حضرت عیسیٰ
کی حیات، رفعِ جسمانی اور قربِ قیامت دوبارہ نزول کا مسئلہ اہلِ اسلام اور قادیانی جماعت کے درمیان بنیادی اعتقادی اختلافات میں سے ایک ہے۔ زیرِ نظر مضمون شیخ اسرار رشید اور قادیانی نمائندے کے مابین ہونے والے مناظرے میں پیش کیے گئے قرآنی دلائل، صحیح بخاری و صحیح مسلم کی احادیث، عربی الفاظ کے لغوی مفاہیم اور دونوں فریقوں کے اعتراضات و جوابات کا علمی و تنقیدی جائزہ پیش کرتا ہے۔ اس تحقیق کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ مجموعی نصوصِ شرعیہ کی روشنی میں جمہورِ امت کا یہ عقیدہ زیادہ مضبوط اور راجح ہے کہ حضرت عیسیٰ
کو قتل یا مصلوب نہیں کیا گیا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں جسم و روح سمیت اپنی طرف اٹھا لیا، وہ آسمانوں میں زندہ ہیں اور قیامت سے قبل دوبارہ دنیا میں نازل ہوں گے۔
شرکائے مناظرہ
شیخ اسرار رشید: اسلام اور مسلمانوں کے مؤقف کی نمائندگی کر رہے تھے۔ ان کا مؤقف اثباتی تھا یعنی کہ حضرت عیسیٰ
اپنے جسمِ کے ساتھ آسمانوں میں زندہ ہیں۔
رازُل نعمان ، جنہیں رضی صاحب بھی کہا گیا: قادیانی جماعت کی نمائندگی کر رہے تھے۔ ان کا مؤقف منفی تھا اور وہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ
وفات پا چکے ہیں اور آسمانوں میں جسمانی طور پر زندہ نہیں ہیں۔
راحیل صاحب: قادیانی جماعت سے تعلق رکھنے والے ناظمِ مناظرہ تھے، جنہیں دونوں فریقوں نے غیر جانب دار ناظم کے طور پر قبول کیا۔ ان کا بنیادی کام وقت کی پابندی اور طے شدہ شرائط کا نفاذ تھا۔
متفقہ اصول: ایک محدود دائرے میں مناظرہ
دونوں فریقوں کے درمیان طے شدہ شرائط غیر معمولی طور پر سخت تھیں، اور یہی شرائط پورے مناظرے میں بار بار بحث و نزاع کا سبب بھی بنتی رہیں۔ اہم شرائط یہ تھیں:
- ماخذ کی تحدید: دلائل صرف قرآنِ کریم، صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایات پر مبنی ہوں گے۔ علماء کے اقوال صرف راویوں کی توثیق، تضعیف یا سندی بحث کے لیے پیش کیے جا سکتے تھے، عمومی عقائدونظریات کے طور پر نہیں۔
- موضوع کی تحدید: مرزا غلام احمد کی کتابوں کو بنیادی ماخذ کے طور پر پیش نہیں کیا جائے گا۔ البتہ اگر مخالف فریق پہلے ان کی تحریر کا ذکر کرے تو اس کے جواب میں متعلقہ اقتباس لایا جا سکتا تھا۔
- آدابِ مناظرہ: گالی، بدزبانی اور مذہبی قائدین کی شخصی توہین سے اجتناب لازم تھا۔
- مناظرے کا خاکہ: تعارف، افتتاحی بیانات، جوابی بیانات، اختتامی کلمات، سوالات وجوابات اور سامعین کے سوالات سب مقررہ وقت کے اندر ہونے تھے۔
ان شرائط نے مناظرے کو ہر مرحلے پر متاثر کیا۔ دونوں مناظرین نے متعدد مواقع پر ناظم سے رجوع کیا کہ آیا کوئی دلیل مقررہ ماخذ کے دائرے میں ہے یا نہیں۔ اس طرح اصل بحث کے ساتھ ساتھ ایک ضمنی بحث بھی جاری رہی کہ کون سا ماخذ قابلِ قبول ہے اور کون سا خارج از بحث ہے۔
مناظرے کا مرکزی سوال
اہلِ اسلام اور قادیانی مؤقف کے درمیان جن بنیادی مسائل میں اختلاف ہے، ان میں حضرت عیسیٰ ابن مریم
کا مسئلہ نہایت اہم ہے: یعنی کیا انہیں قتل کیا گیا؟ یا انہیں پھانسی پر چڑھایا گیا؟ کیا وہ وفات پا گئے؟ کیا اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اٹھایا؟ کیا وہ آسمانوں میں زندہ ہیں؟ اور کیا وہ قیامت سے پہلے دوبارہ نازل ہوں گے؟
اس مناظرے کا اصل سوال یہ تھا کہ کیا قرآنِ کریم، صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روشنی میں حضرت عیسیٰ
اس وقت اپنے حقیقی دنیوی جسم کے ساتھ آسمانوں میں زندہ ہیں؟
یہ سوال صرف تاریخی نہیں، بلکہ تفسیر، عربی لغت، حدیث، عقیدہ، علمِ کلام اور علاماتِ قیامت سے براہِ راست متعلق تھا۔ مسلمانوں کا مؤقف( جس کی نمائندگی شیخ اسرار رشید کر رہے تھے) یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ
نہ قتل ہوئے، نہ انہیں پھانسی پر چڑھایا گیا ہے؛ بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیوی جسم اور روح سمیت اپنی طرف اٹھا لیا ہے۔ وہ اللہ کے حکم سے آسمانوں میں زندہ ہیں اور آخری زمانے میں نازل ہوں گے۔ اس کے مقابلے میں قادیانی مؤقف یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ
طبعی موت وفات پا چکے ہیں، نہ آسمانوں میں جسمانی طور پر زندہ ہیں اور نہ قربِ قیامت ان کا نزول ہوگا۔
مناظرے میں پیش کردہ قرآنی آیات، احادیثِ نبویہ
اور دونوں فریقوں کے دلائل وجوابات کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد یہی نتیجہ سامنے آیا کہ شیخ اسرار رشید کا مؤقف اپنی اصل بنیاد اور استدلال کے اعتبار سے زیادہ مضبوط اور راجح ہے۔ اگرچہ قادیانی فریق نے لفظِ "توفیٰ" کے لغوی مفہوم کے حوالے سے ایک نہایت دقیق اشکال پیش کیا،تاہم وہ قرآنِ مجید کے مجموعی سیاق، سورۂ نساء میں تردید کے اسلوب، حضرت عیسیٰ
کے نزول سے متعلق صحیح بخاری و صحیح مسلم کی صریح احادیث، اور امتِ مسلمہ کے متوارث فہم وعمل کو اپنے مؤقف کے حق میں ہم آہنگ کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔
1۔امتِ مسلمہ کے مؤقف کا خلاصہ
جمہورِ امتِ مسلمہ کا عقیدہ مختصراً درج ذیل نکات پر مشتمل ہے:
- یہود نےحضرت عیسیٰ
کو قتل نہیں کیا۔ - نہ ہی وہ آپ
کو صلیب پر چڑھا سکے۔ - اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو ان کی سازش سے محفوظ رکھا۔
- پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ
کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ - یہ رفع صرف درجات کی بلندی یا روحانی رفعت کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ روح اوردنیوی جسم سمیت حقیقی رفع ہے۔
- حضرت عیسیٰ
اللہ تعالیٰ کے حکم سے آج بھی آسمانوں میں زندہ ہیں۔ - قیامت سے قبل حضرت عیسیٰ
دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے۔ - ان کا نزول حقیقی ہوگا، کسی دوسرے شخص کے ظہور سے استعارہ نہیں ہوگا۔
- نزول کے بعد وہ شریعتِ محمدی
کے مطابق فیصلے کریں گے، صلیب کو توڑیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ ختم کر دیں گے، دجال کو ہلاک کریں گے اور دنیا میں عدل و انصاف کا نظام قائم کریں گے۔ - اس کے بعد وہ اپنی طبعی وفات پائیں گے، اور اس طرح ان کی دنیاوی زندگی کا دورانیہ اپنے اختتام کو پہنچ جائے گا۔یہ عقیدہ کسی ایک لفظ یا کسی منفرد نص پر مبنی نہیں، بلکہ قرآنِ مجید کی آیات، احادیثِ صحیحہ، عربی زبان کے مستند اسالیب اور امتِ مسلمہ کے متوارث عمل وعقیدے کے مجموعی استدلال سے ثابت ہوتا ہے۔
2۔ اساسی دلیل ، سورۃ النساء كی آیات 157- 158
وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا 157 بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا 158 1
اور ان (یہود) کے اس کہنے (یعنی فخریہ دعوٰی) کی وجہ سے (بھی) کہ ہم نے اﷲ کے رسول، مریم کے بیٹے عیسٰی مسیح کو قتل کر ڈالا ہے، حالانکہ انہوں نے نہ ان کو قتل کیا اور نہ انہیں سولی چڑھایا مگر (ہوا یہ کہ) ان کے لئے (کسی کو عیسٰیکا) ہم شکل بنا دیا گیا، اور بیشک جو لوگ ان کے بارے میں اختلاف کر رہے ہیں وہ یقیناً اس (قتل کے حوالے) سے شک میں پڑے ہوئے ہیں، انہیں (حقیقتِ حال کا) کچھ بھی علم نہیں مگر یہ کہ گمان کی پیروی (کر رہے ہیں)، اور انہوں نے عیسٰی (
) کو یقیناً قتل نہیں کیا، بلکہ اﷲ نے انہیں اپنی طرف (آسمان پر) اٹھا لیا، اور اﷲ غالب حکمت والا ہے۔
یہی وہ بنیادی نص ہے جس پر اس پورے مسئلے کی عمارت قائم ہے۔ اس آیت میں صرف یہ نہیں فرمایا گیا کہ یہودی اپنے ایک محدود منصوبے میں ناکام رہے، بلکہ نہایت مؤکد اور فیصلہ کن انداز میں ان کے دعوے کی تین مختلف جہات سے تردید کی گئی ہے۔
1۔ مَا قَتَلُوْہُ    
انہوں(یہود) نے انہیں(عیسیٰکو) قتل نہیں کیا۔
2۔ وَمَا صَلَبُوْہُ    
اور نہ انہیں سولی چڑھایا۔
3۔ وَمَا قَتَلُوْہُ يَقِيْنًا    
اور انہوں نے عیسٰی () کو یقیناً قتل نہیں کیا۔
اس کے بعد قرآنِ مجید نہایت فیصلہ کن انداز میں اس حقیقت کو واضح کرتے ہوئے اصل واقعہ بیان کرتا ہے:
بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ    
بلکہ اﷲ نے انہیں اپنی طرف (آسمان پر) اٹھا لیا۔
یہاں لفظ "بَلْ"نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ یہ محض ایک عام حرفِ عطف نہیں، بلکہ عربی زبان میں "بَلْ" سابقہ دعوے کو ردّ کرنے، اس کی نفی کرنے اور اس کے بالمقابل اصل حقیقت کو ثابت کرنے کے لیےآتا ہے۔ یہودیوں کا دعویٰ یہ تھا کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ
کو قتل کر دیا، صلیب پر چڑھا کر مغلوب کر دیا ۔اللہ تعالیٰ نے پہلے اس پورے دعوے کی دوٹوک نفی فرمائی، پھر "بَلْ" کے ذریعے اس کے برعکس حقیقت کو ثابت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو ان کے شر سے محفوظ فرما کر انہیں عزت و رفعت عطا کی اور اپنی بارگاہ کی طرف بلند فرما لیا۔
قادیا نی مؤقف اس قطعی دلیل کےتناظر میں نہایت کمزور اور رکیک معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ " رَفَعَهُ اللّهُ إِلَيْهِ" کا مفہوم وفات کے بعد روحانی رفعت اور رفعِ مرتبہ پر محمول کرتے ہیں ،حالانکہ اس معنی کی تائید نہ قرآنِ مجید سے ہوتی ہے اور نہ احادیث صحیحہ سے۔
مزید یہ کہ وفات کے بعد روحانی رفعت حضرت عیسیٰ
کے ساتھ خاص نہیں۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ارواحِ صالحین عزت، شہداء حیات اور تمام انبیائے کرام
بلند ترین مراتب و مقامات کے حامل ہیں۔ لہٰذا اگر اس آیت کا مقصود صرف یہ ہوتا کہ وفات کے بعد حضرت عیسیٰ
کی روح کو شرف و رفعت عطا ہوئی، تو یہ یہودیوں کے اس دعوے " انہوں نے آپ
کو جسمانی طور پر مغلوب کر کے قتل کر دیا تھا" کا کوئی براہِ راست اور فیصلہ کن جواب نہ بنتا ۔ آیت کا اسلوب خود اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دعوے کی نفی کرتے ہوئے اس کے بالکل برعکس حقیقت کو ثابت فرمایا۔
علاوہ ازیں، یہودیوں کا دعویٰ حضرت عیسیٰ
کے ذات مبارک سے متعلق تھا کہ انہوں نے آپ
کو جسمانی طور پر قتل کیا اورسولی پر چڑھا یا۔ اس کے جواب میں قرآنِ مجید نے بھی حضرت عیسیٰ
کی ذاتِ اقدس اور جسمِ مبارک ہی کے بارے میں حقیقت واضح کی ہے، نہ کہ محض روحانی مرتبے یا مقام کے بارے میں۔
پھر لفظ "عیسیٰ" کا اطلاق مکمل شخصیت یعنی جسم وروح دونوں پر ہوتا ہے ۔ الا یہ کہ سیاق و سباق میں کوئی واضح قرینہ موجود ہو جو اس لفظ کے اطلاق کو صرف روح تک محدود کر دے۔ جبکہ یہاں پر ایسا کوئی قرینہ موجود نہیں ہے۔
لہٰذا شیخ اسرار رشید کا "بَل رَّفَعَهُ اللّهُ إِلَيْهِ"سے استدلال نہایت مضبوط اور علمی بنیادوں پر قائم ہے۔ آیت کی نحوی ساخت، اسلوبِ بیان اور سیاق و سباق اس حقیقت کی طرف واضح رہنمائی کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے دعوے کی مکمل اور فیصلہ کن تردید فرمائی ہے۔ اسی بنا پر یہ آیت قادیانی مؤقف کا بھی ردّ کرتی ہے، کیونکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ
کو ان کے دشمنوں کے تسلط سے محفوظ رکھتے ہوئے دنیوی جسم سمیت اپنی طرف اٹھا لیا ہے۔
3۔ سورۃ آل عمران كی آیت نمبر 3: 55
إِذْ قَالَ اللَّهُ يَاعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا.....55 2
جب اﷲ نے فرمایا: اے عیسٰی! بیشک میں تمہیں پوری عمر تک پہنچانے والا ہوں اور تمہیں اپنی طرف (آسمان پر) اٹھانے والا ہوں اور تمہیں کافروں سے نجات دلانے والا ہوں۔۔۔
قادیانی مؤقف کی پوری بنیاد تقریباً اس ایک لفظ "مُتَوَفِّيْكَ" پر قائم ہے۔ ان کا دعویٰ یہ ہے کہ جب بھی قرآنِ مجید میں کسی انسان کے لیے "توفیٰ" کا لفظ استعمال ہوتا ہے تو اس سے مراد یا تو موت کے وقت روح قبض کرنا ہوتا ہے یا نیند کی حالت میں روح کو اپنے قبضے میں لینا۔ اسی بنا پر وہ یہ استدلال کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ
بھی وفات پا چکے ہیں۔
تاہم ان کا یہ استدلال ناقص ہے۔کیونکہ لفظ "توفیٰ" ہر مقام پر روح قبض کرنے کے معنی میں نہیں آتا، بلکہ لفظ "توفیٰ" کا لغوی مفہوم کسی چیز کو پورے طور پر اپنے قبضے میں لے لینا، مکمل طور پر وصول کر لینا یا پوری طرح حاصل کر لینا ہے۔ پھر سیاق و سباق کے اعتبار سے اس کا مصداق مختلف ہو سکتا ہے؛ کبھی اس سے موت مراد ہوتی ہے، کبھی نیند، اور کبھی کسی شخص کو مکمل طور پر اپنی تحویل میں لے لینا۔ اسی لیے سورۂ آلِ عمران کی آیت میں "مُتَوَفِّيكَ" پر بات ختم نہیں ہوتی، بلکہ اس کے فوراً بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَرَافِعُكَ إِلَيَّ    
اور تمہیں اپنی طرف (آسمان پر) اٹھانے والا ہوں۔
وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا    
اور تمہیں کافروں سے نجات دلانے والا ہوں۔
یہ تینوں تعبیرات مل کر اللہ تعالیٰ کی جانب سے حضرت عیسیٰ
کی نجات اور حفاظت کوایک جامع اور مربوط انداز میں بیان کرتی ہیں:
- اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ
کو مکمل طور پر، یعنی جسم و روح سمیت، اپنی تحویل میں لے لیتا ہے۔ - پھر انہیں اپنی بارگاہ کی طرف بلند فرما دیتا ہے۔
- اور انہیں کافروں کے تسلط، ایذا رسانی سے مکمل طور پر محفوظ کر دیتا ہے۔
اگر "مُتَوَفِّيْكَ" کو " رَافِعُكَ اِلَيَّ" سے الگ کر کے دیکھا جائے تو آیت کو طبعی موت پر محمول کیا جا سکتا ہے۔ لیکن جب پوری آیت کو ایک مربوط اور مسلسل الہٰی وعدے کے طور پر پڑھا جائے تو اس کا مفہوم بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ
کو دشمنوں سے نجات عطا کرنے، ان کی دسترس سے محفوظ کر لینے اور اپنی بارگاہ کی طرف بلند فرما دینے کا اعلان کر رہا ہے۔ جبکہ قادیا نی مؤقف اور استدلال متعدد اجزاء پر مشتمل ایک جامع قرآنی بیان کو محض ایک لفظ کی بحث تک محدود کر دیتا ہے۔ لہذا آیت کے باقی اجزاء کو نظر انداز کر کے اس ایک لفظ پر استدلال نہیں کیا جاسکتا ۔
4۔ لفظِ "توفی" کا معنی قرآنِ مجید کے اسلوب میں
قادیا نی اپنے مؤقف کی تائید میں سورۂ زمر کی آیت بطورِ دلیل پیش کرتے ہیں:
اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا.....42 3
اللہ جانوں کو اُن کی موت کے وقت قبض کر لیتا ہے اور اُن (جانوں) کو جنہیں موت نہیں آئی ہے اُن کی نیند کی حالت میں۔۔۔
یہ آیت بلاشبہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ قرآنِ مجید میں لفظ"توفیٰ" موت اور نیند، دونوں معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ لیکن اس سے یہ ہرگز لازم نہیں آتا کہ یہ لفظ اپنے اصل لغوی مفہوم، یعنی کسی چیز کو مکمل طور پر اپنی تحویل میں لے لینے، کے لیے کسی دوسرے سیاق میں استعمال نہیں ہو سکتا۔ بلکہ خود یہی آیت اس حقیقت کی شاہد ہے کہ"توفیٰ" ہر مقام پر موت کا ہم معنی نہیں ہے، کیونکہ اسی آیت میں یہی لفظ نیند کے لیے بھی استعمال ہوا ہے۔
لہٰذا قادیا نیوں کا یہ استدلال درست نہیں کہ لفظ"توفیٰ" ہمیشہ موت ہی کے معنی میں آتا ہے، کیونکہ ان کی اپنی پیش کردہ دلیل اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ یہ لفظ نیند کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ جب یہ تسلیم ہو گیا کہ لفظ"توفیٰ" کا معنی سیاق و سباق کے تابع ہے، تو سوال یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ
کے بارے میں وارد آیت میں اس کا صحیح مفہوم کیا ہے؟ اس مقام کا سیاق کسی انسان کی طبعی موت کا نہیں، بلکہ حضرت عیسیٰ
کو قتل اور صلیب دینے کی کوشش، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی نجات، اپنی بارگاہ کی طرف ان کے اٹھائے جانے، اور انہیں کافروں کے تسلط اور ایذا سے مکمل طور پر محفوظ و پاک کر دینے کا ہے۔ یہی مجموعی سیاق اس آیت کے صحیح مفہوم کا تعیین کرتا ہے۔
لہٰذا اسلامی مؤقف زیادہ مضبوط، سیاق سے ہم آہنگ اور قرآنی اسلوب کے مطابق ہے۔ سورۂ آلِ عمران (3:55) میں "مُتَوَفِّيْكَ"کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ
کو ان کی کامل ذات، یعنی جسم و روح سمیت، دشمنوں کی دسترس سے محفوظ کرتے ہوئے اپنی تحویل میں لے لیا، جبکہ " رَافِعُكَ اِلَيَّ" تحویل میں لینے کی نوعیت، سمت کو واضح کرتا ہے؛ یعنی اللہ تعالیٰ نے انہیں عزت و تکریم کے ساتھ اپنی بارگاہ کی طرف بلند فرما دیا۔
5۔ قادیا نیوں کا "تیسرے معنی" والا اعتراض کیوں درست نہیں؟
مناظرے میں قادیا نی فریق کی جانب سے ایک اہم اعتراض یہ پیش کیا گیا کہ قرآن، صحیح بخاری یا صحیح مسلم میں ایک بھی ایسی جگہ دکھائیں جہاں لفظ"توفیٰ" کے معنی جسمانی طور پر آسمان پر اٹھا لیے جانے کے ہوں۔
بظاہر یہ اعتراض نہایت مضبوط معلوم ہوتا ہے، لیکن اس کا گہرائی سے جائزہ لینے پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ فیصلہ کن دلیل نہیں بنتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اہلِ اسلام کا مؤقف ہرگز یہ نہیں کہ لفظ"توفیٰ" اپنے لغوی مفہوم کے اعتبار سے ہر جگہ "جسم وروح سمیت آسمان پر اٹھا ئے جانے " کے معنی دیتا ہے۔ بلکہ اہلِ اسلام کا مؤقف یہ ہے کہ لفظ"توفیٰ" اس آیت میں ایک جامع اور مربوط الہٰی وعدے کا حصہ ہے:
..... إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا.....55 4
بیشک میں تمہیں پوری عمر تک پہنچانے والا ہوں اور تمہیں اپنی طرف (آسمان پر) اٹھانے والا ہوں اور تمہیں کافروں سے نجات دلانے والا ہوں۔۔۔
لہٰذا حضرت عیسیٰ
کے جسمانی رفع کا اثبات صرف "مُتَوَفِّيْكَ "سے نہیں، بلکہ متعدد قرآنی اور احادیث نبویہ کے مجموعے سے ہوتا ہے، جن میں یہ امور شامل ہیں:
- حضرت عیسیٰ
کو قتل کرنے اور صلیب دینے کی یہودیوں کی کوشش۔ - اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس دعوے کی صریح اور قطعی نفی۔
- سورۂ نساء (4:158) میں "بَلْ" کے ذریعے یہودیوں کے دعوے کی تردید۔
- "بَل رَّفَعَهُ اللّهُ إِلَيْهِ" کا واضح اعلان۔
- سورۂ آلِ عمران میں "وَرَافِعُكَ إِلَيَّ" کا ارشاد۔
- کافروں کے تسلط اور ایذا سے حضرت عیسیٰ
کو مکمل طور پر پاک اور محفوظ کر دینے کا وعدہ۔ - آخری زمانے میں حضرت عیسیٰ
کے نزول سے متعلق متواتر احادیث۔ - اور ان احادیث میں رسول اللہ
کی جانب سے حضرت عیسیٰ
کے آخری زمانے کے کردار کی صریح وضاحت۔
اس بنا پر قادیانی اعتراض درحقیقت اہلِ اسلام کے اصل استدلال پر وارد نہیں ہوتا، بلکہ وہ اس کے ایک سادہ اور محدود تصور کو ہدف بناتا ہے۔ جبکہ اہلِ اسلام کا استدلال اس ایک لفظ پر نہیں، بلکہ قرآنِ مجید کے سیاق، متعدد آیات، صحیح احادیث اور مجموعی شرعی دلائل کے باہمی ربط پر قائم ہے۔
6۔ سورۂ مائدہ كی آیت 117اور "دو ادوار" سے استدلال
قادیا نی فریق کی جانب سے مناظرے کے دوران بار بار حضرت عیسیٰ
کے اس ارشاد کو بطورِ دلیل پیش کیا، جو وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کریں گے:
مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَا أَمَرْتَنِي بِهِ أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ 117 5
میں نے انہیں سوائے اس (بات) کے کچھ نہیں کہا تھا جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ تم (صرف) اﷲ کی عبادت کیا کرو جو میرا (بھی) رب ہے اور تمہارا(بھی) رب ہے، اور میں ان (کے عقائد و اعمال) پر (اس وقت تک) خبردار رہا جب تک میں ان لوگوں میں موجود رہا، پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان (کے حالات) پر نگہبان تھا، اور تو ہر چیز پر گواہ ہے۔
قادیا نی استدلال یہ ہے کہ اس آیت میں حضرت عیسیٰ
کی زندگی کے صرف دو ادوار بیان کیے گئے ہیں:
- ایک دور وہ تھا جب حضرت عیسیٰ
اپنی قوم کے درمیان موجود تھے اور ان کے اعمال پر گواہ تھے۔ - دوسرا دور وہ ہے جب اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی تحویل میں لے لیا، جس کے بعد ان کی قوم پر نگہبانی صرف اللہ تعالیٰ کی رہی۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر حضرت عیسیٰ
آسمان پر زندہ ہوتے، تو ان کی زندگی کا ایک تیسرا دور بھی بیان ہونا چاہیے تھا، یعنی آسمان پر زندہ رہنے کا زمانہ۔ چونکہ آیت میں اس کا ذکر نہیں، اس لیے ان کے نزدیک اس سے وفات ثابت ہوتی ہے۔ لیکن یہ استدلال متعدد وجوہ کی بنا پرباطل اور بے بنیاد ہے:
پہلی وجہ
"ان کے درمیان" سے مراد دنیا میں اپنی قوم کے درمیان موجود ہونا ہے۔ قرآنِ کریم میں حضرت عیسیٰ
کا یہ ارشاد مذکور ہے:
مَا دُمْتُ فِيهِمْ    
جب تک میں ان لوگوں میں موجود رہا۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ "جب تک میں کہیں بھی موجود رہا"، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ جب تک حضرت عیسیٰ
اپنی قوم کے درمیان جسمانی طور پر موجود رہے اور براہِ راست ان کی ہدایت و اصلاح کا فریضہ انجام دیتے رہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا تو وہ اپنی قوم کے درمیان اس دنیاوی تبلیغی حیثیت سے موجود نہ رہے۔ اس لیے، خواہ وہ آسمان پر زندہ ہوں یا نہ ہوں، وہ اپنی قوم کے درمیان براہِ راست گواہ کی حیثیت سے باقی نہیں رہے۔ لہٰذا یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت عیسیٰ
اپنی قوم سے جدا ہوگئے نہ کہ وفات پا گئے۔
دوسری وجہ
"تَوَفَّيْتَنِيْ"کا مفہوم بھی سیاق کے تابع ہے۔ اس آیت میں "تَوَفَّيْتَنِيْ" کا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ "آپ نے مجھے پوری طرح اپنی طرف اٹھا لیا" یا "آپ نے مجھے ان لوگوں سے جدا کر دیا"۔ ضروری نہیں کہ اس سے یہی مراد ہو کہ "آپ نے مجھے قیامت سے پہلے طبعی موت دے دی"۔کیونکہ اس لفظ کا مفہوم سیاق و سباق کے مطابق متعین ہوتا ہے۔
تیسری وجہ
صحیح بخاری میں نبی کریم
نے قیامت کے دن اپنی امت کے ان لوگوں کے بارے میں یہی آیت تلاوت فرمائی ہے جنہیں آپ
کے سامنے لایا جائے گا، لیکن پھر ان کی بدعات اور خرافات کی وجہ سے، جو انہوں نے آپ
کے بعد دین میں پیدا کیں، آپ
سے دور ہٹا دیئے جائیں گے۔ اس موقع پر رسول اللہ
بھی حضرت عیسیٰ
کی طرح اپنی ذمہ داری کی حد بیان کرتے ہوئے فرمائیں گے6
..... وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ.....117 7
اور میں ان (کے عقائد و اعمال) پر (اس وقت تک) خبردار رہا جب تک میں ان لوگوں میں موجود رہا، پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان (کے حالات) پر نگہبان تھا۔
قادیانی حضرات اس سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ چونکہ رسول اللہ
نے اس آیت کو اپنی وفات کے بعد اپنے بارے میں بیان فرمایا، اس لیے حضرت عیسیٰ
کے بارے میں بھی " تَوَفَّيْتَنِيْ"سے مراد موت ہی ہوگی۔ لیکن یہ استدلال محلِ نظر ہے۔
درحقیقت رسول اللہ
اس آیت کو ذمہ داری اور قوم سے جدائی کے ایک مشترک پہلو کے طور پر نقل فرما رہے ہیں۔ یعنی جب تک آپ
اپنی امت کے درمیان موجود رہے، ان کے اعمال پر گواہ تھے، اور جب ان سے جدا ہوگئے تو ان کے بعد کے اعمال کا علم اور نگرانی صرف اللہ تعالیٰ کے سپرد رہی۔ اس حدیث میں یہ کہیں نہیں کہا گیا کہ حضرت عیسیٰ
اور رسول اللہ
کے حالات ہر اعتبار سے یکساں تھے، بلکہ صرف یہ مماثلت بیان کی گئی ہے کہ دونوں انبیائے کرام
اپنی قوموں کے درمیان موجودگی کے دوران ان پر گواہ تھے، اور اپنی قوم سے جدا ہونے کے بعد براہِ راست دنیاوی نگرانی کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ چنانچہ حدیث کے آخری الفاظ اسی مفہوم کو واضح کرتے ہیں:
مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ.
جب سے آپ ان سے جدا ہوئے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کا اصل موضوع قوم سے جدائی ہے، نہ کہ یہ ثابت کرنا کہ حضرت عیسیٰ
کی طبعی وفات واقع ہو چکی تھی۔ رسول اللہ
نے حضرت عیسیٰ
کے اس ارشاد کو اس لیے نقل فرمایا کہ دونوں انبیائے کرام اپنی قوموں پر اس وقت تک گواہ رہے جب تک وہ ان کے درمیان موجود تھے، اور جب وہ براہِ راست نگرانی سے جدا ہوگئے تو ان پر حقیقی نگہبان صرف اللہ تعالیٰ رہا۔ البتہ دونوں کی جدائی کی نوعیت مختلف تھی: رسول اللہ
اپنی وفات کے ذریعے اپنی امت سے جدا ہوئے، جبکہ حضرت عیسیٰ
کو اللہ تعالیٰ نے آسمان کی طرف اٹھا لیا۔ لہٰذا یہ حدیث دونوں کے منصبِ شہادت میں مماثلت کو ثابت کرتی ہے، نہ کہ ان کی جدائی کی کیفیت کو ایک جیسا قرار دیتی ہے۔لہذا صحیح بخاری (حدیث: 4625) سے قادیانی مؤقف ثابت نہیں ہوتا۔
7۔ سورۃ النساء كی آیت 159 كی وضاحت
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا 1598
اور (قربِ قیامت نزولِ مسیحکے وقت) اہلِ کتاب میں سے کوئی (فرد یا فرقہ) نہ رہے گا مگر وہ عیسٰی (
) پر ان کی موت سے پہلے ضرور (صحیح طریقے سے) ایمان لے آئے گا، اور قیامت کے دن عیسٰی (
) ان پر گواہ ہوں گے۔
یہ آیت اس بیان کے فوراً بعد آئی ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ یہودی نہ حضرت عیسیٰ
کو قتل کر سکے اور نہ انہیں سولی پر چڑھاسکے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا۔ جمہور اہلِ اسلام کے نزدیک اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ
جب آخری زمانے میں دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کی وفات سے پہلے تمام اہلِ کتاب ان پر صحیح ایمان لے آئیں گے۔ اس وقت یہودی ان کی نبوت کے منکر نہیں رہیں گے اور عیسائی انہیں خدا یا خدا کا بیٹا قرار دینے کے بجائے اللہ کا سچا رسول مانیں گے۔ یہی مفہوم ان صحیح احادیث سے بھی پوری طرح ہم آہنگ ہے جن میں بیان ہوا ہے کہ حضرت عیسیٰ
نزول کے بعد صلیب کو توڑیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے اور عدل و انصاف کے ساتھ حکومت کریں گے۔
اس کے برعکس، قادیانی حضرات اس آیت میں " قَبْلَ مَوْتِہٖ" سے اہلِ کتاب کے ہر فرد کی موت مراد لیتے ہیں، حالانکہ سیاق وسباق کے اعتبار سے یہ تعبیر درست نہیں ہے۔کیونکہ پوری گفتگو حضرت عیسیٰ
ہی کے بارے میں ہے، ان کے متعلق یہودیوں کے دعوے، یہود کا آپ
کوقتل نہ کر سکنا، اللہ تعالیٰ کا انہیں اپنی طرف اٹھا لینا، اور پھر قیامت کے دن انہی کا اہلِ کتاب کے خلاف گواہ بننا ہے۔ اس لیے قرینِ قیاس یہی ہے کہ آیت میں آنے والی ضمیریں بھی اسی مرکزی شخصیت، یعنی حضرت عیسیٰ
، کی طرف راجع ہوں۔
مزید برآں، حضرت ابوہریرہ
نے صحیح بخاری میں حضرت عیسیٰ
کے نزول سے متعلق حدیث روایت کرنے کے بعد اسی آیت کی تلاوت فرمائی:
وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ……159
اور (قربِ قیامت نزولِ مسیحکے وقت) اہلِ کتاب میں سے کوئی (فرد یا فرقہ) نہ رہے گا مگر وہ عیسٰی (
) پر ان کی موت سے پہلے ضرور (صحیح طریقے سے) ایمان لے آئے گا۔
اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابوہریرہ
نے اس آیت کو حضرت عیسیٰ
کے آئندہ نزول سے متعلق سمجھا، نہ کہ ماضی میں ان کی وفات سے متعلق ۔ یہ تشریح اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت عیسیٰ
کے نزول کے بعد، ان کی وفات سے پہلے، اہلِ کتاب ان کے بارے میں حق بات کو پہچان لیں گے۔ یوں ایک جلیل القدر صحابی کی یہی تفہیم جمہور امت کے اس مؤقف کی مؤید ہے کہ حضرت عیسیٰ
زندہ آسمان پر اٹھائے گئے، قیامت سے پہلے دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے، اور پھر اپنی دنیاوی زندگی کی تکمیل کے بعد ان کی وفات واقع ہوگی۔
8۔ سورۃ الزخرف كی آیت 61 سے استدلال
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُونِ هَذَا صِرَاطٌ مُسْتَقِيمٌ 619
اور بیشک وہ (عیسٰیجب آسمان سے نزول کریں گے تو قربِ) قیامت کی علامت ہوں گے، پس تم ہرگز اس میں شک نہ کرنا اور میری پیروی کرتے رہنا، یہ سیدھا راستہ ہے۔
جمہور مفسرین کے نزدیک اس آیت میں ضمیر (إنـه)حضرت عیسیٰ
کی طرف راجع ہے، اور اس سے مراد یہ ہے کہ آپ
کا آخری زمانے میں آسمان سے نزول، قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک ہوگا۔ یہی مفہوم ان متعدد صحیح احادیث کے بھی عین مطابق ہے جن میں قیامت سے قبل حضرت عیسیٰ
کے نزول کا واضح ذکر ملتا ہے۔
اس کے برعکس، قادیانی حضرات اس آیت کی تاویل کرتے ہوئے یا تو اسے مجازی معنی پر محمول کرتے ہیں یا اس کا مصداق مرزا غلام احمد کو قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم یہ تعبیر نہ تو آیت کے سیاق و سباق سےہم آہنگ ہے اور نہ ہی قرآن کے اسلوب سے مطابقت رکھتی ہے۔ پوری گفتگو ایک ایسی ہستی کے بارے میں ہے جس کا قرآنِ کریم میں بار بار واضح نام اور تعارف کے ساتھ ذکر ہوا ہے، یعنی حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام۔ اس لیے آیت میں وارد ضمیر کو اس معروف قرآنی مرجع سے ہٹا کر کسی بعد کے مدعی پر محمول کرنا قرآنی متن میں خارجی اعتقادی مفروضے کو شامل کرنے کے مترادف ہے۔
مزید یہ کہ صحیح احادیث سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس سے مراد حضرت عیسیٰ
کا قربِ قیامت میں حقیقی نزول ہے۔لہٰذا اس آیت کے مفہوم کو حضرت عیسیٰ
سے ہٹا کر کسی بعد کے مدعی کی طرف منتقل کرنا قرآن و سنت کا ظاہر مفہوم نہیں، بلکہ پہلے سے اختیار کیے گئے ایک مخصوص نظریے کی بنیاد پر کی گئی ایک بعید تاویل ہے۔
9۔ صحیح بخاری میں حضرت عیسیٰ
کے نزول سے متعلق حدیث
حضرت ابوہریرہ
سے روایت ہے کہ رسول اللہ
نے فرمایا:
وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُوشِكَنَّ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمُ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا عَدْلًا، فَيَكْسِرَ الصَّلِيبَ، وَيَقْتُلَ الْخِنْزِيرَ، وَيَضَعَ الْجِزْيَةَ، وَيَفِيضَ الْمَالُ حَتَّى لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ. 10
اس ذات کی قسم جس کے قبضےمیں میری جان ہے! عنقریب ابنِ مریم تمہارے درمیان ایک عادل حاکم کی حیثیت سے نازل ہوں گے۔ وہ صلیب کو توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ موقوف کر دیں گے، اور مال اس قدر فراوان ہو جائے گا کہ اسے قبول کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔
یہ حدیث کئی پہلوؤں سے قادیانی مؤقف کی تردید کرتی ہے۔
سب سے پہلی بات یہ ہے کہ حدیث کے الفاظ ہیں:
يَنْزِلُ فِيكُمُ ابْنُ مَرْيَمَ.
ابنِ مریم تمہارے درمیان نازل ہوں گے۔
اس میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ حضرت عیسیٰ
کی صفات کا حامل کوئی شخص ہندوستان میں پیدا ہوگا، بلکہ واضح الفاظ میں ابنِ مریم کے نزول کی خبر دی گئی ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ "ابنِ مریم" کا لقب اسی تاریخی شخصیت، حضرت عیسیٰ
، کی تعیین کرتا ہے جن کا ذکر قرآنِ کریم میں بار بار آیا ہے، نہ کہ کسی مجازی یا تمثیلی شخص کا۔
تیسری بات یہ ہے کہ حدیث میں جن امور کا ذکر کیا گیا ہے، وہ سب خارجی اور عملی واقعات ہیں:
- آپ
عدل کے ساتھ حکومت کریں گے۔ - صلیب کو توڑیں گے۔
- خنزیر کو قتل کریں گے۔
- جزیہ موقوف کر دیں گے۔
- اور مال و دولت اس قدر عام ہو جائے گی کہ کوئی اسے لینے والا نہ ہوگا۔
یہ سب رمزی اشارات یا تعبیرات نہیں ، بلکہ ایسے واقعات ہیں جو کھلے عام رونما ہوں گے۔
اسی مضمون کی ایک اور روایت صحیح بخاری میں ان الفاظ کے ساتھ وارد ہوئی ہے:
كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيكُمْ وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ۔11
تمہارا کیا حال ہوگا جب ابنِ مریم تمہارے درمیان نازل ہوں گے اور تمہارا امام تم ہی میں سے ہوگا؟
یہاں بھی الفاظ نہایت واضح ہیں: "نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ " ، یعنی "ابنِ مریم نازل ہوں گے"۔
اس تعبیر سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مراد وہی حضرت عیسیٰ بن مریم
ہیں جن کا ذکر قرآنِ کریم میں ہے، نہ کہ ان کے اوصاف سے مشابہ کوئی بعد کا مدعی۔ لہٰذا حدیث کا اسلوب کسی مجازی بعثت یا روحانی ظہور کا نہیں، بلکہ حضرت عیسیٰ
کے حقیقی نزول کی صریح خبر دیتا ہے۔
10۔ صحیح مسلم میں سفید مینار والی حدیث
صحیح مسلم میں دجال اور حضرت عیسیٰ
کے نزول کے متعلق مشہور روایت مذکور ہے:
فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ، فَيَنْزِلُ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ شَرْقِيَّ دِمَشْقَ، بَيْنَ مَهْرُودَتَيْنِ، وَاضِعًا كَفَّيْهِ عَلَى أَجْنِحَةِ مَلَكَيْنِ، إِذَا طَأْطَأَ رَأْسَهُ قَطَرَ، وَإِذَا رَفَعَهُ تَحَدَّرَ مِنْهُ جُمَانٌ كَاللُّؤْلُؤِ.....12
اسی دوران اللہ تعالیٰ مسیح، ابنِ مریم، کو بھیجیں گے۔ وہ دمشق کے مشرق میں واقع سفید مینار کے قریب نازل ہوں گے، دو ہلکے زرد رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے ہوں گے، اور اپنے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے پروں پر رکھے ہوں گے۔ جب وہ اپنا سر جھکائیں گے تو اس سے پانی کے قطرے ٹپکیں گے، اور جب سر اٹھائیں گے تو اس سے موتیوں کی مانند چمکتے ہوئے قطرے جھڑیں گے۔
یہ روایت اس مسئلے پر سب سے زیادہ صریح اور واضح دلیل ہے، کیونکہ اس میں نہایت تفصیل کے ساتھ حضرت عیسیٰ
کے نزول کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس حدیث میں:
- مسیح کو بھیجنا۔
- "ابنِ مریم" کا لقب۔
- ان کا نزول۔
- ایک متعین جغرافیائی مقام یعنی دمشق کے مشرق میں واقع سفید مینار۔
- ان کا لباس۔
- دو فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھنا۔
- ان کی جسمانی کیفیت۔
- اور پھرمقام لُد کے مقام پر دجال کو قتل کرنے تک تمام تفصیلات مذکور ہیں۔
ان واضح تصریحات کے باوجود اس حدیث کو مرزا غلام احمد قادیانی پر منطبق کرنا نہ عقلاً درست ہے اور نہ ظاہری نصوص کے مطابق ہے۔ قادیان، دمشق نہیں ہے؛ مرزا غلام احمد دمشق کے مشرق میں سفید مینار کے پاس نازل نہیں ہوئے؛ نہ وہ دو فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھ کر آسمان سے اترے، اور نہ ہی انہوں نے بابِ لُد پر دجال کو قتل کیا۔ اسی لیے اس مقام پر قادیانی تعبیر شدید تکلف کا شکار دکھائی دیتی ہے، کیونکہ وہ اس حدیث میں مذکور واضح جغرافیائی مقامات، جسمانی اوصاف اور خارجی واقعات کو محض علامتی اور مجازی معانی پر محمول کرتے ہیں، جبکہ اپنے دعووں کو تاریخی واقعات کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ لہذا یہ طرزِ استدلال کسی طور پر بھی درست نہیں ہے۔اور اگر اس حدیث میں مذکور صریح جغرافیائی اور جسمانی تفصیلات کو بھی محض استعارہ قرار دے دیا جائے تو پھر نبی کریم
کی بیان کردہ پوری تفصیل اپنی ظاہری دلالت کھو بیٹھتی ہے۔ اسی بنا پر شیخ اسرار راشد کا یہ کہنا درست ہے کہ دمشق کے سفید مینار سے متعلق صحیح مسلم کی یہ حدیث قادیانی مؤقف کے لیے ایک بنیادی اور نہایت مضبوط اشکال کی حیثیت رکھتی ہے۔
11۔ واقعۂ معراج کی روایات اور حضرت عیسیٰ
کا آسمانوں میں وجود
واقعۂ معراج سے متعلق صحیح احادیث میں مذکور ہے کہ رسول اللہ
نے اپنے آسمانی سفر کے دوران مختلف آسمانوں میں متعدد انبیائے کرام
سے ملاقات فرمائی، جن میں حضرت عیسیٰ اور حضرت یحییٰ
بھی شامل تھے۔
اگرچہ اس روایت کے الفاظ اس بات کو ثابت نہیں کرتی کہ حضرت عیسیٰ
جسم وروح سمیت آسمان پر اٹھائے گئے ہیں، کیونکہ دوسرے انبیائے کرام
بھی وفات کے بعد آسمانوں میں رسول اللہ
کو دکھائے گئے تھے۔ تاہم اس سے ایک نہایت اہم حقیقت ضرور ثابت ہوتی ہے، اور وہ یہ کہ اسلامی عقیدے کی رو سے آسمانوں میں موجود ہونا یا وہاں کسی ہستی کا وجود رکھنا کوئی عقلی محال یا ناممکن امر نہیں۔ خود رسول اللہ
کو شبِ معراج میں آسمانوں کی سیر کرائی گئی، آپ
نے وہاں انبیائے کرام
سے ملاقات فرمائی۔ لہٰذا قادیانی حضرات کا یہ دعویٰ کہ کسی نبی کا جسمانی طور پر آسمانوں میں موجود ہونا عقلاً ناممکن یا غیر معقول ہے، اسلامی تصورِ کائنات اور نصوصِ شرعیہ کی روشنی میں سراسر بے بنیاد ہے۔
سوال یہ نہیں کہ کیا اللہ تعالیٰ کسی نبی کو آسمانوں میں زندہ محفوظ رکھنے پر قادر ہے؟ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ "کیا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول
نے ہمیں یہ خبر دی ہے کہ حضرت عیسیٰ
کے ساتھ ایسا ہی ہوا تھا؟چنانچہ قرآنِ مجید اور احادیثِ نبویہ کا مجموعی مفہوم، جیسا کہ سابقہ دلائل میں واضح کیا جا چکا ہے، اسی حقیقت کی تائید کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ
کو اپنی طرف اٹھایا اور آسمانوں میں محفوظ رکھا ہے۔
12۔ اللہ تعالیٰ کسی مکان کا محتاج نہیں (اعتراض)
قادیانی حضرات یہ اعتراض کرتے ہیں جو درحقیقت علمِ کلام سے متعلق ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی مکان یا جہت میں موجود نہیں، تو قرآن میں مذکور "اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ
کو اپنی طرف اٹھا لیا" سے جسمانی طور پر آسمان پر اٹھایا جانا کیسے مراد لیا جا سکتا ہے؟
درحقیقت یہ اعتراض مسلمانوں کے مؤقف کو صحیح طور پر سمجھے بغیر کیا جاتا ہے۔ اہلِ اسلام ہرگز یہ عقیدہ نہیں رکھتے کہ اللہ تعالیٰ کوئی جسم ہے جو کسی خاص جگہ میں محدود ہو، یا حضرت عیسیٰ
کو اس مقام تک پہنچا دیا گیا جہاں اللہ تعالیٰ موجود ہے۔ بلکہ مسلمانوں کا متفقہ عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مکان، جہت، حدود، جسمانیت اور ہر قسم کی انسانی قیودات سے پاک ہے۔قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:
رَفَعَهُ اللّهُ إِلَيْهِ    
اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا۔
اگرچہ یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت عیسیٰ
کو حقیقتاً اٹھایا گیا ہے، لیکن اس کی وجہ سے اس عقیدے پر کوئی آنچ نہیں آتی کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی مکانی اور جسمانی نسبت سے پاک ہے۔کیونکہ قرآنِ مجید متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ کی شان کے مطابق ایسے اسالیب اختیار کرتا ہے جن سے اس کی عظمت، قرب اور خصوصی عنایت کا اظہار مقصود ہوتا ہے، نہ کہ اسے کسی جسم یا مکان میں محدود قرار دینا۔ لہٰذا "اپنی طرف اٹھانا" اس اعتبار سے حقیقی رفع ہے۔ جبکہ "اپنی طرف" سے مراد اللہ تعالیٰ کی خصوصی قربت، اور یہ اسی شان کے مطابق ہے جو اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریائی کے لائق ہے۔ اس لیے مسلمانوں کا عقیدہ کسی قسم کے تشبیہ یا تجسیم کو لازم نہیں ٹھہراتا، بلکہ صرف اس حقیقت پر ایمان کا تقاضا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت عیسیٰ
کو جس کیفیت اور جس انداز سے چاہا، اپنی قدرت سے اپنی طرف اٹھا لیا۔
13۔ سورۂ آلِ عمران (3: 144) سے استدلال
قادیانی حضرات اپنے مؤقف کے حق میں سورۂ آلِ عمران کی اس آیت سے بھی استدلال کرتے ہیں:
وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ …..144 13
اور محمد (بھی تو) رسول ہی ہیں (نہ کہ خدا)، آپ سے پہلے بھی کئی پیغمبر (مصائب اور تکلیفیں جھیلتے ہوئے اس دنیا سے) گزر چکے ہیں۔۔۔
قادیانیوں کا کہنا ہے کہ چونکہ حضرت عیسیٰ
بھی رسول اللہ
سے پہلے مبعوث ہونے والے رسولوں میں شامل ہیں، اس لیے وہ بھی لازماً ان رسولوں میں داخل ہیں جو "گزر چکے" ہیں، یعنی وفات پا چکے ہیں۔ لیکن یہ استدلال درست نہیں ہے ، کیونکہ اس آیت کا اصل مقصد یہ بیان کرنا ہے کہ حضرت محمد
اللہ کے رسول ہیں، اور اگر کسی رسول کی وفات ہو جائے تو اس سے دینِ اسلام ختم نہیں ہو جاتا۔ یہ آیت خاص طور پر غزوۂ اُحد کے پس منظر میں نازل ہوئی، جب رسول اللہ
کی شہادت کی افواہ پھیلنے پر بعض مسلمانوں کے قدم ڈگمگانے لگے تھے۔ اس موقع پر قرآن نے واضح کیا کہ انبیائے سابقین بھی دنیا سےجا چکے ہیں، لہٰذا کسی رسول کی وفات دین کے خاتمے کا سبب نہیں بنتی۔ اس آیت کا مقصد ہر سابق نبی کی اس وقت کی حیاتیاتی کیفیت بیان کرنا نہیں ہے۔
مزید یہ کہ "قَدْ خَلَتْ "کے الفاظ کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ "وہ گزر گئے"، "اپنا زمانہ گزار چکے" یا "پہلے جا چکے"۔ اس تعبیر سے یہ بات ہرگز لازم نہیں آتی کہ ہر ایک رسول نے رسول اللہ
کی بعثت سے پہلے عام انسانوں کی طرح وفات ہی پائی ہے۔ اگرچہ عمومی طور پر انبیائے کرام
دنیا سے رخصت ہوتے ہیں، لیکن قرآنِ مجید خود حضرت عیسیٰ
کے بارے میں سورۂ نساء (آیات 157- 158) میں اس عمومی حکم سے ایک واضح استثناء بیان کرتا ہے۔
اس لیے قادیانی استدلال میں بنیادی علمی کمزوری یہ ہے کہ وہ سابقہ رسولوں کے بارے میں ایک عام حکم کو حضرت عیسیٰ
کے متعلق قرآن کے خاص اور صریح بیان پر غالب کرنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ اصولِ تفسیر کے مطابق عام نص کسی خاص نص کو منسوخ یا کالعدم نہیں کر سکتی۔جبکہ قرآنِ مجید نے مستقل طور پر یہ وضاحت کر دی ہے کہ حضرت عیسیٰ
نہ قتل کیے گئے، نہ صلیب پر چڑھائے گئے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا۔ لہٰذا سورۂ آلِ عمران کی اس عام آیت کو ان صریح اور مخصوص آیات کی روشنی میں سمجھا جائے گا، نہ کہ ان کے برخلاف۔
14۔ ہرنفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے (استدلال)
قادیانی حضرات اپنے مؤقف کے حق میں قرآنِ کریم کی اس آیت سے بھی استدلال کرتے ہیں:
كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ…..18514
ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے۔
یہ آیت بالکل حق ہے اور تمام مسلمان اس پر کامل ایمان رکھتے ہیں۔ اہلِ اسلام ہرگز اس بات کے منکر نہیں کہ حضرت عیسیٰ
کو بھی ایک دن موت آئے گی۔ مزید یہ کہ مسلمانوں کا عقیدہ یہ بھی نہیں کہ حضرت عیسیٰ
ہمیشہ ہمیشہ کے لیے زندہ ہیں یا انہیں کبھی موت نہیں آئے گی۔ بلکہ اہلِ اسلام کا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ
کو اللہ تعالیٰ نے زندہ آسمان پر اٹھا لیا ہے، مگر ابھی ان کی دنیاوی زندگی کا اختتام نہیں ہوا۔ وہ قیامت سے قبل دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے، اپنی ذمہ داریوں کو مکمل کریں گے، اور اس کے بعد دیگر انسانوں کی طرح ان پر بھی موت طاری ہوگی۔
اس بنا پر "كُلُّ نَفْسٍ ذَاىِٕقَۃُ الْمَوْتِ"مسلمانوں کے عقیدے کی تردید نہیں کرتی، بلکہ اس کی تائید کرتی ہے، کیونکہ مسلمان بھی یہی مانتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ
آخرکار موت کا ذائقہ ضرور چکھیں گے۔
15۔ سورۂ مریم كی آیت 33 سے استدلال
قرآنِ مجید میں حضرت عیسیٰ
کا وہ ارشاد نقل کیا گیا ہے جو آپ
نے معجزانہ طور پر گہوارے میں فرمایا:
وَالسَّلَامُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدْتُ وَيَوْمَ أَمُوتُ وَيَوْمَ أُبْعَثُ حَيًّا 33 15
اور مجھ پر سلام ہو میرے میلاد کے دن، اور میری وفات کے دن، اور جس دن میں زندہ اٹھایا جاؤں گا۔
قادیانی حضرات اس آیت سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ اس میں حضرت عیسیٰ
کی زندگی کا ایک معمول کے مطابق سلسلہ بیان کیا گیا ہے: پیدائش، پھر وفات، اور اس کے بعد قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہونا۔ ان کے نزدیک اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ
دنیا میں وفات پا چکے ہیں۔
مسلمانوں کا مؤقف بھی قرآن میں موجود ترتیب کو پوری طرح تسلیم کرتا ہے لیکن فرق صرف یہ ہے کہ قرآن کی اس آیت میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ حضرت عیسیٰ
وفات پا چکے ہیں، بلکہ فرمایا گیا ہے: "جس دن میری وفات ہوگی"۔ یہ اس واقعۂ وفات کی خبر ہے جو مستقبل میں پیش آئے گا، یعنی حضرت عیسیٰ
کے دوبارہ نزول کے بعد۔ اس اعتبار سے یہ آیت اہلِ اسلام کے عقیدے سے پوری طرح ہم آہنگ ہے، کیونکہ ان کے نزدیک حضرت عیسیٰ
کی زندگی کا تسلسل یوں ہے:
- حضرت عیسیٰ
معجزانہ طور پر پیدا ہوئے۔ - دشمنوں کے قتل سے محفوظ رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ اپنی طرف اٹھا لیا۔قربِ قیامت وہ دوبارہ دنیا میں نازل ہوں گے۔
- اپنی مقررہ ذمہ داریاں مکمل کرنے کے بعد ان کی وفات ہوگی۔
- پھر قیامت کے دن تمام انسانوں کی طرح انہیں بھی دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔
اس لیے اس آیت اور اہلِ اسلام کے عقیدے کے درمیان کوئی تعارض یا تضاد نہیں، بلکہ یہ آیت اسی عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰ
کی پیدائش، آئندہ وفات اور روزِ قیامت دوبارہ اٹھائے جانے کے مختلف مراحل کو بیان کرتی ہے۔
16۔ روایتِ کشمیر(بڑی کمزوری)
قادیانی مؤقف میں عام طور پر ایک تاریخی روایت بھی شامل کی جاتی ہے۔ اس کے مطابق حضرت عیسیٰ
صلیب سے زندہ بچ نکلے، پھر مشرق کی طرف ہجرت کی، مختلف علاقوں سے ہوتے ہوئے کشمیر پہنچے، وہاں بنی اسرائیل کے گم شدہ قبائل کو دعوتِ حق دی، تقریباً 120 سال کی عمر پائی، اور آخرکار سری نگر کے روزہ بل میں مدفون ہوئے۔لیکن اس پورے بیانیے میں کئی کمزوریاں ہیں:
اوّل: قرآنِ مجید میں اس کا کوئی ذکر نہیں
قرآنِ مجید میں نہ کشمیر کا کوئی ذکر ہے، نہ سری نگر کا، نہ روزہ بل کا، اور نہ ہی صلیب کے بعد حضرت عیسیٰ
کی کسی مشرقی جااب ہجرت کا کوئی بیان ملتا ہے۔
دوم: صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ایسی کوئی روایت نہیں
اس مناظرے میں جن بنیادی مصادر کو معیار تسلیم کیا گیا تھا، وہ قرآنِ مجید، صحیح بخاری اور صحیح مسلم تھے۔ کشمیر کے اس پورے نظریے کو ان میں سے کسی ایک مستند ماخذ سے بھی ثابت نہیں کیا جا سکتا۔
سوم: یہ قرآن میں مذکور اللہ تعالیٰ کی کامل حفاظت کے تصور سے متصادم ہے
اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ
سے فرماتا ہے:
وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا.....55 16
۔۔۔اور تمہیں کافروں سے نجات دلانے والا ہوں۔۔۔
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
..... وَإِذْ كَفَفْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَنْكَ.....110 17
۔۔۔ اور جب میں نے بنی اسرائیل کو تمہارے (قتل) سے روک دیا تھا۔۔۔
اگر یہ مان لیا جائے کہ حضرت عیسیٰ
کو گرفتار کیا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا، صلیب پر لٹکایا گیا، شدید زخمی ہوئے، پھر علاج کے ذریعے جان بچی، اور اس کے بعد اپنی جان کے خوف سے ہزاروں میل دور مختلف ممالک سے گزرتے ہوئے کشمیر پہنچے، تو یہ منظر قرآنِ مجید میں بیان کردہ اللہ تعالیٰ کی مضبوط حفاظت، مکمل نصرت اور دشمنوں کی ناکامی سے مطابقت نہیں رکھتا۔ قرآنِ کریم حضرت عیسیٰ
کو ایسے شخص کے طور پر پیش نہیں کرتا جو بڑی مشکل سے دشمنوں کی سازش سے جان بچا کر فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ہوں، بلکہ وہ یہ واضح کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے براہِ راست مداخلت کرکے ان کی حفاظت فرمائی اور دشمنوں کی پوری سازش کو ناکام بنا دیا۔حتی کہ " وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ" (انہوں نے نہ انہیں قتل کیا اور نہ ہی صلیب پر چڑھایا) اور "بَل رَّفَعَهُ اللہُ إِلَيْهِ" (بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا) جیسے الفاظ صاف بتاتے ہیں کہ دشمن اپنے مقصد میں مکمل طور پر ناکام رہے؛ یہ نہیں کہ وہ رومی کسی حد تک کامیاب ہوئے اور حضرت عیسیٰ
ان کی اذیتیں سہنے کے بعد بمشکل جان بچا سکے۔
چہارم: تاریخی اعتبار سے یہ محض ایک قیاسی مفروضہ ہے
کشمیر کا یہ پورا نظریہ ایسی تاریخی روایات پر قائم ہے جو بعد کے ادوار میں سامنے آئیں ان کی صحت خود محلِّ نزاع ہے اوران کی کوئی بنیاد نہ قرآنِ مجید میں موجود ہے اور نہ ہی صحیح احادیث میں۔ مزید برآں، یہی فریق مسلمانوں سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنے ہر عقیدے کے لیے قرآن، صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے صریح نص پیش کریں، لیکن خود اپنے اس بنیادی نظریے کے ثبوت میں انہی مصادر سے کوئی واضح دلیل پیش نہیں کر سکتا۔ اصول کی رو سے یہ واضح دوہرا معیار ہے۔
17۔ انتخابِ لفظی کا مسئلہ (قادیانی استدلال کی بنیادی کمزوری)
قادیانی استدلال کی نمایاں کمزوریوں میں سے ایک انتخابِ لفظی ہے۔ان کا طرزِ استدلال یہ ہے کہ جہاں لفظ"تَوَفیٰ" آتا ہے، وہاں وہ اس کے صرف ایک محدود اور لغوی معنی، یعنی "وفات" مراد لیتے ہیں۔ لیکن جب احادیث میں حضرت عیسیٰ
کے نزول، دمشق کے مشرقی حصے میں واقع سفید مینار، دو زرد رنگ کے لباس، دو فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھ کر اترنے، دجال کے قتل، مقامِ لُدّ، اور "ابنِ مریم" جیسے واضح اور تفصیلی اوصاف کا ذکر آتا ہے تو وہ ان سب سے مجازی اور تمثیلی معانی مراد لیتے ہیں۔ حالانکہ یہ طرزِ استدلال علمی اور اصولی طور درست نہیں ہے۔بلکہ منصفانہ اور اصولی منہج یہ ہے کہ یا تو:
- قرآن و حدیث دونوں کو ان کے ظاہری معنی پر محمول کیا جائے، الا یہ کہ کسی قطعی دلیل کی بنا پر تاویل کی ضرورت پیش آئے۔
- یا پھر دونوں میں یکساں طور پر وہاں مجازی معنی اختیار کیے جائیں جہاں سیاق و سباق یا کوئی مضبوط دلیل اس کا تقاضا کرے۔جبکہ قادیانی مؤقف میں اکثر یہ صورت سامنے آتی ہے کہ جہاں ظاہری معنی ان کے عقیدے کی تائید کرتا ہے وہاں وہ لفظی اور ظاہری معنی مراد لیتے ہیں، اور جہاں وہی ظاہری معنی ان کے نظریے کے خلاف ہوتا ہے تو فوراً مجازی اور تمثیلی مراد لیتے ہیں۔
اس کے برعکس اہلِ اسلام کا مؤقف زیادہ ہم آہنگ اور اصولی ہے۔ سورۂ نساء کی آیات( 157-158 ) کا ظاہری مفہوم یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ
کو کفار کے ہاتھوں سے محفوظ رکھا اور انہیں اپنی طرف اٹھا لیا۔ اسی طرح نزولِ مسیح سے متعلق صحیح احادیث کا ظاہر بھی حضرت عیسیٰ
کے حقیقی نزول ہی پر دلالت کرتا ہے۔ جہاں تک ان عمومی آیات کا تعلق ہے جو ہر نفس کے موت کا ذائقہ چکھنے پر دلالت کرتی ہیں، اہلِ اسلام انہیں بھی برحق مانتے ہیں، البتہ حضرت عیسیٰ
کے حق میں ان کا اطلاق ان کے آئندہ نزول اور اس کے بعد ہونے والی وفات پر کرتے ہیں۔
18۔ کوئی صریح اورقطعی آیت (اعتراض )
مناظرے کے دوران قادیانی فریق کے ایک سائل نے یہ اعتراض کیا کہ: "کیا قرآن یا حدیث میں کوئی ایک ایسی صریح آیت یا روایت موجود ہے جس میں انہی الفاظ کے ساتھ یہ کہا گیا ہو کہ حضرت عیسیٰ
آج اپنے جسمِ دنیوی کے ساتھ آسمانوں میں زندہ ہیں؟
بظاہر یہ سوال نہایت مشکل معلوم ہوتا ہے، لیکن علمی اور اصولی اعتبار سے اس کی کوئی وقعت نہیں ہے۔ کیونکہ اسلامی عقائد کا اثبات ہمیشہ کسی ایک آیت یا ایک حدیث میں بعد کے متکلمین کی اختیار کردہ اصطلاحات کے ساتھ نہیں ہوتا، بلکہ متعدد نصوص کو یکجا کرکے ان کا مجموعی مفہوم اخذ کیا جاتا ہے۔ بسا اوقات قرآن کسی مسئلے کا ایک پہلو بیان کرتا ہے، حدیث اس کی مزید وضاحت کرتا ہے، امت کا اجماع اس کی تائید کرتا ہے، اور عربی زبان کے قواعد اس مفہوم کو مزید مستحکم کرتے ہیں۔ اسی مجموعی استدلال کی بنیاد پر اسلامی عقائد تشکیل پاتے ہیں۔
مثال کے طور پر نماز کی مکمل کیفیت، زکوٰۃ کی تفصیلات، حج کے بہت سے احکام، قیامت کی متعدد علامات اور عقائد کے کئی دیگر مسائل ایک ہی آیت میں اپنی تمام تفصیلات اور بعد کی علمی اصطلاحات کے ساتھ مذکور نہیں ہیں، بلکہ ان کا اثبات قرآن و سنت کی تمام متعلقہ نصوص کو جمع کرکے ہوتا ہے۔
حضرت عیسیٰ
کے بارے میں بھی مجموعی شرعی دلائل ایک واضح اور فیصلہ کن تصویر پیش کرتے ہیں:
- یہود نہ آپ
کو قتل کر سکے۔ - نہ وہ انہیں صلیب پر چڑھا سکے۔
- بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا۔
- اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی حفاظت میں لے کر رفعت عطا فرمائی۔
- وہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہیں۔
- اہلِ کتاب ان کی وفات سے پہلے ان پر ایمان لے آئیں گے۔
- رسول اللہ
نے واضح طور پر خبر دی کہ ابنِ مریم دوبارہ نازل ہوں گے۔ - صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ان کے مستقبل میں نزول کی متعدد صحیح روایات موجود ہیں۔
- صحیح مسلم میں ان کے نزول کی جسمانی کیفیت اور جغرافیائی مقام کی نہایت واضح تفصیل بیان کی گئی ہے۔
- وہ دجال کو قتل کریں گے۔
- عدل و انصاف کے ساتھ حکومت کریں گے۔
- اور اس کے بعد ان کی وفات ہوگی۔
ان تمام قرآنی آیات اور صحیح احادیث کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو ان سے حاصل ہونے والا مجموعی استدلال نہایت واضح، مضبوط اور فیصلہ کن ہے۔ لہٰذا یہ مطالبہ کرنا کہ پورا عقیدہ لازماً ایک ہی آیت یا ایک ہی حدیث میں بعینہٖ بعد کی کلامی اصطلاحات کے ساتھ مذکور ہو، نہ علمی منہج کے مطابق ہے اور نہ ہی استدلال کا صحیح اصول ہے۔
19۔ شیخ اسرار رشید کا بنیادی مؤقف کیوں درست تھا؟
شیخ اسرار رشید کا بنیادی مؤقف متعدد علمی اور اصولی وجوہ کی بنا پر مضبوط اور قابلِ ترجیح ہے:
1۔ انہوں نے بحث کو قرآنِ مجید کی مجموعی تعلیمات کے دائرے میں رکھا۔
انہوں نے لفظ"توفیٰ" کو اس کے سیاق و سباق سے الگ کرکے نہیں دیکھا، بلکہ سورۂ آلِ عمران (3: 55)، سورۂ نساء(4: 157، 158، 159) ، سورۂ مائدہ (5: 110، 117) اور سورۂ زخرف (43: 61) کی متعلقہ آیات کو باہم ملا کر ایک جامع قرآنی تصور پیش کیا۔ یہی قرآنِ مجید کو سمجھنے کا درست اور اصولی منہج ہے۔
2۔ انہوں نے لفظ "بَلْ" کی استدلالی قوت کو نمایاں کیا۔
قرآن کا ارشاد "بَلْ رَّفَعَهُ اللّهُ إِلَيْهِ" کوئی مبہم یا کمزور تعبیر نہیں، بلکہ یہ کفار کے باطل دعوے کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک صریح اور قطعی تردید ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ
کے بارے میں یہود کا دعویٰ حقیقت کے خلاف تھا اور اللہ تعالیٰ نے خود اس کی تصحیح فرمائی۔
3۔ انہوں نے نزولِ مسیح سے متعلق احادیث کو ان کے ظاہر اور صریح مفہوم پر سمجھا۔
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت عیسیٰ
کے نزول سے متعلق روایات محض اشارات یا مبہم تعبیرات نہیں ہیں، بلکہ ان میں واضح طور پر "ابنِ مریم" کا نام لیا گیا ہے اور ان کے نزول کی کیفیت بھی تفصیل سے بیان کی گئی ہے۔ اس لیے ان احادیث کو مجازی معنی پر محمول کرنا بظاہر نصوص کے خلاف ہے۔
4۔ انہوں نے دمشق کو قادیان قرار دینے کی تاویل کی کمزوری واضح کی۔
صحیح روایات میں صاف الفاظ کے ساتھ ذکر ہے کہ حضرت عیسیٰ
دمشق کے مشرقی جانب واقع سفید مینار کے قریب نازل ہوں گے۔ اس کے برخلاف قادیانی مؤقف اس جغرافیائی حقیقت کو محض علامتی معنی دے کر اسے قادیان سے جوڑنے کی کوشش کرتا ہے، جو نہ نصوص کے ظاہر سے ہم آہنگ ہے اور نہ ہی علمی طور پر قوی معلوم ہوتی ہے۔
5۔ انہوں نے امت کے فہمِ متوارث کی حفاظت کی۔
حضرت عیسیٰ
کے جسمانی طور پر آسمان پر اٹھائے جانے اور قربِ قیامت ان کے دوبارہ نزول کا عقیدہ صدیوں سے امتِ مسلمہ کا متوارث اور جمہوری عقیدہ رہا ہے۔ چونکہ قادیانی استدلال اس معیار پر پورا نہیں اترتا، اس لیے شیخ اسرار رشید کا یہ مؤقف کہ قرآن، صحیح احادیث اور امت کے متفقہ فہم کو مجموعی طور پر اختیار کیا جائے، علمی اور اصولی اعتبار سے زیادہ مضبوط اور راجح ہے۔
20۔قادیانی مؤقف اوراستدلال کی بنیادی کمزوریاں
قادیانی مؤقف کا جائزہ لیا جائے تو اس میں متعدد اصولی اور استدلالی کمزوریاں نمایاں دکھائی دیتی ہیں، جن میں اہم ترین درج ذیل ہیں:
اوّل: لفظ "توفیٰ" پر غیر معمولی انحصار
ان کے پورے استدلال کی بنیاد تقریباً ایک ہی لفظ"توفیٰ" پر قائم ہے، جبکہ اس سے متعلق تمام قرآنی آیات کے مجموعی سیاق، باہمی ربط اور مکمل قرآنی تصور کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
دوم: متعدد معانی رکھنے والے لفظ کو ایک ہی معنی تک محدود کر دینا
قادیانی خود تسلیم کرتے ہیں کہ "توفیٰ" کے متعدد معانی ہیں، جن میں نیند اور وفات دونوں شامل ہیں، لیکن اس کے باوجود سورۂ آلِ عمران (3: 55) میں سیاق و سباق کی روشنی میں اس کے معنی متعین کرنے کے بجائے اسے صرف ایک ہی مفہوم، یعنی وفات، تک محدود کر دیتے ہیں۔
سوم: "رَافِعُكَ إِلَيَّ"کے واضح مفہوم کو نظر انداز کرنا
قرآن کا ارشاد لفظ " رَافِعُكَ إِلَيَّ" (میں تمہیں اپنی طرف اٹھانے والا ہوں) آیت کا بنیادی اور فیصلہ کن حصہ ہے، لیکن قادیانی اس تعبیر کو اس انداز سے لیتےہیں جیسے اس سے کوئی مستقل اور اہم مفہوم ثابت ہی نہ ہوتا ہو۔
چہارم: سورۂ نساء (4: 157- 158) کی کمزور تعبیر
ان آیات میں قرآنِ مجید یہود کے قتل اور صلیب کے دعوے کی تاریخی اور حقیقی تردید کرتا ہے۔ اگر صرف یہ کہا جائے کہ حضرت عیسیٰ
وفات کے بعد روحانی طور پر بلند مرتبہ پا گئے، تو اس سے قرآن کی اس صریح تردید کا پورا مفہوم ادا نہیں ہوتا، کیونکہ کفار کا دعویٰ جسمانی قتل سے متعلق تھا۔
پنجم: نزولِ مسیح سے متعلق احادیث کی بعید از ظاہر تاویل
صحیح احادیث صاف الفاظ میں بیان کرتی ہیں کہ "ابنِ مریم" نازل ہوں گے، مگر قادیانی حضرات اس سے مراد کسی دوسرے شخص کو قرار دیتے ہیں۔ یہ نصوص کے ظاہر سے ہٹ کر ایک تکلف آمیز تاویل ہے۔
ششم: دمشق کا مسئلہ
صحیح مسلم میں واضح طور پر مذکور ہے کہ حضرت عیسیٰ
دمشق کے مشرق میں واقع سفید مینار کے قریب نازل ہوں گے، جبکہ قادیان نہ دمشق ہے اور نہ اس کے مشرق میں واقع سفید مینار سے اس کا کوئی تعلق ثابت کیا جا سکتا ہے۔
ہفتم: نظریۂ کشمیر کے حق میں بنیادی مصادر سے کوئی دلیل موجود نہیں
حضرت عیسیٰ
کے کشمیر جانے اور روزہ بل میں مدفون ہونے کا نظریہ نہ قرآنِ مجید سے ثابت ہے، نہ صحیح بخاری سے اور نہ صحیح مسلم سے، حالانکہ یہی فریق اپنے مخالفین سے انہی مصادر سے صریح دلائل کا مطالبہ کرتا ہے۔
ہشتم: انتخابی اصولِ استدلال
لفظ "توفیٰ" کے معاملے میں لفظی اور ظاہری معنی پر اصرار کیا جاتا ہے، لیکن حضرت عیسیٰ
کے نزول، دمشق، دجال اور "ابنِ مریم" جیسے واضح الفاظ کے بارے میں مجازی اور علامتی تاویلات اختیار کر لی جاتی ہیں۔ یہ طریقۂ استدلال اصولی یکسانیت سے خالی ہے۔
نہم: زمین پر موجود نہ ہونے کو وفات کے مترادف سمجھ لینا
سورۂ مائدہ (5: 117) سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ
اپنی قوم کے درمیان موجود نہ رہے، لیکن اس سے لازماً یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ اس وقت ان کی دائمی دنیاوی وفات واقع ہو چکی تھی۔
دہم: عام آیات سے خاص نصوص کو رد کرنے کی کوشش
انبیائے کرام
کے گزر جانے یا ہر جان کے موت کا ذائقہ چکھنے سے متعلق عمومی آیات کو حضرت عیسیٰ
سے متعلق ان مخصوص اور صریح آیات و احادیث کے مقابلے میں پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ اصول کے مطابق عام حکم، خاص اور واضح نصوص کو منسوخ نہیں کر سکتا۔ اس لیے حضرت عیسیٰ
کے بارے میں وہی مفہوم معتبر ہوگا جو قرآن و سنت کی مخصوص نصوص سے ثابت ہے۔
21۔ حتمی و اعتقادی خلاصہ
قرآنِ مجید حضرت عیسیٰ
کو ایسے نبی کے طور پر پیش نہیں کرتا جو اپنے دشمنوں کے ہاتھوں مغلوب ہوئے، طبی علاج کے ذریعے جان بچا کر مشرق کی طرف ہجرت کرتے رہے، مختلف علاقوں میں سرگرداں رہے، اور بالآخر کشمیر میں وفات پا گئے۔ بلکہ قرآن انہیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں میں سے ایک قرار دیتا ہے؛ ایک ایسے برگزیدہ رسول جن کی ولادت معجزانہ طور پرہوئی، جنہیں بے شمار معجزات عطا کیے گئے، جنہیں اللہ تعالیٰ نے کفار کی سازشوں سے محفوظ رکھا، اپنی طرف اٹھا لیا، اور جن کا دوبارہ نزول قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک ہوگا۔
اس قرآنی تصویر کو رسول اللہ
کی صحیح احادیث مزید واضح اور مکمل کرتی ہیں۔ ان میں صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ ابنِ مریم دوبارہ نازل ہوں گے، عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کریں گے، صلیب کو توڑیں گے، خنزیر کو ختم کریں گے، جزیہ موقوف کر دیں گے، دجال کو قتل کریں گے، اور زمین پر عدل و انصاف کا نظام قائم کریں گے۔
اس بنا پر حضرت عیسیٰ
کے جسمانی رفع اور آئندہ نزول کا عقیدہ نہ کسی بعد کے دور میں وجود میں آنے والا افسانہ ہے اور نہ عیسائی عقائد سے متاثر کوئی جذباتی تصور؛ بلکہ اس کی بنیاد قرآنِ مجید میں ہے، سنتِ نبوی
نے اس کی وضاحت کی ہے، اور امتِ مسلمہ کے فہم متوارث نے ہر دور میں اسے محفوظ رکھا ہے۔
اس کے برعکس قادیانی مؤقف، اگرچہ بظاہر خطیبانہ قوت رکھتا ہے، لیکن حقیقت میں نہایت محدود زاویۂ نظر کا حامل ہے۔ وہ پوری بحث کو لفظ "توفیٰ" کے لغوی مفہوم تک محدود کر دیتا ہے، پھر اسی محدود بنیاد پر قرآن کی واضح آیات اور رسول اللہ
کی صریح احادیث کی ایسی تاویل کرتا ہے جو ان کے ظاہر سے ہم آہنگ نہیں رہتی۔ اس مؤقف کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں وارد حضرت عیسیٰ
کے نزول سے متعلق نہایت واضح اور تفصیلی احادیث کو ان کے حقیقی مفہوم پر برقرار رکھنا اس کے لیے ممکن نہیں رہتا، لہٰذا اسے ان تمام واضح نبوی اوصاف کو علامتی اور مجازی معانی کا جامہ پہنانا پڑتا ہے۔
لہٰذا مجموعی دلائل کی روشنی میں یہ نتیجہ واضح ہوتا ہے کہ شیخ اسرار رشید کا یہ مؤقف درست ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم
کو اللہ تعالیٰ نے جسم اور روح سمیت اپنی طرف اٹھایا، وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے آسمانوں میں زندہ ہیں، اور قیامت سے قبل دوبارہ دنیا میں نازل ہوں گے۔ اس کے برعکس حضرت عیسیٰ
کی جسمانی حیاتِ سماوی اور مستقبل میں ان کے حقیقی نزول کا انکار قرآنِ مجید اور صحیح احادیث کے مجموعی دلائل سے ثابت نہیں ہوتا۔
اختتامیہ
حضرت عیسیٰ
کے بارے میں صحیح عقیدہ اس طرح متعین نہیں ہوتا کہ کسی ایک لفظ کو اس کے سیاق و سباق سے الگ کر کے بنیاد بنا لیا جائے، یا بعد میں گھڑے گئے نظریات کو زبردستی قرآن و سنت پر منطبق کرنے کی کوشش کی جائے، جیسا کہ قادیانی مؤقف میں نظر آتا ہے۔استدلال کاصحیح علمی اور اصولی منہج یہ ہے کہ تمام متعلقہ نصوص کو یکجا کیا جائے، عام آیات کو خاص نصوص کی روشنی میں سمجھا جائے، عربی الفاظ کے معانی ان کے سیاق کے مطابق متعین کیے جائیں، اور قرآنِ مجید کی تفسیر کو رسول اللہ
کی صحیح احادیث کے ذریعے واضح کیا جائے۔ جب یہ اصول اختیار کیا جائے تو اہلِ سنت کا متوارث عقیدہ واضح طور پر سامنے آتا ہے کہ :
- حضرت عیسیٰ
قتل نہیں کیے گئے۔ - انہیں صلیب پر نہیں چڑھایا گیا۔
- بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا۔
- وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سےآسمانوں میں زندہ ہیں۔
- قیامت سے پہلے دوبارہ دنیا میں نازل ہوں گے۔
- وہ رسول اللہ
کی شریعت کے مطابق اپنی مقررہ ذمہ داریاں انجام دیں گے۔ - اس کے بعد ان کی طبعی وفات ہوگی۔
یہی وہ عقیدہ ہے جسے امتِ مسلمہ نے ہر دور میں اختیار کیا ہے، اور جو قرآنِ مجید، سنتِ نبوی
، عربی زبان کے اصولوں اور امت کے فہمِ متوارث سے سب سے زیادہ ہم آہنگ اور مطابق مؤقف قرار پاتا ہے۔
- 1 القرآن، سورة النساء 4: 157- 158
- 2 القرآن، سورة آل عمران 3: 55
- 3 القرآن، سورة الزمر 39: 42
- 4 القرآن، سورة آل عمران 3: 55
- 5 القرآن، سورة المائدة 5: 117
- 6 أبو عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، صحيح البخاري، حديث: 4625، مطبوعة: دار السلام، الرياض، السعودية، 1999م، ص: 791
- 7 القرآن، سورة المائدة 5: 117
- 8 القرآن، سورة النساء 4: 159
- 9 القرآن، سورة الزخرف 43: 61
- 10 أبو عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، صحيح البخاري، حديث: 3448، مطبوعة: دار السلام، الرياض، السعودية، 1999م، ص: 581
- 11 ایضاً، حديث: 3449
- 12 أبو الحسين مسلم بن الحجاج النيشابوري، صحيح مسلم، حديث: 7373، مطبوعة: دار السلام، الرياض، السعودية، 2000م، ص: 1271
- 13 القرآن، سورة آل عمران 3: 144
- 14 القرآن، سورة آل عمران 3: 185
- 15 القرآن، سورة مريم 19: 33
- 16 القرآن، سورة آل عمران 3: 55
- 17 القرآن، سورة المائدة 5: 110
