"ختمِ نبوت" ایک ایسی اصطلاح ہے جو دو مستقل الفاظ، "ختم" اور "نبوت" سے مل کر بنتی ہے۔ کسی بھی مرکب اصطلاح کے حقیقی مفہوم اور اس کے دقیق معانی تک رسائی حاصل کرنے کے لیے یہ ضروری ہوتا ہے کہ پہلے اس کے اجزائے ترکیبی کا الگ الگ مطالعہ کیا جائے، کیونکہ جب تک بنیادی الفاظ کے مفاہیم پوری طرح واضح نہ ہوں، اس وقت تک مرکب اصطلاح کی حقیقت بھی پوری طرح منکشف نہیں ہو سکتی۔ اسی اصول کے پیشِ نظر "ختمِ نبوت" کے لغوی اور اصطلاحی معنی بیان کرنے سے قبل اس اصطلاح کے دونوں اجزاء، یعنی "ختم" اور "نبوت" کے لغوی و اصطلاحی معانی کی وضاحت کی جائے گی ۔
ختم کا معنی
لفظ "ختم" عربی زبان میں متعدد معانی کے لیے استعمال ہوتا ہے، جن میں سے چند اہم معنی درج ذیل ہیں:
ائمہ لغت کے نزدیک ختم کا ایک معنی ہے طبع (مہر لگانا) ہے۔1خلیل احمد فراہیدی نے بھی اس معنی کو ذکر کیا ہے۔2امام ابن سیدہ نے لکھا ہے کہ خَتَمَهُ، طَبَعَهُ کے معنی میں آتا ہے یعنی "اس نے کسی چیز پر مہر لگادی"۔3اسی معنی کو ابن منظور نے لسان العرب، 4اور فیروز آبادی نے القاموس المحیط میں بھی بیان کیا ہے۔ 5مزید برآں زبیدی نے تاج العروس میں صراحت کی ہے کہ عربی زبان میں "ختم" اور "طبع" دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے یعنی" مہر لگانا"۔6اسی سے ختم علی القلب (دل پر مہر لگا دینا)بھی ماخوذ ہے۔ یعنی وہ انسان نہ کسی بات کو سمجھ سکے اور نہ اس کے دل سے کوئی فہم و ادراک ظاہر ہو سکے، گویا اس کے دل پر ایسی مہر ثبت کر دی گئی ہو جس نے اس کے ادراک اور قبولِ حق کے راستوں کو بند کر دیا ہو۔7
2. ختم کا دوسرا معنی ہے تغطیۃ یعنی ڈھانپ دینا۔8اس کا مطلب ہےکہ کسی چیز کو اس طرح ڈھانپ دینا اور مضبوطی کے ساتھ محفوظ کر دینا کہ نہ اس میں کوئی چیز داخل ہو سکے اور نہ اس سے کوئی چیز خارج ہو سکے۔9اسی معنی کو امام ہروی نے الغریبین فی القرآن والحدیث ، 10 ازہری نےتہذیب اللغۃ، 11 ابن منظور نے لسان العرب، 12 اور زبیدی نے تاج العروس میں بھی ذکر کیا ہے۔ 13 اسی معنی کی وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد حسن جبل لکھتے ہیں:
ومعنى الختم التغطية على الشيء والاستيثاق منه حتى لا يدخله شيء، حتى لا يوصل إلى ما فيه ولا يوضع فيه غير ما فيه. فالختم هنا كالطبع والتغليف. ثم إن هذا يلزم منه عدم خروج شيء أيضا.14
ختم کا مفہوم یہ ہے کہ کسی چیز کو اس طرح ڈھانپ کر مضبوطی سے بند کر دیا جائے کہ اس میں کوئی چیز داخل نہ ہو سکے، نہ اس کے اندر موجود چیز تک کسی کی رسائی ہو اور نہ اس میں پہلے سے موجود چیز کے علاوہ کوئی اور چیز رکھی جا سکے۔ اس اعتبار سے یہاں "ختم" کا مفہوم مہر لگانے، بند کر دینے اور محفوظ کر دینے کے ہم معنی ہے۔ پھر جب کسی چیز کو اس طرح مکمل طور پر بند کر دیا جائے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ جس طرح کوئی چیز اس میں داخل نہیں ہو سکتی، اسی طرح اس کے اندر سے بھی کوئی چیز باہر نہیں نکل سکتی۔
3. ختم کا تیسرا معنی ہے بلوغ آخر الشيء یعنی کسی چیز کے اختتام کو پہنچنا۔ 15 اسی معنی کو ابن سیدہ نے المحکم والمحیط الاعظم ، 16 ابن منظور نےلسان العرب ، 17 فیروزآبادی نے القاموس المحیط، 18 اور زبیدی نے تاج العروس میں بھی ذکر کیا ہے۔19 اسی معنی کی وضاحت مثال سے کرتے ہوئے علامہ حمیری لکھتے ہیں:
ويقال: ختم القرآن: إذا بلغ آخره. وختم اللّٰه تعالى له بخير: أي جعل آخر عمله خيرا. 20
اوریہ جو خَتَمَ القُرْآنَ جملہ ہے یہ اس وقت کہا جاتا ہے کہ جب کوئی قرآنِ کریم کی تلاوت مکمل کر کے اس کی انتہا تک پہنچ جائے۔اسی طرح یہ (دعائیہ جملہ) خَتَمَ اللهُ تعالى له بخير کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے اعمال کا خاتمہ خیر و بھلائی پر فرمائے۔
خلاصہ یہ کہ ائمہ لغت کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ لفظِ "ختم" عربی زبان میں مہر لگانے، بند کر دینے، ڈھانپ کر محفوظ کر دینے اور کسی چیز کو اس کے آخری مرحلے تک پہنچانے کے معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ ان تمام معانی میں ایک قدرِ مشترک پائی جاتی ہے، یعنی کسی شے کا اس طرح مکمل ہو جانا کہ اس کے بعد نہ اس میں اضافہ باقی رہے، نہ اس سے باہر کسی نئے تسلسل کی گنجائش ہو۔ اسی بنا پر "ختم" کا مفہوم محض وقتی بندش یا جزوی تکمیل نہیں، بلکہ اتمام، انتہا، تحفظ اور عدمِ اضافہ کے جامع معنی کو ظاہر کرتا ہے۔
نبوت کا معنی
لفظِ نبوت دراصل عربی زبان کا لفظ ہے اور اہلِ لغت نے اس کے اصل اور اشتقاق کے بارے میں تین احتمالات ذکر کیے ہیں:
- پہلا احتمال یہ ہے کہ لفظ نبوت نَبْوَة، نَبْو اور نَبَاوَة سے مشتق ہے جس کے معنی بلندی، رفعت اور اونچائی کے ہیں۔چنانچہ نَبْوَة اس بلند مقام کو کہا جاتا ہے جو زمین کی سطح سے ابھرا ہوا ہو۔ اسی مادے سے لفظ نبی مشتق ہے، کیونکہ نبی اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سب سے بلند و برتر مقام کا حامل ہوتا ہے۔ نیز وہ اس لیے بھی نبی کہلاتا ہے کہ لوگ اس کی رہنمائی سے رفعت وہدایت کی منزل پاتے ہیں ۔21
- دوسرا احتمال یہ ہے کہ لفظِ نبوت کا اصل اور مشتق منہ مہموز یعنی "نَبَأ" (ن، ب، ہمزہ) ہے، جس کے معنی خبر کے ہیں22 اور اسی سے نبی ماخوذ ہے۔ پھر لفظ نبی میں بھی دو احتمالا ت ہیں: پہلا یہ کہ لفظ "نبی" فعیل کے وزن پر فاعل کے معنی میں ہے، کیونکہ نبی اللہ تعالیٰ کے احکام، اس کی شریعت اور اس پیغام کی خبر دیتا ہے۔دوسرا یہ کہ لفظ "نبی" مفعول کے معنی میں ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنی وحی اور غیب کے اسرار سے باخبر فرماتا ہے۔23
- بعض اہلِ لغت کے نزدیک لفظِ نبوت نبی (ن ب ی) سے ماخوذ ہے ، جس کا معنی راستہ ہے۔ اور نبی کی وجہ تسمیہ بھی یہی ہے کیونکہ انبیائے کرام ہی وہ مبارک راہیں ہیں جن کے ذریعے انسان اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی اطاعت اور اس کی رضا تک پہنچتا ہے۔24
نبوت کے معنی کی تطبیق
اگر نبوتِ شرعی کے مفہوم پر غور کیا جائے تو یہ امر واضح ہوتا ہے کہ اس میں یہ تمام لغوی معانی یکجا ہو جاتے ہیں۔ رفعت و بلندی اس لیے کہ نبوت اپنے حامل کے لیے عظمت، رفعت اور بلند مرتبے کا سبب ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے منصبِ نبوت کا عطا ہونا نہایت بڑا شرف اور اعزاز ہے۔ خبر کے معنی سے بھی اس کی مطابقت ہے، کیونکہ نبوت درحقیقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے احکام اور پیغامات کی خبر دینے کا نام ہے۔ نیز نبوت وہ روشن اور مبارک راستہ ہے جو انسان کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی معرفت، اطاعت اور قربت تک پہنچاتا ہے۔25
ختم کے معنی کی تطبیق
لفظِ "ختم" کے لغوی مفہوم کی تطبیق کرتے وقت یہ امر پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ یہاں اس کی اضافت "نبوت" کی طرف ہے، لہٰذا اس کے معنی بھی اسی نسبت کے مطابق متعین ہوں گے۔ اہلِ لغت نے "ختم" کو "طبع" کا مترادف قرار دیا ہے اور اس کے دو بنیادی معانی بیان کیے ہیں: پہلا کسی چیز پر مہر کی مانند نقش ثبت کرنا، اوردوسرا اس نقش کے ثبت ہونے سے پیدا ہونے والا اثر۔26 پہلے معنی کے اعتبار سے رسول اللہ
کی نبوت نے سابقہ انبیائے کرام
کے سلسلۂ نبوت پر ایسی مہر ثبت کر دی جس نے اس سلسلے کو مکمل اور مختوم کر دیا۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے آپ
کی نبوت اسی مہر کا وہ اثر ہے جو ختمِ نبوت کی صورت میں ظاہر ہوا۔ چنانچہ آپ
کی تشریف آوری کے ساتھ ہی سلسلۂ نبوت ہمیشہ کے لیے مختوم ہو گیا اور اب اس میں کسی نئے نبی کے شامل ہونے کا کوئی امکان باقی نہیں رہا۔
جہاں تک لفظ "ختم" کے دوسرے لغوی معنی، یعنی تغطیہ (ڈھانپ دینا) کا تعلق ہے، اس سے مراد کسی چیز کو اس طرح ڈھانپ کر محفوظ اور مستحکم کر دینا ہے کہ نہ کوئی چیز اس میں داخل ہو سکے اور نہ اس میں سے کوئی چیز خارج کی جا سکے۔ اس معنی کے اعتبار سے رسول اللہ
کی نبوت نے سلسلۂ نبوت کو اس طرح ہمیشہ کے لیے محفوظ اور مختوم کر دیا ہے کہ ایک طرف سابقہ انبیائے کرام
میں سے کسی نبی کو اس سلسلے سے خارج نہیں کیا جا سکتا، اور دوسری طرف اس کے باہر موجود کسی جھوٹے مدعیِ نبوت یا کذاب کو اس میں داخل ہونے کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔
نیزلفظِ "ختم" کے تیسرے لغوی معنی، یعنی کسی چیز کے اختتام اور انتہاء کو پہنچ جانے، کے اعتبار سے بھی رسول اللہ
کی نبوت کے ساتھ ہی سلسلۂ نبوت اپنی تکمیل اور آخری منزل کو پہنچ چکا ہے۔ اب یہ سلسلہ آگے نہیں بڑھے گا، کیونکہ آپ
کی ذاتِ اقدس پر نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ لہٰذا آپ
کے بعد نبوت کے کسی بھی نئے دعوے کی کوئی شرعی حیثیت نہیں، بلکہ ہر نئی نبوت خود ساختہ، باطل اور جھوٹا دعویٰ شمار ہوگی۔
ختم کی اصطلاحی تعریف
لفظِ "ختم" کی اصطلاحی تعریف اس کے لغوی مفہوم سے مختلف نہیں ہے۔ چونکہ لغت میں اس کے متعدد اور متنوع معانی میں پائے جاتے ہیں، اس لیے اہلِ علم نے اس کی کوئی ایسی جامع اصطلاحی تعریف بیان نہیں کی جس میں ا س کے تمام معانی سمٹ آئے۔اسی وجہ سے اس موضوع پر امام راغب اصفہانی کی بیان کردہ تعریف کو سب سے زیادہ جامع اور وقیع قرار دیا جاتا ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
الختم والطبع يقال على وجهين: مصدر ختمت وطبعت، وهو تأثير الشيء كنقش الخاتم والطابع. والثاني: الأثر الحاصل عن النقش، ويتجوز بذلك تارة في الاستيثاق من الشيء، والمنع منه اعتبارا بما يحصل من المنع بالختم على الكتب والأبواب.....وتارة في تحصيل أثر عن شيء اعتبارا بالنقش الحاصل، وتارة يعتبر منه بلوغ الآخر، ومنه قيل: ختمت القرآن، أي: انتهيت إلى آخره. 27
لفظِ "ختم" اور "طبع" دو معنوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ پہلا، بطورِ مصدر، یعنی کسی چیز پر مہر کی طرح نقش ثبت کرنا۔ دوسرا، اس نقش کے ثبت ہونے سے پیدا ہونے والا اثر۔ پھر مجازاً اس لفظ کا استعمال مختلف مواقع پر بھی ہوتا ہے۔ کبھی اس سے مراد کسی چیز کو مضبوطی سے محفوظ کر دینا اور اس میں تصرف یا مداخلت کو روک دینا ہوتا ہے، جیسا کہ خطوط اور دروازوں پر مہر لگانے سے مقصود ہوتا ہے۔ کبھی حاصل شدہ نقش پر قیاس کرتے ہوئے اس سے کسی چیز میں کوئی خاص اثر پیدا کرنا مراد لیا جاتا ہے، اور کبھی اس کا اطلاق کسی چیز کے آخری مرحلے تک پہنچ جانے اور اس کے اختتام پر بھی کیا جاتا ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے: "خَتَمْتُ الْقُرْآنَ" ، یعنی میں قرآن مجید کی تلاوت مکمل کر کے اس کے آخر تک پہنچ گیا۔
نبوت کی اصطلاحی تعریف
نبوت کی اصطلاحی تعریف اور اس کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی بحث اپنے مناسب مقام پر آئے گی، تاہم زیرِ بحث موضوع کی مناسبت سے یہاں امام حلیمی
کی بیان کردہ ایک جامع تعریف نقل کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے، جسے انہوں نے المنہاج فی شعب الإیمان میں ذکر کیا ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
.....خبر خاص وهو الذي يلزم اللّٰه عز وجل به أحدا من عباده فيميزه بإلقائه إليه عن غيره، ويوقفه به على شريعته بما فيها من أمر ونهي ووعظ وإرشاد ووعد ووعيد.....28
نبوت ایک خاص قسم کی خبر (وحی) ہے، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے کسی ایک کو مخصوص فرماتا ہے، پس وہ اس خبر کو اس بندے کے دل میں القا کرتے ہوئے اسے دوسروں سے ممتاز کرتا ہے، اور اسی کے ذریعے اسے اپنی شریعت سے آگاہ کرتا ہے، جس میں اوامر و نواہی، وعظ و ارشاد، اور وعد و وعید سب شامل ہوتے ہیں۔
مندرجہ بالا بحث سے واضح ہوتا ہے کہ "ختمِ نبوت" کا مفہوم محض ایک اعتقادی اصطلاح نہیں، بلکہ یہ عربی لغت، ائمۂ لغت کی تصریحات اور اہلِ علم کی اصطلاحی تعبیرات سے پوری طرح ثابت شدہ حقیقت ہے۔ لفظِ "ختم" کے تمام معتبر لغوی معانی، یعنی مہر لگانا، مضبوطی کے ساتھ بند اور محفوظ کر دینا، اور کسی چیز کو اس کے آخری مرحلے تک پہنچا دینا، سب کے سب رسول اللہ
کی نبوت پر کامل طور پر منطبق ہوتے ہیں۔ اسی طرح "نبوت" کے لغوی مفاہیم، خواہ وہ رفعت و بلندی کے اعتبار سے ہوں، خبر و وحی کے اعتبار سے یا اللہ تعالیٰ تک پہنچانے والے راستے کے اعتبار سے، سب اس منصبِ جلیل کی عظمت اور خصوصیت کو نمایاں کرتے ہیں۔ چنانچہ جب یہ دونوں الفاظ اضافت کے ساتھ "ختمِ نبوت" کی صورت اختیار کرتے ہیں تو ان کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ رسول اللہ
پر منصبِ نبوت اپنی تکمیل کو پہنچ گیا، سلسلۂ نبوت ہمیشہ کے لیے مختوم اور محفوظ ہو گیا، اور اب اس میں کسی نئے نبی کے داخل ہونے یا کسی سابق نبی کے خارج ہونے کا کوئی امکان باقی نہیں رہا۔ یہی وہ مفہوم ہے جس کی تائید لغت، اصطلاح اور شرعی نصوص یکساں طور پر کرتی ہیں۔
- 1 أبو إسحاق إبراهيم بن إسحاق الحربي، غريب الحديث، ج-2، مطبوعة: جامعة أم القرى، مكة المكرمة، السعودية، 1405ھ، ص: 557
- 2 أبو عبد الرحمن الخليل بن أحمد الفراهيدي، كتاب العين، ج-4، مطبوعة: دار ومكتبة الهلال، بيروت، لبنان، د۔ ت۔ ط، ص: 241
- 3 أبو الحسن علي بن إسماعيل ابن سيده المرسي، المحكم والمحيط الأعظم، ج-5، مطبوعة: دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان، 2000م، ص: 155
- 4 أبو الفضل محمد بن مكرم ابن منظور الإفريقي، لسان العرب، ج-12، مطبوعة: دار صادر، بيروت، لبنان، 1414ھ، ص: 163
- 5 أبو طاهر محمد بن يعقوب الفيروزآبادي، القاموس المحيط، مطبوعة: موسسة الرسالة، بيروت، لبنان، 2005م، ص: 1099
- 6 أبو الفيض محمد بن محمد مرتضى الزبيدي، تاج العروس من جواهر القاموس، ج-32، مطبوعة: المجلس الوطني، الكويت، 1965م-2001م، ص: 41
- 7 أبو الحسن علي بن إسماعيل ابن سيده المرسي، المحكم والمحيط الأعظم، ج-5، مطبوعة: دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان، 2000م، ص: 155
- 8 أبو منصور محمد بن أحمد الأزهري، تهذيب اللغة، ج-7، مطبوعة: دار إحياء التراث العربي، بيروت، لبنان، 2001م، ص: 138
- 9 أبو الحسن علي بن إسماعيل ابن سيده المرسي، المحكم والمحيط الأعظم، ج-5، مطبوعة: دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان، 2000م، ص: 155
- 10 أبو عبيد أحمد بن محمد الهروي، الغريبين في القرآن والحديث، ج-2، مطبوعة: مكتبة نزار مصطفى الباز، مكة المكرمة، السعودية، 1999م، ص: 532
- 11 أبو منصور محمد بن أحمد الأزهري، تهذيب اللغة، ج-7، مطبوعة: دار إحياء التراث العربي، بيروت، لبنان، 2001م، ص: 138
- 12 أبو الفضل محمد بن مكرم ابن منظور الإفريقي، لسان العرب، ج-8، مطبوعة: دار صادر، بيروت، لبنان، 1414ھ، ص: 232
- 13 أبو الفيض محمد بن محمد مرتضى الزبيدي، تاج العروس من جواهر القاموس، ج-21، مطبوعة: المجلس الوطني، الكويت، 1965م-2001م، ص: 438
- 14 الدكتور محمد حسن حسن جبل، المعجم الاشتقاقي المؤصل، ج-1، مطبوعة: مكتبة الآداب، القاهرة، مصر، 2010م، ص: 531
- 15 أبو الحسين أحمد بن فارس القزويني، معجم مقاييس اللغة، ج-2، مطبوعة: دار الفكر، بيروت، لبنان، 1979م، ص: 245
- 16 أبو الحسن علي بن إسماعيل ابن سيده المرسي، المحكم والمحيط الأعظم، ج-5، مطبوعة: دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان، 2000م، ص: 156
- 17 أبو الفضل محمد بن مكرم ابن منظور الإفريقي، لسان العرب، ج-12، مطبوعة: دار صادر، بيروت، لبنان، 1414ھ، ص: 164
- 18 أبو طاهر محمد بن يعقوب الفيروزآبادي، القاموس المحيط، مطبوعة: موسسة الرسالة، بيروت، لبنان، 2005م، ص: 1099
- 19 أبو الفيض محمد بن محمد مرتضى الزبيدي، تاج العروس من جواهر القاموس، ج-32، مطبوعة: المجلس الوطني، الكويت، 1965م-2001م، ص: 42
- 20 أبو سعيد نشوان بن سعيد الحميري، شمس العلوم ودواء كلام العرب من الكلوم، ج-3، مطبوعة: دار الفكر المعاصر، بيروت، لبنان، 1999م، ص: 1717
- 21 أبو الحسن علي بن إسماعيل ابن سيده المرسي، المحكم والمحيط الأعظم، ج-10، مطبوعة: دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان، 2000م، ص: 519
- 22 أبو بكر محمد بن القاسم ابن الأنباري، الزاهر في معاني كلمات الناس، ج-2، مطبوعة: مؤسسة الرسالة، بيروت، لبنان، 1992م، ص: 113
- 23 أبو الفضل عياض بن موسى اليحصبي، مشارق الأنوار على صحاح الآثار، ج-2، مطبوعة: المكتبة العتيقة، تونس، الجمهورية التونسية، 1978م، ص: 1
- 24 أبو المحاسن يوسف بن حسن ابن المبرد الدمشقي، الدر النقي في شرح ألفاظ الخرقي، ج-2، مطبوعة: دار المجتمع، جدة، السعودية، 1991م، ص: 15
- 25 الدكتور محمد بن خليفة التميمي، حقوق النبي ﷺ على أمته في ضوء الكتاب والسنة، ج-1، مطبوعة: أضواء السلف، الرياض، السعودية، 1997م، ص: 63
- 26 أبو القاسم الحسين بن محمد الراغب الأصفهاني، المفردات في غریب القرآن، مطبوعة: دار القلم، دمشق، سوریة، 1412ھ، ص: 274- 275
- 27 ایضاً
- 28 أبو عبد الله الحسين بن الحسن الحليمي، المنهاج في شعب الإيمان، ج-1، مطبوعة: دار الفكر، بيروت، لبنان، 1979م، ص: 239
