 185
  • 15  القرآن، سورة مريم 19: 33
  • 16  القرآن، سورة آل عمران 3: 55
  • 17  القرآن، سورة المائدة 5: 110